جرمنی میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی راہ ورسم

وسیم احمد
جرمنی یوروپ کا سب سے زیادہ آبادی والا ایک طاقتور ملک ہے۔یہاں کی اکثریت مسیحی کلچر میں یقین رکھتی ہے ۔ یہاں کے عوام خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں لیکن اسلامی کلچر کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔جرمنی میں مسلمانوں کی آبادی 2009 کے ایک عام سروے کے مطابق3.8 سے 4.3 ملین ہے یعنی ملک کی کل آبادی کی 5 فیصد ہے ۔ان میں سے 45 فیصد کے پاس نیشنلٹی  ہے اور 55 فیصد مہاجر کی حیثیت سے رہ رہے ہیں۔مسلمانوں کی زیادہ آبادی  ویسٹرن اسٹیٹ اور برلین میں آباد ہے۔جرمنی میں بسنے والے مسلمان مذہبی اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے علمبردار ہیں۔یہاں مسیحی اور مسلمان بڑے اطمینان اور اعتماد باہمی کے ساتھ رہتے  چلے آئے ہیں ۔ان میں مذہبی بھید بھائو کم بلکہ نہ کے برابر ہے، البتہ  نائن الیون کے بعد مسلمانوں میںکچھ  تشویش پیدا ہوئی تھی مگر جلد ہی  ان کی یہ تشویش بھی دور ہوگئی اور اسلامی تہذیب کے ساتھ وہاں کے مسلمان مل جل کر معاشرتی زندگی گزاررہے  ہیں۔ جرمنی میں 147 باضابطہ مسجدیں ہیں جہاں پنجوقتہ نمازیں ادا کی جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ تقریباً2500 ایسی مسجدیں ہیں جو بڑی عمارتوں کے ہال یا مخصوص مقام میں قائم ہیں جہاں پر آس پاس کے لوگ باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔اس کے علاوہ  تقریباً 400 اسلامی ادارے ہیں جو مسلمانوں میں باہمی اتحاد بنائے رکھنے ، اسلامی شناخت کو باقی رکھنے اور تبلیغی خدمات انجام دینے میں مصروف ہیں۔ جرمنی کے مسلمان اس معنی میں خوش نصیب ہیں کہ ایسے وقت میں جب پورے یوروپ میں مسلمانوں کے خلاف عام ہوا چل رہی ہے۔پروپیگنڈہ اور سازشیں رچی جارہی ہیں،کبھی نبی کی شان میں گستاخی کی شکل میں تو کبھی قرآن کی بے حرمتی کرکے۔ایسے وقت میں جرمنی کے اندر نہ صرف عوام بلکہ حکومت کی طرف سے انہیں اپنی مذہبی شناخت اور اسلامی ثقافت کے ساتھ کھلے عام زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہونا یقینا خوش نصیبی  کی بات ہے ورنہ یوروپی یونین میںشامل فرانس میں جس طرح پردے پر پابندی لگا کر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس طرح کی کوئی پابندی یہاں نہیں ہے یہ اور بات ہے کہ یہاں بھی ایک جماعت ایسی موجود ہے جو مسلم مخالف پرپیگنڈے میں مصروف رہتی ہے اور اسلامی تہذیب کو نشانہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی ہے ۔یہ جماعت ایسے مسلمانوں کو مثالی بنا کر پیش کرتی ہے جو اسلامی شناخت سے آزاد ہوکر زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے مسلمانوں کی تعداد جرمنی میں تقریبا ً13.6 فیصد ہے ۔مگراکثریت اپنی  اسلامی شناخت کے ساتھ مسیحیوں کے ساتھ میںگھل مل کر رہتی ہے۔جرمنی میں مسلمان کھلی آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزارتے ہیںخاص طور پر جب سے جرمنی کے سابق صدر  کرسچن ولف نے اپنے ایک بیان میں یہ کہا تھا کہ ’’ اسلام جرمنی کا ایک حصہ ہے‘‘ تو اس کے بعد یہاں کے مسلمانوں میں حوصلہ مزید بڑھا ۔اگرچہ کرسچن وولف کے بعد جب جواشم گاک ) (Joachim Gauckجرمنی کے صدر بنے تو ان کے تئیں مسلمانوں میں بے چینیاں بڑھیں اور  یہ محسوس  کیا جانے لگا کہ جواشم گاک اپنے سابق صدروولف کی طرح کھلے ذہن کے لیڈر نہیں ہیں ۔ایسا سوچنے کی ایک بنیادی وجہ  یہ تھی کہ گاک نے صدر بننے سے کچھ پہلے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ اسلام میں قدامت پسندی کا عنصر پایاجاتا ہے ،اسلام مسیحی تہذیب سے بالکل الگ  چیز ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے‘‘ ۔ان کا یہ بیان  جرمنی کے اخبار ’’ Neue Zurcher Zeitung‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ان کے اس بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ وہ جرمنی کی جدید کلچر کے لئے اسلام کو معارض سمجھ رہے ہیں اور وہ اسلام مخالف سرگرمیوں کو ہوا دیںگے مگر جرمنی میں board of Trustee of supreme council of muslim کے چیئرمین ڈاکٹر ندیم الیاس نے اس خیال کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گاک کے اس بیان کو منفی لینے کے بجائے مثبت نقطہ نگاہ سے دیکھنا چاہئے۔ دراصل واگ جرمنی کے ایک ایسے صدر ہیں جن کا تعلق چرچوں سے رہا ہے ۔ وہ مسیحی تہذیب و تمدن کے دلدادہ رہے ہیں اور چرچ میں اعلیٰ عہدوں پر رہ چکے ہیں۔مسیحی تہذیب سے ان کی محبت کا ہی نتیجہ ہے کہ وہ اس سے بہتر کسی دوسری تہذیب کو تصور نہیں کرتے ہیں مگر اس کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ کسی ایسی طاقت کو شہہ دیں گے جو اسلام مخالف تحریک کا حصہ ہو۔کیونکہ وہ مسیحی مذہب کے اسکالر ہیں اور اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسیحیت اور اسلام ایک دوسرے کے بہت قریب ہے۔
آنے والے  ماہ و سال جرمنی کے مسلمانوں کے لئے آزمائش کے ہوسکتے  ہیں۔کیونکہ نئے صدر مسلمانوں کے تئیں کیا رخ اختیار کرتے ہیں؟مسلمانوں کی توقعات پر کھرا اترتے ہیں یا کھوٹا یہ تو آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا،مگر مارچ میں صدر منتخب ہونے کے بعد سے اب تک انہوں نے جرمنی کے مسلمانوں  کے لئے کوئی ایسا خوش کن بیان نہیں دیا ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ ان کا خیال اسلامی کلچر کے  احترام پر مبنی ہے۔جہاں تک بات ہے چرچوں سے منسلک رہنے کی، تو سابق صدر وولف بھی مسیحی کلچر کے دلداہ تھے اور چرچوں سے منسلک رہے ہیں اس کے باوجود انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے تئیں ہمیشہ ہی مثبت اور اطمینان بخش بیان دیا ہے جبکہ موجودہ صدر گاک کا کوئی ایسا بیان سامنے نہیں آیا ہے جس سے یہ سمجھا جاسکے کہ وہ بھی اسلام کے تئیں وہی  سوچ رکھتے ہیں جو سوچ وولف کی ہے،بلکہ انہوں نے اسلام کو قدامت پر مبنی کلچر کہہ کر مسلمانوں میں مایوسی پیدا کی ہے۔ہوسکتا ہے ان کا یہ بیان وقتی ہو اور عہدہ پر فائز ہونے کے بعد وہ وہی کریں جو  ملک کا ایک سربراہ کرتا ہے یعنی اپنے ملک کے تمام مذاہب کا احترام اور عوام کے جذبوں کا خیال رکھنا۔ کیونکہ سیاسی ووٹ بینک کے لئے سیاسی بیان دینا ایک وقتی عمل ہوتا ہے جس پر اقتدار کی زمام سنبھالنے کے بعد عمل کرنا بسا اوقات ناممکن ہوتا ہے۔وہ بھی ایک ایسے شخص سے جس نے ماضی میں مسلمانوں کے لئے کئی کام انجام دیے ہوںَ۔اگر سابق صدر وولف نے اسلام کو جرمنی کا ایک حصہ کہہ کر مسلمانوں کا اعتماد حاصل کیا ہے تو موجودہ صدر گاک نے State of lower saxony  (شمال مغربی جرمنی)میں وزیر اعظم کے عہدہ پر رہ کر پہلی مرتبہ کسی مسلم خاتون کو وزارت کا قلمدان تفویض کیا تھا۔انہوں نے  ترکی نژاد اوزکار (Ayguel Oezkan)کو سوشل منسٹری دی  ہے۔اس کے علاوہ مسلمانوں کو اس لئے بھی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ جرمنی کا قانون انہیں برابری کا حق دیتا ہے اور گاک ایکقانون پرست انسان کی شکل میں جانے جاتے ہیں ایسے میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ  آئین کو نظر انداز کرکے کوئی ایسا کام کریں جس سے مسلمانوں اور مسیحیوں میں دوریاں پیدا ہوں ۔وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ملک میں دو نوں مذہب کے لوگ بڑے پیار و محبت سے رہتے ہیں اور اس پیار و محبت میں رخنہ ڈال کر وہ اپنے ہی دورِ اقتدار کو بد امنی کی زد میں نہیں جھونکیں گے۔جرمنی میں سرکار کی طرف سے کبھی بھی کوئی ایسا قدم اٹھانے سے گریز کیا جاتا ہے جس سے کسی ایک مذہب کی دل آزاری ہو۔ اس کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ یہاں کچھ اسکولوں میں عیسائی مذہب کا سمبل لگایا جاتا ہے مگر اوزکان نے شمال مغربی جرمنی کے تمام سرکاری اسکولوں میں کرسچن کی مذہبی علامت کو لگانے سے منع کردیا ہے۔ ان کے اس اعلان کو نہ صرف عوام نے بلکہ حکومت کی تمام سیاسی پارٹیوں نے کھلے دل کے ساتھ قبول کیا۔مسلمانوں کی ملک میں وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کی ایک علامت یہ بھی  ہے کہ انہیں مذہبی معاملوں میں شریعت اسلامی کے طرز پر فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ گزشتہ دنوں ’ٹولوس‘ میں حقِ مہر کے معاملے میں جرمنی کی ایک عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے یہ کہا کہ  مسلمانوں کو اپنے مذہبی امور جیسے میراث ، پیدائش،نکاح، طلاق  وغیرہ میں   شرعی فیصلہ لینے کا حق حاصل ہے،بشرطیکہیہقانون جرمنی کے آئین  سے ٹکراتا نہ ہو۔حالانکہ عدالت کے اس فیصلے پر اسلام مخالف جماعت نے خوب وا ویلا مچایا اور یہ پروپیگنڈہ کیا کہ یہ فیصلہ اسلامی بنیاد پرستی کو بڑھاوا دینے والا ہے مگر جرمنی کے آئین نے پروپیگنڈہ کرنے والوں کی نہیں سنی اور مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو روا رکھا۔لہٰذا مسلمانوں کو گاک کی سرکار میں اس بات سے نہیں ڈرنا چاہئے کہ ان کی تہذیب کو مسیحی تہذیب میں ضم کرنے کی کوشش کی جائے گی یا اسلامی تہذیب کو دبانے کی کوشش کی جائے گی۔خوش کن بات یہ ہے کہ عرصہ سے جرمنی میں مسلمان اور مسیحی الگ الگ کلچر کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل کر رہتے آئے ہیں۔مسلمانوں کے لئے ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ موجودہ سیاست داں اسلام کے تئیں مثبت نظریہ رکھتے ہیں چنانچہ جرمنی کے وزیر خارجہ  گیڈو ویسٹرویل (Guido Westerwelle)نے  ایک اخبار ’’ فرانکفرٹر الگمین‘‘ (Frankfurter Allgemeine)کو دیے گئے اپنے بیان میں اسلام کے تئیں اپنی سوچ کا اظہار کیا ہے کہ ’’ اسلام جدت پسندی کا مخالف نہیں ہے۔حقیقی اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ہمیں اسلام کا مطالعہ گہرائی سے کرناچاہئے،کیونکہ دہشت گرد مذہب کا لباس اوڑھ کر اسلام میں داخل ہوتا ہے،جو لوگ مذہب کے نام پر دہشت گردی پھیلا رہے ہیں ان کے ساتھ بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے‘‘ انہوں نے کہا کہ اب بھی دنیا میں میانہ رو اسلام کا ہی بول بالا ہے ۔ شدت پسندوں کو کہیں بھی کامیابی حاصل نہیں ہے۔ مثال کے طور پر تیونس اور مراکش کو لیا جاتا سکتا ہے جہاں فتح  ان لوگوں کو ہوئی جومیانہ روہیں۔ بہر کیف جرمنی میں لیڈر اور عوام میں اسلام کے تئیں مثبت سوچ وہاں کے مسلمانوں کے لئے ایک اچھی علامت ہے اور امید ہے کہ موجودہ نئے صدر جواشم گاک بھی ان کے لئے بہترین حکمراں ثابت ہوں گے اور ان کا دور مسلمانوں کے لئے ایک یادگار دور ثابت ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *