عابد انور
افغانستان ہمیشہ بڑی طاقتوں کے لئے قبرستان اور ایک دلدل ثابت ہوا ہے ۔روس نے بھی بے وقوفی کی تھی جس کی قیمت اسے سپر پاور کی حیثیت گنواکرچکانی پڑی تھی۔ اسے طویل عرصہ تک جنگ لڑنے اور ہزاروں فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتروانے کے بعد آخرکار نامراد ہوکر راہ فراراختیارکرنے پرمجبورہوناپڑا تھا۔ یہی غلطی امریکہ نے کی ہے ۔ امریکہ کے سابق صدر جنگی جرائم مجرم جارج ڈبلیوبش نے امریکہ کے لئے وہ کانٹے بچھائے ہیں کہ اسے صاف کرنے کے لئے امریکہ کو اپنی تمام حیثیت گنوانی پڑے گی۔ امریکہ نہ صرف اپنی عالمی طاقت کو گنوائے گا بلکہ اسے ذلت سے بھی دوچار ہونا پڑے گا۔ اس کا آغاز ہوگیاہے بس نقطہ انجام کا انتظار ہے۔ وہ ایسی ایسی بے وقوفیاں کر رہاہے کہ  لگاتار اس کے دوستوں کی تعداد میں کمی آتی جارہی ہے اور جو ملک امریکہ کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا تھا وہ آج آنکھ میںآنکھیں ڈال بات کر رہاہے۔ امریکی عزائم پر نظر ڈالیں تو اس کے ظلم وستم کا محور مسلم ممالک ہی رہے ہیں۔ ہمیشہ اس نے مسلم مما لک کوتخت  وتاراج کرنے کی بات کی ہے۔ یہاں تک کہ سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے نعوذ بااللہ خانہ کعبہ پر حملہ کرنے کی بات تک کہہ ڈالی تھی۔ جس ملک کو تباہی سے بچنا ہوتاہے وہ اپنی غلطیوں کا ادراک کرتے ہوئے دوبارہ اسے کرنے سے گریز کرتاہے۔امریکہ جس ملک کو ڈکٹیٹرشپ سے بچانے اور جمہوریت بحال کرنے کیلئے پہنچا اسی ملک کو اپنا دشمن بنا بیٹھا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ہر ملک سے وہ راہ فرار اختیار کرنے کے فراق میں ہے۔ آج امریکہ کو قدرتی ابتلاوآزمائش سے دوچارہوناپڑرہا ہے وہیں دوست ممالک کی تعدادمسلسل کم ہورہی ہے۔ دور رس حکمت عملی اپنانے کیلئے منفرد شناخت رکھنے والے امریکہ کو آج ہر فیصلہ اس کیلئے الٹاپڑا ہے لیکن سب سے تباہ کن بات یہ ہے کہ وہ اس سے سبق لینے اوراپنے رویے میں کسی تبدیلی کی بجائے وہ ایسے سمت میں قدم اٹھارہا ہے جواسے مزید اور عجلت کے ساتھ تباہی کے دہانے پرپہنچائے گا۔ افغانسان میں وہ گزشتہ دس برسوں کے دوران کوئی ایسا کام نہیںکرسکا جو افعانستان کے عوام امریکہ کا دوست بن سکیں۔ امریکی فوجی اورناٹوافواج کی غیرانسانی حرکت کی وجہ سے امریکہ کے لئے افغانستان  سب سے غیرمحفوظ جگہ بن چکا ہے۔ امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا جب افغانستان  کے دورے پرپہنچے تو کوئی ٹرک لیکر آگیاتھا ۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ افغانی عوام میں امریکہ کے تئیں کس قدرنفرت ہے اورنفرت بھی کیوں نہ ہو امریکہ نے افغانستان میںایسا کوئی کام نہیںکیا جس کا راست فائدہ افغانسانی عوام کو پہنچے البتہ انہوںنے وقفہ وقفہ سے وہاںکے عوام کا قتل عام ضرورکیاہے۔ اب تک لاکھوں افغانستانی عوام امریکی جنگی جنون کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔امریکی فوجی نے نہ صرف بے دریغ یہاںکے عوام کا قتل کیا بلکہ ان کے مذہبی جذبات مشتعل کرنے کے لئے کبھی قرآن کی بے حرمتی کی ، کبھی قرآن پاک کا نسخہ جلایاتو کبھی ان کے مذہب پراشتعال انگیزتبصرہ کیا۔یہ  چیزیں مسلمانوں کے لئے جان سے بڑھ کر ہیں اور مسلمانوں ان چیزوں کے تحفظ کے لئے اپنی جان گنوانا باعث فخر تصور کرتا ہے۔
گزشتہ ماہ فروری میں بگرام ایربیس ناٹوافواج نے درجنوں قرآن کریم کے نسخے جلادئے۔قرآن کریم کو جلانے سے قبل ناٹوافواج نے اسے اشتعال انگیزلٹریچر قراردیاتھا۔ ان کے مطابق امریکی حکام کو لگا کہ طالبان قیدی ایک دوسرے کو پیغام بھیجنے کے لئے اس کا استعمال کر رہے ہیں۔ مقامی مزدوروں کو اس کے جلے ہوئے حصے ملے تھے۔ اس وقت افغانستان  میں ہی نہیں ، پوری دنیامیں ناٹو افواج کے خلاف زبردست غصہ کا اظہارکیاگیاتھا۔ یہ واقعہ عمداً انجام دیا گیا تھا اس کا مقصد مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنا تھا۔ پورا افغانستان سڑکوں پرنکل آیالیکن ناٹو افواج کو سزادینے کے لئے  امریکہ لیپاپوتی پراترآیا۔ اس احتجاج میں کم از کم 41افرادکو اپنی جان گنوانی پڑی اورسیکڑوں زخمی ہوئے۔ قرآن کی بے حرمتی کرنا امریکیوں کی فطرت میں شامل ہے ۔ اس سے پہلے ایک امریکی پادری اس گھنائونے جرم کوانجام دے چکا ہے۔ گزشتہ سال امریکہ میں بیس مارچ کو فلوریڈا میں ایک کٹر امریکی پادری نے قرآن کا ایک نسخہ جلایا تھا جس کے بعد ہوئے احتجاجی مظاہروں میں کم سے کم 24 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس میں اقوام متحدہ کے کارکن بھی شامل تھے۔اس پر امریکی صدر کی کارروائی صرف بیان ،مذمت اور افسوس ظاہر کرنے تک محدود رہی تھی۔ امریکی پادریوں ٹیری جونز اور وائن سیپ نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے دفتر پر ہونے والے حملے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ بیس مارچ کو پادری وائین سیپ نے قرآن کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے اس کو مٹی کے تیل میں بھگو کر آگ لگا دی تھی۔ قرآن کو آگ لگانے کا سارا عمل پادری ٹیری جونز کی نگرانی میں ہوا۔
تازہ واقعہ میں ۱۱ مارچ کو علی الصبح امریکی سارجنٹ نے صوبہ قندھار کے اپنے کیمپ سے نکل کر سوئے ہوئے افغانستانیوں کے گھر میں گھس کراندھادھند فائرنگ  کرکے خواتین اوربچوں سمیت 16افرادکو تہہ تیغ کردیا۔ ہلاک ہونے والوں میں نو بچے بھی شامل تھے اور یہ فائرنگ الکوزئی اور نجیبان نامی گاؤں کے تین گھروں پر کی گئی تھی۔بتایا جاتاہے کہ اس قاتل امریکی سارجنٹ کا تعلق امریکی ریاست واشنگٹن کی لیوس میکارڈ بیس سے ہے اور اس کے تین بچے ہیں۔اس فوجی کو افغانستان میں دسمبر میں تعینات کیا گیا تھا اور عراق میں تین بار تعیناتی کے بعد اس کی افغانستان میں پہلی بار تعیناتی تھی۔پینٹاگن کے اہلکاروں نے اس کی شناخت نہیںبتائی ہے اور کہاکہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں ، اس وقت تک وہ مشتبہ فوجی کا نام ظاہر نہیں کریں گے۔ اس واقعہ نے افغانستانی عوام کے اشتعال میںاضافہ کرتے ہوئے آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔ گزشتہ گیارہ سالہ ادوار پر نظر ڈالیں تواس میں صرف افغان عوام کی سسکیاںسنائی دیتی ہیں۔ باردوکی بدبو، جلی ہوئی لاشیں، بکھرے اعضاء  اورہرطرف انسانیت شرمشار ہوتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ یہ ان مہذب ملکوں کا کارنامہ ہے  جنہیں اپنی تہذیب و تمدن اورانسانیت پربہت نازہے ۔انسانی حقوق کی علمبرداری بدقسمتی سے ان کے ہی پاس ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے افغانستان میں موجود اسسٹنٹ مشن کی دستاویزات کے مطابق  2011 میں تین ہزار اکیس افغان شہری ہلاک ہوئے۔ 2010 میں دو ہزار سات سو نوے جبکہ 2009 میں ان ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار چار سو بارہ تھی۔ 2011کے دوران زیادہ تر شہری فضائی حملوں کے باعث ہلاک ہوئے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے نمائندہ خصوصی جان کیوبس کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بچوں، خواتین اور مردوں کی ہلاکت کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے تنازع کے فریقین کو رواں سال کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں میں کمی کے لیے اقدامات کرنے پڑے۔پروٹیکشن آف سویلین اینڈ آرمڈ کنفلیکٹ کی جانب سے 2011 میں جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ کے مطابق  20007سے لے کر اب تک گیارہ ہزار آٹھ سو چونسٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2011 میں حکومت مخالف عناصر پر دو ہزار تین سو بتیس افراد کو ہلاک کرنے کا الزام ہے جو کہ 2010کے مقابلے میں چودہ فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2011کے دوران حکومت کی حامی افواج کے حملوں سے چار سو دس شہری ہلاک ہوئے اور یہ تعداد 2010کے مقابلے میں چار فیصد زیادہ ہے۔ قوامِ متحدہ کی کمشنر برائے انسانی حقوق نوی پلے کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سویلین ہلاکتوں کا مسلسل بڑھنا باعثِ تشویش ہے۔
افغانستان میں جس طرح بڑے پیمانے پر انسانی جانوںکا زیاںہورہا ہے اس سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ مغربی اقوام کا  مقصدافغانستان میں قیام امن نہیں بلکہ انتشارہے ۔یہ طاقتیںافغان عوام کو منتشر اورتشددمیںمبتلارکھ کراپنے قبضہ کے دور کو طول دیناچاہتی ہیں۔ اس لئے وہ افغانستانی عوام کو تباہ کرنے کا کوئی موقع  ضائع نہیںکرتیں۔شادی،یامیت یا دیگرتقاریب اس پرفضائی حملہ کرنا عام با ت ہے اس کے بعدمعافی مانگ لیناان کی  فطرت میں شامل ہے۔ اسی طرح کے فضائی حملے میں متعددبچے ہلاک ہوئے تھے ۔
اس واقعہ نے تمام افغان شہریوںکو جھنجھوڑدیا ہے ا ور ان کے صبر کاپیمانہ لبریزہوچکا ہے ۔افغانستانی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد منظور کرکے امریکی حکام کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اب بہت ہوچکا ہے اوروہ مزید یہاں کے عوا م کا امتحان نہ لے۔ انہوںنے  ایک قرارداد کے ذریعے کہا ہے کہ اب افغانیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور اس امریکی فوجی پر افغانستان میں مقدمہ چلایا جائے۔ادھر طالبان نے اسے  امریکیوں کی ایک وحشیانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔اس وقت پورا افغانستان سڑکوں پر ہے اور عوام غیر ملکی افواج سے ملک چھوڑنے کامطالبہ کر رہے ہیں۔    g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here