p-8cدنیا کے کئی ملک دہشت گردی کا سامنا کررہے ہیں۔ خاص طور پر عرب ممالک اس بربریت کی بڑی قیمت چکا رہے ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہجرت کرکے دوسری جگہوں پر پناہ لے رہے ہیں۔ہزاروں کی تعداد میں بے گناہوں کا قتل ہوا ہے۔اربوں مالیت کی جائیدادیں تلف ہوئی ہیں۔عورتیں ،بچے اور بوڑھے سب ہی دہشت گردوں کے نشانے پر رہے ہیں۔دہشت گردی کے تعلق سے پوری دنیا میں تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے لیکن اجتماعی طور پر منظم طریقے سے کبھی بھی پائدار کوشش نہیں ہوئی۔ جس کا نتیجہ ہے کہ آج داعش، الشباب اور جبھۃ النصرہ جیسی تنظیمیں بے گناہوں کا قتل بے خوف ہوکر کرتی ہیں اور عالمی برادری ان کا بال بانکا نہیں کرپاتی ہے۔دراصل دہشت گردی کے خاتمے کو لے کر طاقتور ملکوں کے بیچ یکسانیت پیدا نہیں ہوپاتی ہے اور اس کا فائدہ دہشت گردوں کو ملتا ہے۔لیکن شاید اب امریکہ اور روس جیسی طاقتور ملکوں کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کئے بنا امن کی توقع عبث ہے اور شاید اسی احساس کی وجہ سے بڑی طاقتوں نے میونخ میں ایک اجلاس کیا ہے اور اس میں دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے طریقہ کار پر غور و فکر کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ شام کی صورتحال سے متعلق میونخ میں ہونے والے اجلاس میں شریک بڑی طاقتیں جنگ بندی پر متفق ہو گئی ہیں جس پر جلد ہی عمل شروع ہوجائے گا۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کیری نے کہا کہ اس کا اطلاق دہشت گرد گروپوں بشمول داعش، النصرہ فرنٹ پر نہیں ہو گا۔انھوں نے بتایا کہ 17 ملکی بین الاقوامی سریئن اسپورٹ گروپ نے اتفاق کیا ہے کہ امریکہ اور روس کی مشترکہ سربراہی میں ایک ٹاسک فورس “تشدد میں طویل المدت کمی کا لائحہ عمل” پر کام کرے گی۔البتہ انھوں نے متنبہ کیا ہے کہ گروپ کے اجلاس میں ہونے والی پیش رفت ابھی صرف کاغذوں پر ہے اور اصل امتحان اس وقت شروع ہو گا جب تمام فریقین اپنے عزم پر قائم رہیں گے۔اسپورٹ گروپ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کو’’وسیع اور تیز‘‘کرنے پر بھی اتفاق کیا جو اہم شورش زدہ علاقوں سے شروع ہو گی اور پھر اس کا دائرہ پورے ملک تک پھیلا دیا جائے گا۔اقوام متحدہ کی ایک ٹاسک فورس امداد کی فراہمی کا نگرانی کرے گی اور ہفتہ وار بنیادوں پر اس پر پیش رفت کی رپورٹ پیش کرے گی۔
اس موقع پر روس کے وزیر خارجہ لاوروف کا کہنا تھا کہ شام میں انسانی صورتحال ابتر ہو رہی ہے جسے روکنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔جان کیری نے کہا کہ “خونریزی اور تشدد” کا خاتمہ لازمی ہے لیکن بالآخر ایک امن منصوبے کی ضرورت ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ سیریئن اسپورٹ گروپ نے متفقہ طور پر جنیوا مذاکرات کی جلد از جلد بحالی کا مطالبہ کیا ہے اور گروپ نے “مذاکرات میں ہر ممکن سہولت کاری کے عزم کا اظہار کیا”۔
قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کے تعاون سے شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت اور حزب مخالف کے گروپوں کے مابین مذاکرات کا عمل شروع کرنے کی کوشش کی گئی تھی جو تاحال کسی ٹھوس پیش رفت کے بغیر تعطل کا شکار ہوتی آئی ہے۔یہ مذاکرات اب فروری کے آخری ہفتہ میں جنیوا میں ہونے جا رہے ہیں لیکن اس میں فریقین کی براہ راست ملاقات نہیں ہو گی۔شام کی حزب مخالف کے ایک سینیئر رکن نے گزشتہ روز کہا تھا کہ جنگ بندی کا اسی صورت خیر مقدم کیا جائے گا اگر اس میں “حالیہ روسی یلغار” بھی ختم ہو۔ لیکن ان کے بقول یہ یقین دہانی بھی ضروری ہے کہ دمشق کی حکومت کے حامی بشمول ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا اور لبنان کے حزب اللہ گروپ کے جنگجو بھی اس جنگ بندی کا احترام کریں۔
قابل ذکر ہے کہ شام میں روس داعش کے ٹھکانوں پر زبردست حملہ کرتا رہا ہے۔ دراصل روس شام میں بشار الاسد کی حکومت کی بقاء چاہتا ہے ۔اس عمل میں اس کے ساتھ ایران بھی شامل ہے ۔جبکہ دوسری طرف امریکہ داعش کا خاتمہ تو چاہتا ہے لیکن دمشق میں بشار الاسد کو ناپسند کرتا ہے۔ اس عمل میں اس کے ساتھ سعودی عرب اور اس کا اتحادی ملک شامل ہے۔ اس صورت حال نے خطے میں عجیب و غریب سیاسی صورت حال پیدا کردی ہے اور اسی وجہ سے وہاں داعش کو پنپنے کا موقع مل رہا ہے۔ اگر جینوا میں ہوئی بات چیت پر سچائی کے ساتھ عمل ہو اور بڑی طاقتیں مخلصانہ طور پر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے قدم بڑھائیں تو دنیا کو جلد ہی اس منحوس عمل یعنی دہشت گردی سے نجات مل سکتی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ جینوا اجلاس میں جو کچھ بھی فیصلہ ہوا ہے اس پر عمل کس حد تک اور کب تک ہوتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here