جنرل وی کے سنگھ کو سپریم کورٹ جانا چاہئے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
مرکزیحکومت جھوٹ بول رہی ہے۔ ہندوستان کے آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش 10 مئی، 1951 ہے، یہ بات حکومت ہند اور فوج کے ذریعے فراہم کیے گئے جواب میں ہے۔ جن اہل کاروں نے جواب دیا ہے، ان کے دستخط ہیں۔ اس کے باوجود حکومت ہند جھوٹ بول رہی ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش 10 مئی، 1950 ہے۔ حکومت یہ جھوٹ اس لیے بول رہی ہے کہ ہندوستان کے سب سے طاقتور شخص کے خاندان کا ہاتھ اس کے پیچھے ہے۔ ان کی دلچسپی ایک مخصوص آدمی میں ہے اور وہ آدمی اتفاق سے انہی کے فرقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمیں یہ لکھتے ہوئے ہچکچاہٹ ضرور ہو رہی ہے کہ کوئی آدمی کسی بھی فرقہ کا، اہل ہو سکتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ دوسرے آدمی کو، جو اس فرقہ کا نہیں ہے، جس کے کردار پر کوئی داغ نہیں ہے، جو بے داغ ہے، ایماندار ہے، اس کے ساتھ ناانصافی کریں۔ حکومت ہند یہ ناانصافی کر رہی ہے۔
اس کہانی میں ایک پینچ پیدا ہو رہا ہے، گزشتہ ہفتہ ہم نے جب پوری کہانی چھاپی،  ان کاغذات کو چھاپا، جو ثابت کرتے ہیں کہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش 10 مئی، 1951 ہے تو ہم سے دو ٹی وی چینلوں کے اہم لوگوں نے رابطہ کیا۔ انہوں نے ہم سے اخبار لیا اور سیدھے وزیر اعظم کے دفتر اور وزارتِ دفاع چلے گئے۔ انہوں نے ایک طرح سے دلالوں کا کام کیا۔ انہوں نے ایک طرح سے اخباروں یا میڈیا میں کام کرنے والوں کی ذمہ داری نہیں نبھائی، بلکہ انہوں نے ذمہ داری نبھائی سرکار کا حامی ہونے کی۔ وہ سرکار کے پاس گئے، انہوں نے سرکار سے کہا کہ آج ہی فیصلہ کر دیجیے، نہیں تو کل یا لوک سبھا کا اجلاس شروع ہوتے ہی یہ موضوع بہت گرم ہو سکتا ہے۔ سرکار نے آناً فاناً میں یہ اعلان کر دیا کہ جنرل وی کے سنگھ جون میں ریٹائر ہوں گے اور سرکار ان کی تاریخ پیدائش 10 مئی، 1950 ہی مان لے گی۔ میڈیا کے لوگوں پر ہم کیا افسوس کریں، کیوں کہ جب دلال کلچر کے لوگ میڈیا کے مکھیا بن جائیں، میڈیا کا استعمال دھمکی دے کر پیسہ اُگانے میں کرنے لگیں اور دلالی میں اپنا وقت لگانے لگیں تو افسوس ظاہر کرنے کے علاوہ ہم اور کیا کر سکتے ہیں۔ یہ بالکل ویسا ہے، جیسے کوئی اچھا ڈاکٹر کسی غریب کو میز پر لٹا کر اُس کا پیٹ کھول دے اور کہے کہ اتنا پیسہ دو، نہیں تو ہم اِس کے پیٹ کی سلائی نہیں کریں گے۔ دل کا آپریشن کرے اور کہے کہ اتنا پیسہ اور دو، اتنی دلالی دو، اتنی رشوت دو، نہیں تو ہم اس کے دل کا آپریشن آدھے میں چھوڑ دیں گے۔ ہمارے ساتھ میڈیا کے لوگ بالکل ایسا ہی کر رہے ہیں۔
ہمیں اس بات پر افسوس ہے اور میڈیا کا ایک حصہ ہونے کے ناطے ہم ایسے نکمّے، دلال اور بدعنوان صحافیوں کی طرف سے معافی تو نہیں مانگتے، لیکن افسوس ضرور ظاہر کرتے ہیں۔ یہ ہماری مجبوری ہے کہ ہم اِن کے خلاف کچھ کر نہیں سکتے، لیکن ہم اِن کے خلاف اپنا ہاتھ کھڑا کر سکتے ہیں اور ہم اِن کے خلاف اپنا ہاتھ کھڑا کر رہے ہیں۔ سرکار اپنے محکموں کے ذریعے دی گئی جانکاری کو کس بے شرمی کے ساتھ، کس غیر منصفانہ ڈھنگ سے نکار رہی ہے، جنرل وی کے سنگھ کا یہ معاملہ اس کا کھلا آئینہ ہے۔ ہر چیز سرکار کے خلاف ہے۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی یہ کہتا ہے کہ اگر عمر کے معاملے میں کوئی اندیشہ ہو تو ہائی اسکول کی سرٹیفکٹ کو ہی آخری مانا جائے گا، لیکن سرکار کا کہنا ہے کہ غلطی سے یا کیسے بھی یو پی ایس سی کے امتحان میں جنرل نے جب وہ 14-15 سال کے تھے، جو لکھ دیا وہی صحیح ہے، نہ کہ ہائی اسکول کی سرٹیفکٹ میں لکھی گئی تاریخ پیدائش صحیح ہے۔ سرکار حسب معمول سپریم کورٹ کو غلط ٹھہرا رہی ہے۔
سپریم کورٹ کی نظیر، جو ہائی اسکول کے سرٹیفکٹ کو تاریخ پیدائش کے معاملے میں آخری مانتی ہے، سرکار اسے بدلنا چاہتی ہے۔ وہ کہنا چاہتی ہے کہ کہیں کا کوئی کاغذ، جس میں تاریخ پیدائش لکھی ہے، وہی صحیح ہے، نہ کہ ہائی اسکول کے سرٹیفکٹ میں لکھی گئی تاریخ پیدائش۔ اس معاملے میں وزیر اعظم اور وزیر دفاع دونوں شامل ہیں۔ سرکار ناانصافی کرے اور یہ ناانصافی بے شرمی کے ساتھ دکھائی پڑے اور بعد میں وزیر اعظم اس کے لیے معافی مانگیں کہ مجھے پتہ نہیں تھا۔ جیسا کہ ٹو جی اسپیکٹرم کے معاملے میں ہوا، لیکن وزیر اعظم نے استعفیٰ نہیں دیا۔ انہیں سب معلوم تھا، ان کے دفتر کو بھی معلوم تھا۔ وزیر اعظم اِس معاملے میں بھی وہی کر رہے ہیں۔ 1951 کی تاریخ پیدائش کو بنیاد بنا کر جن لوگوں نے فائل پر دستخط کیے، جن لوگوں نے جنرل وی کے سنگھ کو پروموشن دیا، وہی اب کہہ رہے ہیں کہ ان کی تاریخ پیدائش 1950 کی ہے یعنی ایک سال پہلے کی ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ سرکار کو چلانے والے اہل کار اور رہنما سپریم کورٹ کے فیصلے کی اندیکھی کر نا چاہتے ہیں اور یہ شاید اس لیے ہو رہا ہے، کیوں کہ سپریم کورٹ نے زمین کے مسئلے پر کسانوں کا ساتھ دیا۔ سپریم کورٹ آج کل کئی ایسے فیصلے کر رہا ہے، جو سرکار کو پسند نہیں آ رہے ہیں۔ یہ فیصلے سرکار میں شامل اُن لوگوں کو پسند نہیں آ رہے ہیں، جن کا رشتہ بڑے پیسے سے ہے، زمین لوٹنے سے ہے، بین الاقوامی مافیا سے ہے، ہتھیار مافیا سے ہے۔ اس لیے وہ کوشش کرنا چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی آنکھ میں انگلی ڈالیں اور اسے بتائیں کہ تمہاری حیثیت کچھ نہیں ہے۔ جو حیثیت ہے، ہماری ہے۔ اسی لیے تمہارا وہ فیصلہ کہ ہائی اسکول کے سرٹیفکٹ کو تاریخ پیدائش کی آخری بنیاد مانا جائے، ہم نہیں مانتے۔ ہم ایک کاغذ کے ٹکڑے پر لکھی گئی تاریخ پیدائش کو ہی بنیاد مانتے ہیں اور اس کے لیے ہم کسی بھی سطح پر چالاکی کریں گے، کاغذوں کی اندیکھی کریں گے۔ اتنا ہی نہیں، ہم پوری بے شرمی کے ساتھ سارے کاغذوں کو ردّ بھی کر دیں گے۔ یہ کام موجودہ سرکار ہی کر سکتی ہے اور کوئی نہیں کر سکتا۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ حزب اختلاف ان ساری چیزوں کو ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے، دیکھنا چاہتا ہے، اس میں کودنا نہیں چاہتا، کیوں کہ حزب اختلاف کی سفارشوں سے بھی شاید کہیں کوئی ایسے فیصلے ہوئے ہوں، جن کا حزب اختلاف کے لیڈروں کو ڈر ہے کہ کہیں وزیر اعظم لوک سبھا میں اُن کے بارے میں کہہ نہ دیں کہ ہم کر رہے ہیں تو کیا ہوا، آپ نے بھی تو کیا ہے۔ کیا ہوگا، ہم نہیں جانتے، مگر ہمیں اتنا معلوم ہے کہ اگر اس معاملے پر جنرل وی کے سنگھ سپریم کورٹ نہیں جاتے اور وہاں سے آخری فیصلہ نہیں لیتے ہیں تو ایک ایسا فوجی، جس نے زندگی بھر ملک کی خدمت کی ہے، اپنی ایک ایک سانس فوج کو دی ہے، اپنی مدتِ کار کے آخری وقت میں اپنے دامن پر ایک داغ لے کر جائے گا۔ جھوٹ کا داغ۔
ہماری خواہش ہے کہ جنرل وی کے سنگھ سپریم کورٹ جائیں اور ہم ایسا اس لیے کہہ رہے ہیں، کیوں کہ وہ ہندوستانی فوج کے آرمی چیف ہیں، انہوں نے ہندوستان کی سرحدوں کی حفاظت جان کی بازی لگا کر کی ہے۔ ہندوستان کی سرحدوں اور ہندوستان کے مفادات کو بیچنے والے لوگ سیاست میں ہیں، لیکن اپنی جان دے کر ہندوستان کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والی فوج ہمارے لیے سلامی دینے کے لائق ہے اور اسی فوج کا سب سے اعلیٰ افسر جب سرکار کے ذریعے ٹھگا جائے تو اسے سپریم کورٹ جانا چاہیے اور انصاف کی مانگ کرنی چاہیے۔ سپریم کورٹ جو فیصلہ دے، اسے ملک کو قبول کرنا چاہیے اور فیصلہ اس لیے کہ یہی سرکار ہے، جس نے پہلے ایک بات کہی اور ناانصافی کے لیے دوسری بات کہی۔ جنرل وی کے سنگھ سپریم کورٹ جائیں اور ہندوستانی فوج کے وقار کی حفاظت کریں، ہم بس اتنا چاہتے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *