جنرل وی کے سنگھ کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
ہندوستانی فوج کے سربراہ کے ساتھ ایک طرف حکومت مذاق کر رہی ہے تو دوسری طرف میڈیا مذاق کر رہا ہے۔ حکومت بار بار ایک غلط بات کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سپریم کورٹ میں جاکر کہے کہ ہندوستان میں کسی بھی ڈیٹ آف برتھ کے سوال کو ہائی اسکول کے سرٹیفکٹ سے حل نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس محکمہ کا سربراہ جو ڈیٹ آف برتھ طے کرے، اس سے حل کیا جائے گا۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کئی کیسوں میں دیا ہے کہ جب بھی تاریخ پیدائش پر کوئی سوال کھڑا ہو، اس وقت ہائی اسکول کا سرٹیفکٹ ہی آخری سند مانا جائے گا، نہ کہ کسی ہوروسکوپ، جنم پتری یا کسی ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر کے ذریعے دیے ہوئے سرٹیفکٹ کو سند مانا جائے گا۔ یہ الفاظ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں لکھے ہیں۔ لیکن جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کے سلسلہ میں سپریم کورٹ کے یہ فیصلے نہیں مانے جا رہے ہیں۔ وزارت قانون کی ایک صلاح میں لکھا گیا ہے کہ کسی کلرک نے این ڈی اے کا فارم بھرتے وقت غلطی سے 51کی جگہ 50لکھ دیا، لیکن ہائی اسکول کے سرٹیفکٹ میں یہ 1951ہے، اس لیے اس تاریخ پیدائش کو 1951ہی مانا جائے۔ لیکن حکومت اسے نہیں مان رہی ہے، کیونکہ حکومت چلانے والے لوگوں کو اس میں ویسٹیڈ انٹریسٹ ہے اور اس ویسٹیڈ انٹریسٹ کی وجہ سے ان کے سامنے نہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا کوئی مطلب ہے اور نہ کسی اور غیر آئینی ادارہ کا۔ ہندوستان کے وزیر قانون نے اسی طرح کا ایک بیان دیا ہے کہ الیکشن کمیشن چونکہ آزاد ہے، کسی کے کنٹرول میں نہیں ہے، اس لیے وہ فیصلہ ایسے کرتا ہے جس کی وجہ سے پریشانی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آزاد اور غیر آئینی ادارے ہیں، خواہ وہ سپریم کورٹ ہو یا الیکشن کمیشن ہو، انہیں کنٹرول میں لانا چاہیے۔ یہ کنٹرول میں کس کے آئیں؟ ظاہر ہے، آئین کے کنٹرول میں نہ آئیں۔ یہ حکومت کے کنٹرول میں آئیں۔ یہ خطرناک بات نئے سرے سے ہندوستان میں قائم کی جا رہی ہے۔
میڈیا کا وہ حصہ جو ڈیفنس منسٹری کور کرتا ہے، اس کے بارے میں ایک بات اور صاف کر دوں۔ 90 فیصد سے زائد ایسے ڈیفنس جرنلسٹ ہیں جن کا رشتہ کسی نہ کسی ہتھیار لابی سے ہے۔ اخبار میں ان کی تحریر پڑھ کر ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے پیچھے کون سی ہتھیار لابی کام کر رہی ہے۔ اس لیے ایسے تمام صحافی جو ہتھیار لابی سے جڑے ہوئے ہیں، انھوں نے اس سوال کے اوپر حکومت کی طرف سے جنرل وی کے سنگھ پر حملہ بول دیا۔ ان صحافیوں نے کہا کہ چونکہ انھوں نے ادارہ کے مفاد میں ایک بار قبول کیا کہ میری تاریخ پیدائش 1950ہے اور اسی بات کو مانتے ہوئے ان صحافیوں نے کہہ دیا کہ ان کی ڈیٹ آف برتھ 1950 ہی ہے۔ ایسے تمام میڈیا کے دوستوں نے میڈیا کی بے عزتی کی ہے، میڈیا کے اصولوں کی بے عزتی کی ہے۔ سب کو معلوم ہے، جسے نہیں پتہ ہے تو وہ سب سے بڑا بیوقوف صحافی ہے۔ فوج کے ضابطہ کے مطابق، اگر فوجی سربراہ کوئی زبانی حکم بھی دیتا ہے تو اس حکم کو نہ ماننا، فوج کے ڈسپلن کی خلاف ورزی مانا جاتا ہے، اور حکم کو نہ ماننے والا شخص کورٹ مارشل کا سامنا کرنے کے لیے مجبور ہو جاتا ہے۔ فوج کے اس بنیادی اصول کے تحت جب جنرل دیپک کپور نے، جو اس وقت کے فوجی سربراہ تھے، جنرل وی کے سنگھ (جو اس وقت کے لیفٹیننٹ جنرل تھے) سے کہا کہ آپ ادارہ کے مفاد میں لکھ کر دیجئے کہ میں اپنی تاریخ پیدائش 1950 مانتا ہوں۔ اسے فوج کا حکم مان کر جنرل وی کے سنگھ نے لکھا، جیسی مجھے آپ نے ہدایت کی۔ اس کا مطلب دوسرے معنوں میں، ان کے گلے کے اوپر بندوق رکھ کر ان سے لکھوایا گیا۔ شرطیہ لکھا ہوا، اور ہائی کورٹ کے سرٹیفکٹ میں جو تاریخ لکھی ہوئی ہے، کیا ان دونوں کے درمیان میں سچائی تلاش نہیں کی جا سکتی۔ سچائی بالکل صاف ہے، اور وہ یہ ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش 1951 ہے۔
اس لیے جب جنرل وی کے سنگھ نے اپنے اس سوال کو اٹھایا اور کہا کہ یہ میری خودداری کا مسئلہ ہے، تو ہندوستان کے ہر انصاف پسند شہری نے جنرل وی کے سنگھ کے جذبات کے ساتھ خود کو جوڑا۔ باوجود اس کے، ابھی کچھ رسالے، اخبار اور حکومت میں ہتھیار مافیائوں کے یا زمین مافیائوں سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں نے جنرل وی کے سنگھ کے اوپر حملہ کرنا نہیں چھوڑا ہے۔ ان کی دلی خواہش ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش 1950 ہی مانی جائے اور وہ اس سال مئی میں ریٹائرہو جائیں۔ لیکن اس میں سپریم کورٹ کیوں مداخلت نہیں کر رہا ہے، یہ ہمارے لیے ایک تشویش کا موضوع ہے۔ سپریم کورٹ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں خود ہی نوٹس لے لیتا ہے، ان کی سماعت کرتا ہے اور فیصلہ دیتا ہے۔ تاہم اگر کوئی خط بھی لکھ دے تو اس خط کو بھی پی آئی ایل مان کرسماعت شروع ہو جاتی ہے، لیکن ایک ایسے مسئلہ میں سپریم کورٹ مداخلت نہیں کر رہا ہے جس میں ملک کا سب سے بڑا ادارہ، ایسا ادارہ نہیں جو سماجی خدمت کا کام کرتا ہے، بلکہ جو ملک کی حفاظت کرتا ہے، یعنی ہندوستانی بری فوج کے سربراہ کا مسئلہ۔ جس مسئلہ کو لے کر اخباروں میں تحریریں شائع ہو رہی ہیں، ان کے اوپر حملے ہو رہے ہیں اور جنرل وی کے سنگھ اپنے اوپر عائد الزامات کا ایک بھی جواب نہیں دے پا رہے ہیں، کیونکہ وہ جواب دیں گے تو ماناجائے گا کہ وہ صحافیوں کے درمیان اپنے کیس کو لے جا رہے ہیں۔ ان کی مجبوری ہے کہ اپنے حق میں صرف اور صرف خفیہ خط حکومت کو لکھیں۔ حکومت ان خطوط کو نہیں، بلکہ ان خطوط کو لے کر سامنے آتی ہے، جو اس کے حق میں ہیں۔ سچائی دونوں کے درمیان میں کہیں ہے۔ اس سچائی کو حکومت سامنے نہیں لاتی اور جنرل وی کے سنگھ کی اس مجبوری کا کہ وہ عوام کے درمیان اپنی بات نہیں لے جا سکتے، فائدہ اٹھا رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سپریم کورٹ اس کا نوٹس لے اور اپنی طرف سے سماعت شروع کرے۔ سپریم کورٹ سے ہماری مؤدبانہ گزارش ہے کہ آپ ملک میں پہلی بار پیدا کیے گئے ایک نقلی تنازع پر رائے دیں اور ہماری درخواست اگر آپ مانیں، تو آپ کو یہ کرنا چاہیے۔ اگر آپ یہ نہیں کریں گے تو آپ بھی کہیں نہ کہیں حکومت کے ساتھ اس پوری سازش کا حصہ مان لیے جائیں گے۔ لوگوں کے ذہن میں آپ کی تصویر بھی حکومت سے مل جل کر کام کرنے والے سپریم کورٹ کی ہو جائے گی۔ ایسا خطرہ ہمیں لگتا ہے ۔
پاکستان میں حکومت، فوج اور عدلیہ تقریباً تینوں ہی ڈھل مل ہیں۔ ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہے۔ہمارے ملک میں پاکستان جیسی صورتحال نہیں ہے۔ ہمارے پاس آزاد عدلیہ ہے اور آزاد الیکشن کمیشن ہے، اور یہ آزادی ہمارے آئین کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ ملک میں جب سبھی جگہوں سے لوگ ہار جاتے ہیں تو سپریم کورٹ میں جاتے ہیں۔ ہم بھی سپریم کورٹ سے یہی کہنا چاہتے ہیں کہ ملک میں پیدا ہوئے اس تنازع پر سپریم کورٹ کیوں فیصلہ نہیں لے رہا، کیوں اس کی سماعت نہیں کر رہا اور لوگوں کے دماغ میں کیوں یہ پیغام جارہا ہے کہ سپریم کورٹ لوگوں کی بات نہیں سنتا۔ جنرل وی کے سنگھ کا یہ کہنا کہ تاریخ پیدائش کا یہ تنازع پوری طرح ان کی عزت و وقار سے جڑا ہوا ہے، ہم اس سے پوری طرح اتفاق رکھتے ہیں۔ جنرل وی کے سنگھ ایک فردِ واحد ہی نہیں ہیں، بلکہ ہندوستانی فوج کی قیادت کرنے والے اہم سپاہی ہیں۔ جنرل وی کے سنگھ کے خلاف اگر ان کے پورے کریئر میں ایک بھی داغ ہوتا تو اب تک حکومت یا وہ طاقتیں، جو جنرل وی کے سنگھ کو ہٹانا چاہتی ہیں، ہر حالت میں ان داغوں کو لے کر اب تک ملک میں شور مچا چکی ہوتیں۔ لیکن ایسا نہیں ہو پایا، کیونکہ وی کے سنگھ کی زندگی اور ان کی وردی پر ایک بھی داغ نہیں ہے۔ اس لیے ہم جنرل وی کے سنگھ کی عزت کی لڑائی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں، اور ہم اس لیے بھی کھڑے ہیں، کیونکہ یہ ہندوستانی فوج کے وقار کا مسئلہ ہے۔ بہت سارے سینئر صحافیوں نے فوج کے افسران سے بات چیت کی۔ تمام افسران کا یہی کہنا ہے کہ جنرل وی کے سنگھ ایک بے داغ اور بہترین قائدانہ صلاحیت رکھنے والے انسان ہیں۔ اس لیے پوری فوج ان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے۔
لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ فوج کوسوالوں کے گھیرے میں لانے کا کام حکومت میں وہ لوگ کر رہے ہیں، جن کا جمہوریت کے تئیں عہدو پیمان اب مشکوک ہو گیا ہے اور اپوزیشن کے لوگ اس سوال کے اوپر خاموش ہیں۔ اپوزیشن ویسے بھی حکومت کے ذریعہ اٹھائے گئے کسی سوال کے اوپر تب تک نہیں بولتا، جب تک اسے کوئی سیاسی فائدہ نہ ملتا ہو۔ فوج کے اوپر اپوزیشن خاموش ہے۔ حکومت من مانا فیصلہ کرنا چاہتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک میں انصاف پسندی کا یا انصاف میں عقیدہ رکھنے والے کی امیدوں کے ختم ہونے کا وقت آنے والا ہے۔ مجھ سے ایک فوجی افسر کی بیوی نے کہا کہ اگر میری اپنے شوہر سے شادی نہیں ہوئی ہوتی، تو میں اپنے شوہر سے کہتی کہ تم کو اگر مجھ سے شادی کرنی ہے، تو تم فوج میں مت جانا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ میرے والد بھی بہت ایماندار ہیں، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ فوج میں ایماندار افسران کی قدر نہیں ہونے والی ہے۔ فوج میں کام کرنے والے افسر کی اس بیوی کا درد شاید فوج میں کام کرنے والے لاکھوں لوگوں کی بیوی کا درد ہوگا، مجھے نہیں معلوم۔ لیکن اس خاتون کی ان باتوں نے اتنا تو سوچنے پر مجبور کر ہی دیا ہے کہ کیا ہم ایماندار لوگوں کے ساتھ، بے داغ لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونے کی ہمت کبھی کر پائیں گے۔ یہ سوال ملک کے سامنے بھی ہے، سیاست کے سامنے بھی ہے اور سپریم کورٹ کے سامنے بھی۔g

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *