گہرے سمندروں میں بے شمار ندیاں بہتی ہیں

Share Article

وسیع احمد نعمانی
اللہ کی کرشمہ سازیاں یوں تو ہر ذرہ میں پنہاں ہیں اور آشکار بھی ہیں لیکن سمندروں میں پوشیدہ خدا کی خلّاقی کو سائنس کی مدد سے سمجھنے میں بہت آسانی ہوگئی ہے۔مثال کے طور پرسائنس دانوں نے اپنی محنت اور عرق ریزی سے لبریز تحقیقات کے ذریعہ دو اہم باتیں ثابت کردی ہیں اور یہ دونوں کرشمے خدا کی کبریائی کا گن گاتے ہیں جو صاف لفظوں میں اللہ کی کتاب میں بیان کئے گئے ہیں۔وہ دونوں باتیں یہ ہیں:
1 ۔سمندر کے پانی کے اندر بے مثال تاریکی ہے، جہاں ہاتھ کو ہاتھ نظر نہیں آتا ہے۔2۔ سمندر کی تہوں میں بے شمار ندیاں بہتی ہیں، جو پانی کی لہروں کی شکل میں موجود ہیں ۔ سمندر کے اندر میٹھے اور کھارے پانی کے دریا بہتے ہیں مگر آپس میں ملتے نہیں ہیں۔یہ دونوں اہم نکتے قرآن کریم کے سورہ رحمن چپیٹر نمبر 55 اور آیت نمبر 19-20 کے ساتھ ہی سورہ رفرقان چیپٹر نمبر 25، آیت نمبر 53 میں بیان کردیے گئے ہیں۔ان آیات کی تشریح اور ترجمہ سے یہ بات ثابت ہوجاتی  ہے کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں سائنس نے تحقیق کرکے اس بات کی مزید شہادت پیش کی ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے اور اس کا لکھنے والا صرف قادر مطلق اللہ ہی ہے۔ورنہ جو باتیں آج سے 1450 سال قبل اس آسمانی کتاب میں مذکور ہیں ان سب کو سائنس اب کیسے ثابت کرتی جارہی ہے،اس بات کو جانے بغیر کہ اللہ کی کتاب میں سائنس کی صدیوں کی محنت سے حاصل شدہ نتائج تو کتاب ُ اللہ  میں شروع سے ہی موجود ہیں۔کیوں کہ جب سائنس دانوں  نے ان باتوں کو ثابت کیا ، اس وقت ان کے سامنے قرآنی آیات نہیں تھیں بلکہ ان کی اپنی منفرد جستجو اور تلاش تھی۔ ان آیات کا ترجمہ پہلے جان لیں تو آگے کی بات سمجھ میں آسانی سے آسکے گی۔
ترجمہ سورہ رحمن آیت نمبر 19-20 : ’’ اس نے دو دریا یا سمندر رواں کئے جو باہم ملتے ہیں (پھر بھی) ان کے درمیان ایک پردہ ہے،وہ اپنی حد سے تجاوز نہیں کرتے‘‘۔دوسرے مقام پر سورہ  فرقان  چیپٹر نمبر 25 ،آیت نمبر 53 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ اور وہی تو ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے،جن میں سے ایک کا پانی لذیذ و شیریں ہے اور دوسرے کا کھارا کڑوا، پھر ان کے درمیان ایک پردہ اور سخت روک کھڑی کردی ہے‘‘۔یعنی اگر ہم ان آیات پر اور سمندری سائنسی تحقیقات پر غور کریں تو مندرجہ ذیل باتیں مزید سامنے آتی ہیں وہ یہ ہے کہ سمندر کے اندر جو ندیاں رواں ہیںوہ ایک ساتھ بہنے کے باوجود ان ندیوں کے پانی آپس میں ملتے نہیں ہیں بلکہ اپنی اپنی لذتوں کے ساتھ الگ الگ اپنے راستے،حدود میں بہتی رہتی ہیں۔یعنی ایک ندی کا میٹھا پانی دوسری ندی کے کھارے پانی میں ملتا نہیں ہے۔ یہ درحقیقت خدا کی کرشمہ سازی ہے ورنہ پانی ایک ساتھ ہے اور آپس میں ملے نہیں کہ صرف معجزہ ہے۔ دوسری بات یہ کہ سمندر کیپانی کے اندر اتنی زبردست تاریکی ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ نظر نہیں آتا ہے۔ یہ تاریکی بے مثال ہے کیونکہ ایسا اندھیرا کہیں نہیں پایا جاتا ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ سمندر کے اندر بذات خود بے شمار دریا ، یا ندیاں رواں دواں ہیں، جن کی خصوصیت یہ ہے کہ بے شمار جاندار اپنی اپنی  ندی میںزندگی گزارتے ہیں اور  اپنی اپنی ندیوں میں رہ کر ہی افزائش نسل کی ذمہ داری پوری کرتے ہیں۔چوتھی بات یہ ہے کہ یہ ندیاں ساتھ ساتھ بہنے کے باوجود اپنی کثافت، لذت ٹمپریچر کی وجہ سے ایک دوسرے سے بالکل میل نہیں کھاتی ہیں۔ مولانا مودودی نے ان آیات کی تشریح میں کچھ یوں لکھا ہے ’’ یہ کیفیت ہر اس جگہ رونما ہوتی ہے جہاں کوئی بڑا دریا سمندر  میں آکر گرتا ہے اس کے علاوہ سمندر میں بھی مختلف مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے پائے جاتے ہیں، جن کا پانی سمندر کے نہایت تلخ پانی کے درمیان بھی اپنی مٹھاس قائم رکھتا ہے۔ترکی کا امیر البحر سید علی رئیس (کاتب رومی) اپنی کتاب ’’ مِرأۃ  الممالک‘‘  میں جو سولہویں صدی عیسوی کی تصنیف ہے ، خلیج فارس کے اندر ایسے ہی ایک مقام کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ وہاں آب شور کے نیچے آب شیریں کے چشمے ہیں، جن میں سے میں  خود اپنے بیڑے کے لئے پینے کا پانی حاصل کرتا رہا ہوں۔ موجودہ زمانہ میں جب امریکی کمپنی نے سعودی عرب میں تیل نکالنے کا کام شروع کیا تو ابتداء میں وہ خلیج فارس کے ان چشموں سے پانی حاصل کرتی تھی، بعد میں ’’ ظہران‘‘ کے پاس کنویں کھود لئے گئے اور ان سے پانی لیا جانے لگا۔ بحرین کے قریب بھی سمندر کی تہہ میں آبِ شیریں کے چشمے ہیں جن سے لوگ کچھ مدت پہلے تک پینے کا پانی حاصل کرتے رہے ہیں ( تفہیم القرآن جلد سوئم سورہ فرقان ، حاشیہ 68 )
جدید سائنس نے قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیات کی ہم نوائی میں بغیر اس نیت اور ارادہ کے کہ وہ قرآنی آیات پر اعتماد کی وجہ سے یہ بات ثابت کر رہی ہے، کہا ہے ’’دو مختلف سمندر ،جہاں یہ آپس میں ملتے ہیں وہاں ان کے درمیان ایک ایسا پردہ حائل ہوتا ہے کہ ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ رکھتا ہے اور ہر سمندر کا اپنا درجہ ٔ حرارت  ، کھارہ پن  اور اپنی کثافت ہوتی ہے‘‘
اللہ کی یہ کرشمہ سازی دنیا کے مختلف سمندر میں بالکل عیاں ہے۔ جبل طارق یا Mount Gibraltor  کے مقام پر جہاں بحیرہ روم  اور بحر اوقیانوس آکر ملتے ہیں۔ وہ دونوں سمندروں کے پانی کی کثافت یا کھارہ پنSalinity دس ڈگری حرارت پر 36 اور گیارہ اعشاریہ پانچ ڈگری حرارت پر بھی 36 ہی ہوتی ہے ۔ بحیرہ روم  اور بحر اوقیانوس کے پانی کی رَو ایک دوسرے میں میلوں میل داخل ہوجاتی ہے مگر ایک دوسرے سمندر کا پانی اپنے کھارا پن ، حرارت اور کثافت کو  برقرار رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے میں ضم نہیں ہوتے ہیں، کیونکہ ان دونوں سمندروں کے دونوں پانیوں کے بہائوں کے درمیان  ایک آڑ ہے یا پردہ ہے یا برزخ ہے جو ایک دوسرے کو آپس میں ملنے نہیں دیتا ہے ۔ دو سمندر کے درمیان بہنے والی ندیوں کی اسی خصوصیت کو سورہ رحمن میں بیان کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ سائوتھ افریقہ کے ان مقامات پر جہاں بحر اوقیانوس اور بحر ہند ملتے ہیں سمندر کے اندر کی ندیوں کی اسی خصوصیت کا بیان موجود ہے۔ اسی طرح دریائے نیل، جو بحیرہ روم میں جاکر ملتا ہے،میلوں پانی کی یہی خصوصیت آپس میں برزخ(رکاوٹ) کے ساتھ موجود ہے۔برزخ یا رکاوٹ اس قدر مضبوط اور پختہ ہے کہ بڑی سے بڑی لہریں ، طاقتور موجیں، یہاں تک کہ مد وجزر بھی سمندری پانی کی اس خصوصیت کو بدل نہیں پاتی ہیں اور سمندر کے اندر بہنے والی بے شمار ندیوں اور دریائوں کا اپنا وجود اپنی کثافت، حرارت، کھارہ پن یا میٹھاپن کے ساتھ باقی رہتا ہے۔ یہ اللہ کی شان ہے کہ انسانی آنکھیں دو سمندرکے ملاپ کو نہیں دیکھ سکتی ہیں اور نہ سمندروں کے اندر بہنے والی ندیوں اور دریائوں کو دیکھ سکتی ہیں اور نہ ان کے درمیان پیدا ہونے اور بہنے والی لہروں کا مشاہدہ کرسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدّ و جزر کے دہانے پر بھی بیک وقت موجود تین طرح کے پانی کا بھی مشاہدہ نہیں کرسکتی ہیں۔یعنی صاف و شفاف ، نمکین پانی اور دونوں کو علیحدہ کرنے والے برزخ کو انسان اپنی ننگی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا ہے۔اس کا اندازہ یا مشاہدہ اب صرف سائنسی آلات کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔
اسی طرح سمندر کے اندر پانی کی تہوں میں زبردست تاریکی ہے۔اسے تو انسانی آنکھیں دیکھ سکتی ہیں ، مگر ایسا بے مثال اندھیرا کیوں ہے اس سلسلے میں اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں سائنس نے نئے نئے آلات کی ایجاد کے بعد معلومات حاصل کر لی ہے۔جدید سائنسی تحقیقات کی بنیاد پر یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ 200 میٹر یا اس سے زیادہ گہرائی پر تاریکی ہے، مگر 1000 میٹر کی گہرائی کے بعد نہایت گہرا اندھیرا ہے ۔ قرآن کریم نے اس تاریکی یا اندھیرے کی مثال سورہ النور آیت نمبر 40  میں کچھ اس طرح پیش کی ہے ’’ یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا، کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے، اس پر ایک اور موج، اور اس کے اوپر بادل، تاریکی پر تاریکی مسلط ہے،آدمی اپنا ہاتھنکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے، جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لئے پھر کوئی نور نہیں ۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *