غزہ: اسرائیلی فوج کی فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ، 100سے زائد زخمی

Share Article

 

فلسطین کی غزہ پٹی میں اسرائیل کے خلاف ہونے والے ہفتہ وار احتجاج کے دوران اسرائیلی فورسز کی مظاہرین پر فائرنگ سے سو سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ فلسطینی مظاہرین ‘گریٹ مارچ آف ریٹرن’ کے تحت ریلی میں شریک تھے۔ وزارت صحت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ زخمیوں میں سے 49 افراد کو اسرائیلی فورسز کی جانب سے فائر کی گئیں گولیاں لگی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں طبی امداد فراہم کرنے والے 4 ارکان بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے گزشتہ برس 30 برس سے اسرائیل کو فلسطین کا قبضہ چھوڑ کر واپس جانے کے لیے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا اور تاحال ہرجمعے کو مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فورسز نے اس دوران 305 فلسطینیوں کو گولیوں چھلنی کردیا اور 18 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

Image result for Gaza: More than 100 injured in Israeli army firing on Palestinian protesters

رواں برس مارچ میں اقوام متحدہ کے مشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے مشن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ میں فلسطنی مظاہرین کے خلاف کی گئی کارروائیاں جنگی جرائم میں شمار ہوسکتی ہیں۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے غزہ کو 2007 سے محاصرے میں رکھا ہوا جس کے بعد وہاں شہریوں کی زندگی مشکلات کا شکار ہے۔اسرائیل نے 2007 کے تین بڑے حملے بھی کیے ہیں اور 2008 میں ہزاروں افراد کو مارا گیا تھا جبکہ ان حملوں کے نتیجے میں پہلے سے مسائل کا شکار غزہ کی پٹی کا ڈھانچہ مزید کمزور ہوچکا ہے۔خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے حماس پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ جان بوجھ کر احتجاج میں مظاہرین کو اشتعال دلاتے ہیں تاہم حماس کی جانب سے مستقل ان الزامات کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔اسرائیل کا موقف ہے کہ فلسطینیوں کی بڑی تعداد میں واپسی کے نتیجے میں یہودی ریاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *