۔گنگا تیرا پانی امرت

Share Article

گنگا جل کو سات سمندر پار بیچنے کی اپنی اہم اسکیم کو تشکیل دینے کے لیے اتراکھنڈ سرکار نے گنگا کی خود مختار اتھارٹی کا اعلان کر کے ہر سال کم سے کم 500کروڑ روپے اکٹھا کرنے کی اسکیم کو آخری شکل دے دی ہے۔ سرکار کا ماننا ہے کہ اس کام سے ہونے والی آمدنی کو گنگا کی صفائی کے لیے خرچ کیا جائے گا۔ گنگا کی صفائی پر تقریباً 500کروڑ روپے کا خرچ آنے کا اندازہ ہے۔ ایسی صورت میں ریاستی سرکار نے مرکز سے بھی مدد مانگی ہے، لیکن اس کا منصوبہ ہے کہ اتھارٹی بھی خود اتنی مستحکمہو کہ وہ اپنی ہی آمدنی سے گنگا کی صفائی کا کام کرسکے۔
گنگا جل  کو فروخت کرنے کے سرکاری منشا کا ہندوستانی سادھو سماج اور جگت گرو شنکر اچاریہ سروپا نندجیسی ہستیاں شروع سے ہی مخالفت کر رہی ہیں۔ سرکار گنگا کے پانی کو فروخت کرنے کا کام پہلے خودکرنا چاہتی تھی، لیکن مخالفت کو دیکھتے ہوئے اب وہ یہی کام خود مختار اتھارٹی کی تشکیل دے کرکرے گی۔ اس نے طے کیا ہے کہ گنگا جل کی پیکیجنگ اور برانڈنگ کا کام گنگا کی خود مختار اتھارٹی کے ذریعہ ہوگا۔ اس وقت جو بھی کمپنیاں صوبے میں گنگا جل کی پیکیجنگ اور اس سے جڑے کام کر رہی ہیں، انہیں بھی اتھارٹی کے ماتحت رہ کر کام کرنا ہوگا۔ یعنی ان کمپنیوں کو بھی گنگا کے بدلے ایک متعین نقدی اتھارٹی کو ادا کرنی ہوگی۔ ریاستی سرکار نے طے کیا ہے کہ گنگا کو شفاف رکھنے کی ذمہ داری وہ خود نبھائے گی۔ ساتھ ہی اس کی کوشش ہوگی کہ اس میں ہونے والے خرچ کا انتظام بھی وہ اسی گنگا کے پانی سے پورا کر لے۔ سرکار کی نئی اسکیم سے اب تک اپنے عقیدت مندوں کو گنگا جل بھیج کر نذرانہ کے ذریعہ آمدنی کرنے والے ہمالیائی اور غیرہمالیائی گنگا کنارے بسے ہزاروں پنڈوں-پروہتوں کے سامنے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے، اس سے ان میں مایوسی ہے۔ ہمالیہ سمیت کاشی-پریاگ کے سنت مہاتما بھی اتراکھنڈ سرکار کے فیصلہ سے ناراض ہیں۔ اترکاشی میں واقع گیتا سوامی دبیا دھام کے سوامی کملیش نند سرسوتی نے سرکار کے اس قدم کو سناتن ہندو عوام کے ساتھ دھوکہ بتاتے ہوئے کہا کہ گنگا کو دنیا ماں کا درجہ دیتی ر ہے۔ آج بھی لاکھوں کروڑوں عوام کی عقیدت گنگا سے وابستہ ہے۔ گنگا کے پانی کی مارکیٹنگ ایک جرم ہے۔ سرکار کو رائے عامہ سے کھلواڑ نہیں کرنی چاہیے۔ کاشی کے مشہور سنت ستوا بابا بھی سرکار کے فیصلے سے حیران ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کام کو سرکار چاہے خود کرے یا اپنے کسی نمائندے  یا ادارہ سے کرائے، لیکن اس سے گنگا کا وقارمجروح ہوگا۔
مرکزی سرکار نے گنگا کے تئیں ہندوعقیدت مندوں کو دیکھتے ہوئے پہلے ہی یوپی اے چیئرپرسن سونیاگاندھی کے اشارے پر اسے قومی ندی کا درجہ دے رکھا ہے۔ صوبائی سرکار کا گنگا کو اپنی آمدنی کا ذریعہ بنانا عقیدت مندوں کو نہیں بھا رہا ہے۔ ریاستی سرکار نے عوام اور سیاسی پارٹیوں کی مخالفت سے بچنے کے لیے اب سیدھے مارکیٹنگ نہ کرکے اتھارٹی کو خود مختار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے باوجود وہ خود کو نہیں بچا پا رہی ہے، حالانکہ وہ بار بار یہی بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اتھارٹی سے سرکار کا کوئی لین دین نہیں رہے گا، لیکن اس کی دلیل کسی کے گلے نہیں اتر رہی ہے۔ گزشتہ دنوں اپنے ماریشس سفر کے دوران وزیراعلیٰ ڈاکٹر نشنک نے گنگا کے پانی کی مارکیٹنگ کے مسئلہ کو پوری طرح سمجھا۔ وہاں سے واپس آکر انہوں نے گنگا کے پانی کو اپنی سرکار کی آمدنی کے ذریعہ کی شکل میں چنتے ہوئے اتھارٹی کی تشکیل کو منظوری دے دی۔ نشنک کو ایک بات پوری طرح سمجھ میں آگئی ہے کہ بیرونی ممالک میں رہنے والے ہندو کسی بھی قیمت پر گنگا جل کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بس ان کی اسی سمجھ نے انہیں اس کام کے لیے تیار کردیا۔ ریاستی سرکار عوام کی عقیدت کو کیش کرنے پر آمادہ ہے۔
سابق وزیر داخلہ سوامی چنمیا نند نے سرکار کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کو عوام کی امیدوں سے کھلواڑ نہیں کرنی چاہیے۔ گنگا کو ماں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماں کے ساتھ دولت کمانے کے لیے اس طرح کی چھوٹ نہیں دی جاسکتی۔ ہندوستانی سادھو سماج کے اتراکھند ریاست کے صدر اور سنسکرت یونیورسٹی کے بانی چانسلر برہم سروپ برہمچاری نے نشنک سرکار کے اس قدم کو ہندو عقیدت مندوں کے ساتھ دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ’’وناش کالے وپریت بدھی‘‘  والی کہاوت ثابت ہو رہی ہے۔ گنگا جل کو فروخت کر کے زیادہ آمدنی کی جاسکتی ہے، لیکن ہندو قوم جو گنگا کو ماں کی نظر سے دیکھتی ہے، وہ اگر بی جے پی اور نشنک سرکار سے خفا ہوتی ہے تو یہ یقینی طور سے دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ دیو بھومی ہمالیہ اور اتراکھنڈ صدیوں سے گنگا، دیوالیوں، جنگلی جانوروں اورقدرتی دولت کے لیے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے، سرکار کو اسے امانت سمجھ کر بچانے کا کام کرنا چاہیے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *