گنگا جمنی تہذیب کا امین مشاعرہ جشن بہار

Share Article

p-11bمشاعرے ہندوستان کی روایت کے امین ہیں اور کئی مشاعرے بے حد پُر وقار ور تاریخی ہیں۔ دہلی مشاعروں کا گڑھ ہے ۔دہلی میں لال قلعہ کا مشاعرہ، ڈی سی ایم کا مشاعرہ اور مشاعرہ جشن بہار بے حد مقبول و مشہور مشاعرے ہیں۔ ان تینوں ہی مشاعروں کے بارے میں یہ کہا جاتاہے کہ جس نے یہ تینوں مشاعرے پڑھ لئے وہ ہندوستان کا مقبول و معتبر شاعر مان لیا جاتاہے۔ دہلی والے ان تینوں مشاعروں کا بے صبری سے پورے سال انتظار کرتے ہیں۔ ڈی سی ایم اور جشن بہار وہ اردو کے متوالے منعقد کرتے ہیں جن کے آبا ء و اجداد دہلی والے تھے ۔

مشاعرہ جشن بہار کا انعقاد کامنا پرساد کرتی ہیں جو بتاتی ہیں کہ ان کی مادری زبان ہی اردو ہے۔ کامنا پرسادہلی والوں کے لئے ایسی معتبر اور با وقار شخصیت کا نام ہے جن کو دہلی والے بے حد عزیز رکھتے ہیں۔ 16 سال سے کامنا جشن بہار کا انعقاد کرتی آئی ہیں ۔کامنا پرساد کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ نئی بستیوں میں جو اردو کے متوالے اردو کی شمع روشن رکھے ہوئے ہیں ان کو مشاعرے میں بلائیں تاکہ اردو ادب اور شاعری کے متوالے ان کے نام سے روشناس ہوسکیں۔ جشن بہار ٹرسٹ کو نہ تو کوئی مالی امداد کہیں سے ملتی ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر یہ ٹرسٹ کوئی مدد لیتا ہے ۔یہ ایک غیر سیاسی، غیر سرکاری ادارہ ہے جو محبان اردو کی مدد سے چل رہا ہے۔ کامنا پرساد اس لئے بھی مبارکباد اور تعریف و تحسین کی مستحق ہیں کہ وہ نہ صرف پوری دنیا سے اور پاکستان و ہندوستان کے بے حد معتبر شعراء کو مدعو کرتی ہیں بلکہ دہلی کے علاوہ بھی کئی شہروں میں مشاعرے منعقد کرتی ہیں ۔اس سال بھی دہلی کے علاوہ پٹنہ میں بھی 5 اپریل کو مشاعرہ منعقد ہوا۔ اس مشاعرہ کی معتبریت کا یہ عالم ہے کہ ایک زمانے میں اس مشاعرے میں ایک ہی اسٹیج پر کیفی اعظمی، علی سردار جعفری، قتیل شفائی، احمد فراز ،ساغر خیامی جیسے شعراء موجود رہتے تھے۔
جشن بہار کے مشاعرے میں شریک ہونے والے عالمی و قومی شعراء میں استنبول (ترکی) سے پہلی مرتبہ تشریف لائے زبان دانی کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر حلیل ٹوکر ، ڈوشامبے (تاجکستان) کی زمین پر اردو کو متعارف کرانے والے شاعر مالاکھوا زیب النساء ، اوساکا (جاپان) کے پروفیسر سو یامانی اور پاکستان سے تشریف لائے شعراء میں فہمیدہ ریاض، ریحانہ روحی ، اجمل سراج او ر احمد سلمان نے شرکت کی اور اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ان کے علاوہ ہندوستان کے ممتاز شعراء میں پروفیسر وسیم بریلوی، جناب جاوید اختر، ڈاکٹر گلزار دہلوی، جناب منظر بھوپالی، جناب منصور عثمانی، محترمہ نسیم نکہت، جناب آغا سروش ، جناب پاپولر میرٹھی، جناب پرمود تیواری ، محترمہ ترنم ریاض اور جناب نشتر امروہوی نے شرکت کی۔
اس مشاعرے میں عزت مآب ٹی ایس ٹھاکر،جج سپریم کورٹ آف انڈیا مہمان خصوصی تھے اور ڈاکٹر سیدہ سیدین حمید ممبر پلاننگ کمیشن صدر مشاعرہ تھیںجبکہ جناب تری پر اری شرن، ڈی جی، دور درشن مہمان ذی وقار تھے۔
’’چوتھی دنیا‘‘ نے کامنا پرساد سے اس مشاعرے سے متعلق چند سوالات کیے جو قارئین کے لئے پیش کیے جارہے ہیں۔
جشن بہار کا پہلا مشاعرہ کب اور کہاں ہوا؟
پہلا مشاعرہ دہلی میں 16 برس پہلے ہوا
آپ چن چن کر ایسے ممالک سے اردو شعراء کو بلاتی ہیں جہاں اردو زبان سے واقفیت ہونا بھی مشکل نظر آتا ہے ،ایسے میں آپ ان سے رابطہ کیسے کرتی ہیں؟کیسے ان شعراء کے بارے میں آپ کو علم ہوتا ہے؟
آج دنیا بھر میں اردو کی بستیاں آباد ہیں۔ کئی شعراء ،جن کی مادری زبان اردو نہیں ہے، وہ بھی پایہ کی شاعری کرر ہے ہیں۔آج کے ماحول میں معلوم کرنا دشوار نہیں کہ کہاں کیا تخلیق کیا جارہا ہے۔
مشاعرہ جشن بہار اور ڈی سی ایم کا مشاعرہ دونوں ہی ہندوستان کے بیحد پُر وقار مشاعرے مانے جاتے ہیں۔ آپ اس معیار کو کیسے قائم رکھ پاتی ہیں؟
ہم محبانِ اردو کی مدد سے اس مشاعرے کا انعقاد کرپاتے ہیں۔
دور دور کے ممالک سے شعراء کو بلانے میں بہت پیسہ لگتا ہے ۔ آپ یہ سب انتظام کہاں سے اور کیسے کرتی ہیں؟اتنا پیسہ کیسے اکٹھا کرپاتی ہیں؟
محبان اردو کی مدد سے
ہندوستان اور پاکستان کی شاعرات میں آپ کو کہاں کی شاعرات زیادہ بہتر شاعری کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں؟
صرف ہندوستان اور پاکستان ہی کیوں، دنیا بھر میں شاعرات معیاری شاعری کررہی ہی۔ آپ ہر برس جشن بہار میں یہ دیکھ اور سن سکتے ہیں اور رہی دونوں ممالک کی شاعرات کی بات تو دونوں ہی جگہ کی شاعرات بہترین شاعری کررہی ہیں۔
اس وقت جبکہ اردو زبان کا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا ،آپ کب تک اس مشاعرہ کو جاری رکھ پائیں گی؟
ہمیں اردو کا مستقبل روشن نظر آتا ہے۔ آج ہندوستان میں اردو کے رسائل اور اخبارت پہلے سے کہیں زیادہ ہیں اور مشاعرے بھی مقبول ہیں۔
آپ کے مشاعروں کا رسپانس کیسا رہتا ہے؟
نسلِ نو اردو کے پرستار سبھی مشاعرہ جشن بہار میں باقاعدہ شرکت کرتے ہیں اور ٹیلی ویژن پر بھی اس کا لطف اٹھاتے ہیں۔
اردو زبان کا مستقبل کیا صرف مشاعروں سے ہی روشن رہے گا؟
الکٹرانک میڈیا ہو یا انٹرنیٹ، رسالے ہوں یا مشاعرے، اب تو سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *