ترقی کی نئی مثال گنگا دیوی پلی گائوں

Share Article

ششی شیکھر
آندھرا پردیش کے وارنگل ضلع کی مچار پور گائوں پنچایت کا ایک چھوٹا سا علاقہ تھاگنگا دیوی پلی۔گائوں پنچایت سے دور اور الگ ہونے کے سبب ترقی کی ہوا یا کوئی سرکاری منصوبہ یہاں کے لوگوں تک کبھی نہیں پہنچا۔بہت سی چیزیں بدل سکتی تھیں، لیکن نہیں بدلیں، کیونکہ لوگ انتظار کر رہے تھے کہ کوئی آئے گا اور ان کی زندگی سنوارے گا۔ تبدیلی کی نئی ہوا لائے گا۔تقریباً دو دہائی قبل گنگا دیوی پلّی کے لوگوں نے طے کیا کہ وہ خود متحد ہونگے اور تبدیلی کی ایک نئی ہوا لیکر آئیں گے، جس کا وہ اب تک صرف انتظار کر رہے تھے۔ آج گنگا دیوی پلّی ایک مثال ہے کہ کیسے ایک چھوٹے سے گائوں کو آئیڈیل بنایا جا سکتا ہے؟
آج گنگا دیوی پلّی میں سوفیصد گھروں سے پیسہ اکٹھا ہوتا ہے، یہاں سو فیصد خواندگی ہے، سو فیصد لوگ فیملی پلاننگ کے وسائل اپناتے ہیں، سو فیصد لوگ چھوٹی بچت کرتے ہیں، بجلی کے بل کی ادائیگی بھی سو فیصد ہے، پورے گائوں کے لیے پینے کا پانی ہے اور سبھی بچے اسکول جاتے ہیں۔ ظاہر ہے اس سب کے پیچھے صرف اور صرف گرام سبھا کا ہی رول تھا۔عوام کا تعاون، مستقل میٹنگ اور فیصلوں میں سب کی رضامندی کی بدولت یہ گائوں آج ہندوستان کے 6لاکھ گائووں کے لیے ایک مثال بن چکا ہے۔
شراب خوری گنگا دیوی پلّی میں ایک اہم مسئلہ تھا، اس سماجی برائی نے دیگر مسائل کو بھی پیدا کر دیا تھا، جیسے گھریلو جھگڑے، دو گروپوں کے جھگڑے۔ 70کی دہائی میں گائوں کے کچھ لوگ اکٹھا ہوئے اور انھوں نے طے کیا کہ اب کچھ کرنا ہے۔ان لوگوں نے گائوں میںمسلسل میٹنگیں کیں اورجائزہ لیا کہ شراب سے کیا کیا نقصان ہو رہے ہیں؟ 1982تک گائوں سے شراب باہر ہو چکی تھی۔1994میں گنگا دیوی پلّی بھی گائوں پنچایت بن گیا۔پنچایت راج ایکٹ کی دفعہ 40میں گرام سبھا کے تعاون سے کمیٹی بنانے کی بات کہی گئی ہے۔گنگا دیوی پلّی گائوں کی کامیابی ان کمیٹیوں کی تشکیل میںشفافیت اور ایمانداری میں پوشیدہ ہے۔
کسی نئی اسکیم کا اعلان مائک کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ گرام سبھا کی میٹنگ ہوتی ہے اور کمیٹی کے ممبر منتخب کر لیے جاتے ہیں،کمیٹیوں کی تشکیل ہونے کے بعد لوگ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اسی حساب سے کام کرتے ہیں۔ دراصل گائوں کے سبھی رائے دہندگان گرام سبھا کے خود ہی رکن ہوتے ہیں۔اوپر سے اس گائوں نے مختلف کمیٹیاں تشکیل دے کر مزید بہتر کام کیا ۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ گائوں کے سبھی لوگوں کی براہ راست نمائندگی ہوئی اور فیصلے کے عمل میں ان کی حصے داری بڑھی۔ کمیٹیاں بنانے سے گائوں کے الگ الگ مسائل کا کم وقت میں بہتر تال میل کے ساتھ حل ممکن ہو سکا۔ موجودہ سرپنچ بتاتے ہیںکہ عوامی حصے داری تبھی سے شروع ہو جاتی ہے جب لوگ اپنے مسائل کے بارے میں بات کرنا شروع کرتے ہیں۔ اس کے بعد ہم مسئلے کا حل تلاش کرنے اور اسے نافذ کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔سرپنچ ہر شخص کی حصہ داری کو یقینی بناتے ہیں۔ اس سے ان کی غیر حاضری میں بھی ترقیاتی کاموں میں کوئی کمی نہیں آتی۔ لوگ ہر سطح پر گائوں پنچایت سے جڑے ہوتے ہیں، لہذا سبھی ایشوز اور فیصلوں سے واقف ہوتے ہیں۔ اس سے اپنے حقوق کا احساس بیدار ہوتا ہے اور کام میں شفافیت آتی ہے۔ اس عمل سے یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ کسی بھی بدعنوانی کے بغیر اسکیموں کو نافذ کیا جا سکتا ہے۔
کوئی بھی فیصلہ گائوں کے لوگوںپر تھوپا نہیںجاتا۔مسائل گرام سبھا کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور ان کا حل لوگوں کی طرف سے ہی آجاتا ہے۔اس طرح لوگوں کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے۔ گائوں کی سڑکوں پر اندھیرا رہتا ہے، لیکن لوگوں نے ملکر پورے گائوں کی سڑکوں پر روشنی کا انتظام کر لیا۔گائوں میں پانی کا بڑا مسئلہ تھا۔ صرف ایک کنوا تھا وہ بھی ایک کلو میٹر دور۔ کنوے سے پانی نکالنے کے لیے لوگوں کو صبح تین بجے سے لائن میں کھڑا ہونا پڑتا تھا۔گائوں والوں نے ایک ادارے کی مدد سے ٹنکی لگانے کا منصوبہ بنایا، 15فیصد خرچ خود گائوں والوں نے اٹھایا۔ رقم اکٹھی کرنے کے لیے لوگوں کی11 ٹیمیں بنائی گئیں اور محض دو روز میں65ہزار روپے اکٹھا ہو گئے۔ اسی طرح ٹنکی سے آنے والے پانی کے استعمال کے لیے گرام سبھا میں غورو فکر کرکے ضوابط بنائے گئے تاکہ کوئی پانی برباد نہ کرے اور پورا گائوں ضوابط پر عمل کرتا ہے۔گائوں والے جانتے ہیں کہ اب ان کے یہاں پانی کی کمی نہیں ہے، لیکن پھر بھی ان ضوابط کی تعمیل اس لیے کی جاتی ہے تاکہ کوئی بیکار میں ہی پانی نہ بہائے۔پانی کے استعمال سے جڑے کچھ ضوابط ہیں ،جیسے ٹنکی کا کنکشن صرف لوگوں کے گھر کے سامنے لگے گا،ہر گھر آدھا انچ کا پائپ استعمال کرے گا، ہرنل زمین سے 4فٹ اوپر ہوگا۔نل کے آس پاس کی جگہ سوکھی رکھی جائے گی، کسی گھر میں پانی نہیں بہایا جائے گا۔پودوں کو پانی دینے کے لیے بھی بالٹی اور مگ کا استعمال ہوگا، کوئی پائپ لگاکر پانی نہیں دیگا۔
ان ضوابط کو توڑنے والے شخص کا پانی کنکشن سیل کر دیا جاتا ہے اور100روپے کا جرمانہ بھرنے پر ہی دوبارہ بحال کیا جاتا ہے۔ واٹر کونسل کی مستقل میٹنگ مہینے کے دوسرے ہفتہ کو ہوتی ہے۔ اگر کوئی خاص بات یا اعتراض ہو تو گرام سبھا کی میٹنگ میں اس پر بحث ہوتی ہے لیکن یہ پانی پینے کے لیے نہیں ہے۔نل میں آنے والے پانی میںفلورائڈ ہے ،اس لیے یہ پینے کے کام میں نہیں لیا جاتا۔پینے کے پانی کے لیے ٹاٹا کمپنی کے تعاون سے پانی کو صاف کرنے کی مشین لگائی گئی ہے۔اس سے صاف ہونے والا پانی ایک روپے فی کین فراہم کرایا جاتا ہے۔یہ پورا کام پنچایت کی دیکھ ریکھ میں چلتا ہے لیکن کوئی بھی فیصلہ گرام سبھا میں ہی لیا جاتا ہے۔اس لیے گائوں کا کوئی بھی آدمی اسے ہلکے میں نہیں لیتا۔
گرام سبھا کی میٹنگ میں ہی طے کیا گیا کہ کھلے میںضروریات سے نمٹنے والے لوگوں پر500روپے کا جرمانہ لگایا جائے گا۔حالانکہ ضوابط میں ایسے جرمانے کا پروویژن نہیں تھا، لیکن یہ گرام سبھا کا مشترکہ فیصلہ تھا۔ آج گائوں کا ہر شخص اپنے گھر میں بنے ٹائلٹ کا استعمال کررہا ہے۔گرام سبھا نے ہریالی اسکیم نافذ کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی۔ ہر گھر سے کہا گیا کہ وہ اپنی زمین پر پیڑ لگائے۔ساتھ ہی سڑک کے کنارے بھی پیڑ لگائے۔پیڑوں کی حفاظت کے لیے ان کے سامنے واقع گھروں کو ذمہ دار بنایا گیا۔ اگر یہ گھر منگل اور ہفتہ کو ان پیڑوں کو پانی نہیں دیتے تو ان کے لیے پینے کا پانی بند کرنے کا پروویژن ہے۔گائوں کے لوگ اپنے جانوروں کو باندھ کررکھتے ہیں، تاکہ یہ گائوں میں لگائے جا رہے پیڑ پودے نہ کھائیں۔گرام سبھا نے لوگوں، مختلف کمیٹیوں اور پنچایت کی مختلف سرگرمیوں کے لیے شرائط و ہدایات طے کر کھی ہیں۔پہلے لوگ ان کی تعمیل میں آنا کانی کرتے تھے، لیکن جب ان کی سمجھ میں آ گیا کہ یہ ان کے اور پورے گائوں کی بھلائی کے لیے ہیں تب سے ہدایات کی تعمیل کرنا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا۔
گاؤں میں 256گھر اور دوسرے ادارے ہیں۔ان سبھی کے ذریعہ گرام پنچایت کو دیا جانے والا کل ٹیکس 95706روپے بنتا ہے۔یہ رقم بغیر تاخیر کے گرام پنچایت کو ادا کر دی جاتی ہے۔جس طرح مختلف اسکیموں پر عمل در آمد کر نے کے لیے لوگوں نے پوری ذمہ داری لی،اسے دیکھتے ہوئے ہو سکتا ہے کہ سرکاری ادارے اور بڑے صنعتی گھرانے بھی گرام پنچایت کی مدد کے لیے آگے آئیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *