سنتوش بھارتیہ 

ہندوستان میں گٹھ جوڑ بناکر اقتدار سنبھالنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی ان دنوں افسوس ناک اندرونی خلفشار کے دور سے گزر رہی ہے۔ تقریباً سات سال میں تین بار وزیر اعظم رہ چکے شری اٹل بہاری واجپئی ان دنوں بیمار ہیں۔ وہ نہ اخبار پڑھتے ہیں اور نہ ٹیلی ویژن پر خبریں سنتے ہیں۔ اگر دیکھتے ہوتے تو ان سے زیادہ درد و غم محسوس کرنے والا آج کے دور کا کوئی دوسرا لیڈر نہیں ہوتا۔ شری دین دیال اُپادھیائے کے بعد پارٹی کی قیادت فطری طور پر اٹل بہاری واجپئی کے پاس آ گئی تھی اور اٹل بہاری واجپئی کی شخصیت ایسی تھی کہ کوئی بھی ان کی مخالفت نہیں کر پاتا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے وہ مقبول لیڈر تھے ہی، لیکن ملک میں بھی انہوں نے اپنی قیادت کے لیے ہر طبقے سے تعریفیں بٹوری تھیں۔ شاید بھارتیہ جنتا پارٹی میں تنہا وہی تھے، جنہیں ملک کے مسلمانوں سے بھی عزت ملی تھی۔ بھلے ہی تیرہ دن، تیرہ مہینے یا ساڑھے چار سال کا دورِ حکومت وزیر اعظم کی شکل میں انہیں ملا ہو، پر یہ تین بار ملا اور انہوں نے تشویشوں کے برخلاف ملک کا اقتدار کچھ بہتر انداز سے ہی چلایا۔ اٹل جی نے جس پارٹی کو ہندوستان کے سب سے اعلیٰ اقتدار تک پہنچایا، اس پارٹی میں انتشار کے بیج کو بڑھتے دیکھنا اٹل بہاری واجپئی جیسی شخصیت کے لیے مہلک درد سے زیادہ درد ناک تکلیف کو محسوس کرنا مانا جا سکتا ہے۔ اسی لیے اٹل جی کی بیماری ان کے لیے نعمت ہے، کیوں کہ اسی بیماری کی وجہ سے وہ اس تکلیف سے بچے ہوئے ہیں۔

سنجے جوشی سے استعفیٰ لینے کے پیچھے ایک مزیدار کہانی ہے۔ ممبئی ایگزیکٹیو کے وقت جب فیصلہ لینے کا موقع آیا تو اس میٹنگ میں لال کرشن اڈوانی اور ارون جیٹلی نہیں تھے، نتن گڈکری خاموش تھے۔ تمام ممبران نے کہا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے، سنجے جوشی سے استعفیٰ نہیں مانگنا چاہیے۔ جب یہ معاملہ سریش سونی کے پاس گیا، تو انہوں نے کہا کہ سنجے جوشی ایگزیکٹیو میں رہیں یا نہ رہیں، لیکن نریندر مودی کا رہنا ضروری ہے، کیوں کہ نریندر مودی نہ صرف گجرات کے وزیر اعلیٰ ہیں، بلکہ بی جے پی کے ہندوتوا والے چہرے کی علامت بھی ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کے ڈیموکریٹک فیصلے کے خلاف ویٹو کر دیا اور خود سنجے جوشی سے کہا کہ وہ استعفیٰ دے دیں۔ سنجے جوشی نے استعفیٰ دے دیا اور نریندر مودی شام کو خصوصی طیارہ سے ممبئی ایگزیکٹیو میں شامل ہونے پہنچ گئے۔ جن لوگوں نے اسٹیج کا وہ نظارہ دیکھا، ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کے ساتھ نتن گڈکری چل رہے تھے اور دونوں کی باڈی لینگویج ایسی تھی، گویا شیر کے ساتھ چوہا چل رہا ہو۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر انتشار کے اس مہابھارت کی جڑ میں کچھ نفسیاتی اسباب ہیں، کچھ حالات کی وجہ سے پیدا ہونے والے اسباب ہیں اور کچھ اقتدار پر قبضہ کرنے کی شدید خواہش ہے۔ پہلا سبب یہ کہا جاسکتا ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ایک نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر شری لال کرشن اڈوانی اور شری مرلی منوہر جوشی کا قد، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو سنبھالنے والے تمام لیڈروں کے قد سے بڑا ہو گیا ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے دو سب سے بڑے لیڈر شری موہن بھاگوت اور شری بھیا جی جوشی عمر اور تجربہ میں شری لال کرشن اڈوانی اور شری مرلی منوہر جوشی سے کم ہیں، اسی لیے یہ نفسیاتی بیماری پیدا ہو گئی ہے۔ اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں کام کرنے والے لوگ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ میں کام کرنے والے لوگوں سے سینئرٹی میں بھی اور عمر میں بھی بڑے ہو گئے ہیں۔ سنگھ کے لوگوں کا ماننا ہے کہ وہ جو فیصلہ کرتے ہیں، وہ سب کو ساتھ لینے والا اور سماج کے حق میں لیا گیا فیصلہ ہوتا ہے۔ وہیں بی جے پی کے لوگ جو فیصلہ لیتے ہیں، اس سے سماج کی بھلائی کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا، یہ لوگ صرف اپنی بھلائی اور اپنے گروپ کے فائدے کو دھیان میں رکھ کر فیصلہ لیتے ہیں۔ سارا مسئلہ اسی نکتہ سے شروع ہوتا ہے۔
سنگھ میں اب تک بی جے پی کو دیکھنے کا ذمہ مدن داس دیوی کے اوپر تھا۔ مدن داس دیوی سے کئی غلطیاں ہوئیں، ایسا سنگھ کے سینئر لیڈروں کا ماننا ہے۔ اس کے پیچھے صرف اور صرف ایک وجہ ہے کہ سنگھ کے لوگوں نے کبھی سیاست کی نہیں۔ وہ اپنی آڈیولوجی کی بنیاد پر سماج کو کیسے بدلنا ہے اور کیسے سماج کو ہندووادی ڈھانچے میں ڈھالنا ہے، اسی کے لیے کوشش کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کے درمیان کے کسی آدمی کے قدموں میں سیاست کرنے والے بڑے بڑے لوگ سر جھکائیں، ان کے پیر چھوئیں تو انسانی کمزوری سامنے آ جاتی ہے۔ انسانی کمزوری کے سبب ہوئی غلطیوں کی وجہ سے مدن داس دیوی کو سنگھ نے کہا کہ چونکہ ان کی صحت بھی اب ٹھیک نہیں رہتی ہے، اس لیے وہ اب بی جے پی کی ذمہ داری سے الگ ہو جائیں۔ ان دنوں سنگھ کی طرف سے سریش سونی ایگزیکٹیو ہیں۔ ایگزیکٹیو کا مطلب سنگھ کی طرف سے بی جے پی کے بارے میں آخری فیصلہ لینے والا آدمی۔ بی جے پی کے ہر فیصلے کو تب تک منظوری نہیں ملتی، جب تک سریش سونی اس پر اپنی مہر نہیں لگا دیتے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ سریش سونی بھی ویسی ہی غلطیاں دہرانے لگے ہیں، جیسے غلطیاں مدن داس دیوی نے کی تھیں۔ سریش سونی کا بھی بیک گراؤنڈ سوشل ہے، انہوں نے کبھی سیاست نہیں کی، وہ سیاست کے داؤ پیچ نہیں سمجھتے، لیکن سیاست کر رہے ہیں اور بی جے پی سے ایسے فیصلے کرا رہے ہیں، جن سے بی جے پی کا اندورنی خلفشار دنیا کے سامنے بدترین شکل میں ظاہر ہو رہا ہے۔ سنگھ میں اس وقت کئی لابیاں ہو گئی ہیں۔ ایک لابی مدن داس دیوی اور سریش سونی کی طرف دیکھتی ہے اور دوسری لابی لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کی طرف دیکھتی ہے۔ تیسری لابی نتن گڈکری کے ساتھ ہے اور ان کی سلطنت کو مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ ایک چوتھی لابی بھی آر ایس ایس میں ہے، جو نریندر مودی کے ساتھ ہے اور نریندر مودی کو ملک کا لیڈر بنانا چاہتی ہے۔ پہلے سشما سوراج، ارون جیٹلی اور نریندر مودی اڈوانی جی کے سپہ سالار تھے۔ اڈوانی جی کو جب سے یہ احساس ہوا کہ اب سنگھ کی قیادت اور بی جے پی کا ایک طبقہ انہیں سیاست سے کنارے کر دے گا، تو انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ اگلا لوک سبھا الیکشن نہیں لڑیں گے اور چونکہ انہوں نے پوری زندگی پارٹی کو بہتر بنانے میں لگا دی ہے، تو اب وہ چاہتے ہیں کہ ان کی پارٹی ٹھیک سے چلے۔ لیکن اڈوانی جی کے ذریعے یہ اعلان کرتے ہی ان کے یہ تینوں سپہ سالار، جنہوں نے ان کے لیے پارٹی میں سالوں سال شوٹر کا کردار نبھایا تھا، اب الگ الگ ہو گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ہونے کے ناطے اور حملہ آور حکمت عملی بنانے میں ماہر نریندر مودی سب سے زیادہ مقبول عام قیادت کی دوڑ میں اور ہوڑ میں آگے بڑھنے لگے۔ اڈوانی جی کا تینوں سپہ سالاروں میں سب سے زیادہ جھکاؤ ارون جیٹلی کی طرف ہے، لیکن ارون جیٹلی واحد ایسی شخصیت ہیں، جنہیں لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی کا ہر لیڈر شک و شبہ میں مبتلا رہتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ ارون جیٹلی کے پاس ایسا مقوی دماغ ہے، جو کسی کو کبھی بھی زمیں بوس کر سکتا ہے۔ بی جے پی میں کتنی طرح کی سازشیں چل رہی ہیں، اسے شاید بی جے پی کے لیڈر بھی نہیں بتا سکتے۔ لال کرشن اڈوانی کو لگا کہ ان کے تینوں سپہ سالاروں میں نریندر مودی اپنا دعویٰ پیش کریں گے اور ارون جیٹلی ان کا ساتھ دیں گے تو انہوں نے سنجے جوشی کے اوپر ہاتھ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ پہلے سنجے جوشی کو پارٹی سے باہر کرنے میں اڈوانی جی نے اہم رول نبھایا تھا، لیکن اس بار انہیں لگا کہ نریندر مودی کو اگر کوئی آدمی دائرے میں رکھ سکتا ہے تو وہ سنجے جوشی ہو سکتے ہیں۔ جیسے ہی اڈوانی جی کی اس رائے کا علم ان کے باقی دونوں سپہ سالاروں کو ہوا، ان لوگوں نے اڈوانی جی کی مرضی کے برعکس، سنجے جوشی کے خلاف پیش بندی شروع کر دی۔ یہ پیش بندی نریندر مودی کے حق میں انہوں نے کی۔ یہ پیش بندی بھی ایک سازش کے تحت ہوئی۔ دراصل، سنجے جوشی کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ سنگھ کے پرانی نسل کے کارکنوں کی طرح کام کرتے ہیں، ان کے ساتھ بی جے پی کا عام کارکن ہے اور وہ واحد ایسے شخص ہیں، جو نریندر مودی کو کاٹ سکتے ہیں یا نریندر مودی کو ادب کے دائرے میں رکھ سکتے ہیں۔ ان لوگوں نے طے کیا کہ پہلے تو سنجے جوشی کو سیاسی طور پر ختم کیا جائے، اس کے بعد جو بچے ہوئے دوسرے لوگ ہیں، انہیں نریندر مودی کے ذریعے ختم کیا جائے اور آخری لڑائی تین یا چار لوگوں کے درمیان میں ہو، جن میں جس کے پاس دماغ تیز ہوگا، وہی بازی جیتے گا۔
ارون جیٹلی نریندر مودی کا اس وقت ساتھ دے رہے ہیں۔ ارون جیٹلی کے پاس دماغ ہے، پیسہ ہے، قومی و بین الاقوامی سرمایہ داروں کی حمایت حاصل ہے۔ بس ان کے پاس ایک ہی کمی ہے کہ ان کے پاس عوامی حمایت نہیں ہے۔ اس لیے وہ خود کو آخری لڑائی میں تیسرا یا چوتھا جنگجو مان رہے ہیں۔ سریش سونی اِس چال کو یا اس حکمت عملی کو سمجھ نہیں پائے۔ نہ سمجھنے کے پیچھے سنگھ کے کچھ لیڈروں کا کہنا ہے کہ بہت عام وجہ ہے اور وہ عام وجہ پرانی ہے کہ سریش سونی کو سیاست کا الف، بے نہیں آتا۔ اس کے لیے وہ مدھیہ پردیش کی مثال دیتے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے موجودہ بی جے پی صدر پربھات جھا وہاں میڈیا سیل میں تنخواہ دار کارکن کے طور پر کام کرتے تھے، لیکن انہوں نے سریش سونی کی انا کو مطمئن کیا۔ سریش سونی پہلے انہیں راجیہ سبھا میں لائے اور پھر مدھیہ پردیش بی جے پی کا صدر بنوا دیا۔ لیکن بی جے پی کے کچھ لوگ اسے سریش سونی کی دور اندیشی بھی بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سریش سونی نے پربھات جھا کی کام کرنے کی طاقت اور صلاحیت کو کافی پہلے پہچان لیا تھا اور انہوں نے ایک عام کارکن کو پارٹی کا صدر بناکر پارٹی کو مضبوطی عطا کی۔
سنگھ کے وفادار کارکنوں کی رائے ہے کہ سریش سونی کو وہی پسند آتا ہے، جو ان کی چاپلوسی کرتا ہے، جو ان کے قصیدے پڑھتا ہے یا جو ان کی خدمت کرتا ہے۔ ان ساری چیزوں میں سیاست داں ماہر ہوتے ہیں۔ نریندر مودی نے سنگھ میں سریش سونی کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ دونوں میں ایک بات مشترک ہے، نریندر مودی سیاست میں اپنے ہم مقابل کسی کو نہیں سمجھتے، اسی طرح سریش سونی بھی سنگھ میں اپنے ہم مقابل کسی کو نہیں سمجھتے۔ نریندر مودی نے یہ شرط رکھی کہ یا تو سنجے جوشی رہیں گے یا تو میں رہوں گا اور سنجے جوشی ایگزیکٹیو کی میٹنگ میں آتے ہیں تو میں نہیں آؤں گا۔ اس پر سنجے جوشی نے فیصلہ لیا کہ وہ اس ایگزیکٹیو میں

رہیں یا نہ رہیں، پارٹی کے عام کارکن بنے رہیں گے۔ جب سریش سونی نے یہ فیصلہ لیا کہ سنجے جوشی کے رہنے یا نہ رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ان سے استعفیٰ لے لینا چاہیے، تاکہ نریندر مودی ممبئی کی ایگزیکٹیو میں شامل ہو سکیں تو سنگھ کے وفادار لوگوں کو بہت دکھ ہوا۔ سنگھ کے وفادار لوگوں کو لگا کہ سنگھ کا کردار بھی تبدیل ہو گیا ہے، کیوں کہ جب وی پی سنگھ کی سرکار تھی تو اس وقت بی جے پی اور اس وقت کے وزیر اعظم کے درمیان یہ گفتگو چل رہی تھی کہ شلانیاس دوسری جگہ کر لیا جائے۔ اس وقت سنگھ کے لیڈروں نے، جن میں بھاؤ دیو رَس اہم تھے، کہا کہ سرکار رہے یا جائے، شلانیاس وہیں ہوگا۔ نتیجہ کے طور پر اڈوانی کو رتھ یاترا نکالنی پڑی۔ وی پی سنگھ کی سرکار چلی گئی۔ حالانکہ شلانیاس آج تک نہیں ہو پایا، پر آج سنگھ کے لیڈروں میں وہ بات نہیں ہے۔ سنجے جوشی کے خلاف ایک سی ڈی آئی، جس کی وجہ سے انہیں بی جے پی سے استعفیٰ دینا پڑا اور بعد میں گجرات ایس آئی ٹی نے کہا کہ یہ سی ڈی فرضی ہے، سنجے جوشی بے قصور ہیں۔ اس کے باوجود سنجے جوشی کو سنگھ میں یا بی جے پی میں خود کو دوبارہ بحال کرنے میں سات سال لگ گئے اور اب، جب سنجے جوشی نے کام کرنا شروع کیا، تب نریندر مودی نے یہ شرط رکھ دی کہ سنجے جوشی کے رہتے نہ وہ ایگزیکٹیو کی میٹنگ میں جائیں گے اور نہ گجرات بی جے پی کا کوئی رکن پارٹی کی مرکزی قیادت کے ساتھ تعاون کرے گا۔
سنجے جوشی سے استعفیٰ لینے کے پیچھے ایک مزیدار کہانی ہے۔ ممبئی ایگزیکٹیو کے وقت جب فیصلہ لینے کا موقع آیا تو اس میٹنگ میں لال کرشن اڈوانی اور ارون جیٹلی نہیں تھے، نتن گڈکری خاموش تھے۔ تمام ممبران نے کہا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے، سنجے جوشی سے استعفیٰ نہیں مانگنا چاہیے۔ جب یہ معاملہ سریش سونی کے پاس گیا، تو انہوں نے کہا کہ سنجے جوشی ایگزیکٹیو میں رہیں یا نہ رہیں، لیکن نریندر مودی کا رہنا ضروری ہے، کیوں کہ نریندر مودی نہ صرف گجرات کے وزیر اعلیٰ ہیں، بلکہ بی جے پی کے ہندوتوا والے چہرے کی علامت بھی ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کے ڈیموکریٹک فیصلے کے خلاف ویٹو کر دیا اور خود سنجے جوشی سے کہا کہ وہ استعفیٰ دے دیں۔ سنجے جوشی نے استعفیٰ دے دیا اور نریندر مودی شام کو خصوصی طیارہ سے ممبئی ایگزیکٹیو میں شامل ہونے پہنچ گئے۔ جن لوگوں نے اسٹیج کا وہ نظارہ دیکھا، ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کے ساتھ نتن گڈکری چل رہے تھے اور دونوں کی باڈی لینگویج ایسی تھی، گویا شیر کے ساتھ چوہا چل رہا ہو۔ وہیں پر کچھ لیڈروں نے آپس میں کہا کہ آج سے نریندر مودی کے مکھوٹے کی شکل میں نتن گڈکری دیکھے جائیں گے اور وہاں نتن گڈکری کی باڈی لینگویج بالکل مکھوٹے جیسی تھی۔
سریش سونی نے سنجے جوشی سے استعفیٰ تو لے لیا، مگر پورے ملک میں کارکنوں میں اس کا سخت رد عمل ہوا۔ اس سخت رد عمل سے سریش سونی گھبرا گئے اور انہوں نے بی جے پی کے ماؤتھ پیس، کمل سندیش میں پربھا ت جھا سے ایک اداریہ لکھوایا، جس میں انہوں نے نریندر مودی کی تنقید کروائی۔ اس اداریہ میں نام پربھات جھا کا ہے، لیکن الفاظ سریش سونی کے ہیں۔ اس قدم سے سریش سونی نے کارکنوں میں پیدا ہونے والے غصے سے خود کو بچانے کی کوشش کی۔ کارکنوں میں اتنا سخت رد عمل ہوگا، اسے سنگھ، خاص کر سریش سونی سمجھ ہی نہیں پائے۔ جتنے لوگ نتن گڈکری کے گھر پر نہیں ہوتے ہیں، اس سے سو گنا زیادہ لوگ سنجے جوشی کے گھر پر ہمیشہ ہوتے ہیں۔ ملک بھر کے کارکن ان سے ملنے آتے ہیں۔ اس صورتِ حال کو دیکھ کر ہی لال کرشن اڈوانی نے بی جے پی کی قیادت کو ایک نصیحت دے ڈالی، جس میں انہوں نے کہا کہ پارٹی اس طرح نہیں چلائی جاسکتی اور نہ چلائی جاتی ہے۔ دراصل، لال کرشن اڈوانی بھی نتن گڈکری کو دوسرا ٹرم دینے کے خلاف ہیں۔ اڈوانی جی کا ماننا ہے کہ 25-30 سال پارٹی چلانے کے بعد سینئر لوگ ایک نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ پارٹی میں صدر کو صرف ایک ٹرم ہی رہنا چاہیے۔ پہلے بی جے پی میں دو سال کے لیے صدر ہوتا تھا، پھر دستور میں ترمیم کرکے ایک ہی آدمی دو دو سال کے لیے دو بار منتخب کیا جانے لگا۔ اب ترمیم ہوئی کہ دو سال نہیں، تین سال کے لیے صدر ہو اور اب نئی ترمیم یہ ہوئی ہے کہ تین تین سال کے لیے ایک ہی آدمی دوبار صدر منتخب کیا جاسکتا ہے۔
اڈوانی جی کا ماننا ہے کہ بی جے پی جیسی سیاسی جماعت میں ایک صدر صرف ایک ہی ٹرم کے لیے ہونا چاہیے۔ اڈوانی جی کی ہر ممکن کوشش یہ ہے کہ نتن گڈکری دوبارہ صدر نہ بن پائیں۔
اس صورتحال نے دو افراد کونزدیک لا دیا ہے۔ ان دنوں لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی ایک ساتھ حکمت عملی بناتے نظر آ رہے ہیں۔ بی جے پی میں گزشتہ 20 سالوں میں جو نہیں ہوا، وہ اب ہوتا نظر آ رہا ہے۔ گزشتہ 20سالوں میں مرلی منوہر جوشی اور لال کرشن اڈوانی کبھی ایک ساتھ سیاست کرتے نظر نہیں آئے۔ دونوں سے ملنے جلنے والے لوگ ایک دوسرے کے تئیں تلخی کے گواہ رہے ہیں، لیکن اب لال کرشن اڈوانی نے پہل کی ہے، جس کا جواب مرلی منوہر جوشی نے دیا ہے اور اب دونوں اس وقت ایک ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ اس وقت اڈوانی جی کی خواہش یہ ہے کہ بی جے پی کا صدر مرلی منوہر جوشی کو ہونا چاہیے اور مرلی منوہر جوشی کی قیادت میں ہی 2014 کا انتخاب لڑا جانا چاہیے۔ اس طرح کی خواہش اڈوانی جی نے اپنے نزدیکی لوگوں سے ظاہر کی ہے۔
اس وقت سنگھ اس بات کو لے کر تشویش میں ہے کہ بی جے پی میں گروہ بندی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایک لیڈر دوسرے لیڈر کو پھوٹی آنکھ نہیں دیکھنا چاہ رہا ہے۔ سریش سونی اس بات کو لے کر فکر مند ہیں کہ کہیں ان کا حشر بھی مدن داس دیوی کی طرح نہ ہو اور انہیں بی جے پی کے ایگزیکٹیو کے عہدہ سے کہیں سنگھ کی آئندہ ہونے والی میٹنگ میں ہٹا نہ دیا جائے۔ رام لال جی اس بات سے فکر مند ہیں کہ کہیں ان کی جگہ سنجے جوشی نہ آجائیں۔ رام لال جی اس وقت وزیر تنظیم ہیں اور وہ سنجے جوشی کو وزیر تنظیم نہ بننے دینے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ اڈوانی جی سنجے جوشی کو نکالنے کے لیے پہلے نریندر مودی کے ساتھ تھے اور اچانک انہیں لگا کہ کہیں ایسی غیر متوقع صورتحال پیدا نہ ہو جائے کہ ان تمام غلط فہمیوں کے درمیان سنجے جوشی وزیر اعظم کے عہدہ کا دعویٰ کر بیٹھیں۔ انہیں لگا کہ کہیں ایسا ہوا تو ان کا کیا ہوگا، کیونکہ یہ بات اب تیزی سے چل پڑی ہے کہ 75سال سے زائد کی عمر کے تمام لوگ سیاست سے سبکدوش ہو جائیں ۔اس کے لیے اڈوانی جی نے پہلی لائن یہ لی کہ نتن گڈکری صدر ہی نہ بنیں، کوئی اور صدر بنے، ممکن ہو تو مرلی منوہر جوشی صدر بنیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ میں اب انتخاب نہیں لڑوں گا، میں چاہتا ہوں کہ پارٹی ٹھیک سے چلے ۔ نتن گڈکری نے اپنے آپ کو دوبارہ صدر بنوانے کے لیے نریندر مودی سے ہاتھ ملا لیا ہے اور اس کے لیے سنجے جوشی کی قربانی دے دی گئی ہے۔ حالانکہ یہی نتن گڈکری سنجے جوشی کو پارٹی میں واپس لائے تھے اور انہیں اتر پردیش الیکشن کا انچارج بنایا تھا۔ سریش سونی اپنا نیا گروپ بنا رہے ہیں اور چونکہ نریندر مودی دو بار گجرات کا انتخاب جیت چکے ہیں، اس لیے اسے نشہ کہیں یا ان کی خوداعتمادی ، ان کا یہ ماننا ہے کہ آسانی سے نہ صرف وہ گجرات کا الیکشن جیتیں گے ، بلکہ وہ ملک کے وزیر اعظم بھی بنیں گے۔
اس غلط فہمی میں پارٹی کی ایسی کی تیسی ہو رہی ہے۔کمال کی بات ہے، جس میٹنگ میں گجرات بی جے پی کے نائب صدر کے خط پر فیصلہ لیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ جب تک سنجے جوشی ایگزیکٹیو کے ممبر رہیں گے، نریندر مودی ایگزیکٹیو میں نہیں آئیں گے، وہاں سبھی لوگوں نے کہا ، جن میں مرلی منوہر جوشی اہم طور پر شامل تھے کہ یہ غلط بات ہے، اس طرح کی شرط نہیں ماننی چاہیے۔ اس کے بعد سریش سونی کے کہنے سے فیصلہ ہوا اور جب نتن گڈکری سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ انہیں تو سریش سونی نے کہا کہ فیصلہ لے لو، اس لیے انھوں نے فیصلہ لے لیا۔اب بی جے پی کی ڈسپلن کا دیوالیہ پن صاف صاف نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف پارٹی کا صدر سنجے جوشی سے استعفیٰ لیتا ہے تو دوسری طرف پارٹی کے مائوتھ پیس کمل سندیش میںنریندر مودی کے خلاف اداریہ لکھا جاتا ہے اور تیسری طرف انگریزی کے مائوتھ پیس ’’آرگنائزر‘‘ میں نریندر مودی کی تعریف ہوتی ہے۔ ’’آگنائزر ‘‘کے ایڈیٹر مودی کے نزدیکی ہیں، کمل سندیش کے ایڈیٹر سریش سونی کے قریبی ہیں۔ اب اس سے بڑی مثال پارٹی کی ڈسپلن کے دیوالیہ پن کے لیے اور کیا ہو سکتی ہے۔’کمل سندیش ‘ کے اداریہ میں تنظیم، شخص، اہمیت، محبت ، ساتھی، ضرورت، کانفیڈنس اور کوآپریشن، سب کے اوپر تقریرہے۔ یہ سب سنجے جوشی کی حمایت میں لکھا گیا ہے، لیکن ’آرگنائزر‘ میں نریندر مودی کو ملک کا مستقبل بتا دیا گیا ۔
ان سب کے پیچھے کون ہے، اس راز کا پتہ جب ہم نے لگایا، تو ہمیں معلوم ہوا کہ اس کے پیچھے ملک کا ایک بہت بڑا شخص ہے، جن کا بی جے پی کی سیاست میں بہت بڑا دخل رہا ہے اور جن کا نام ایس گرومورتی ہے۔ گرومورتی ملک کے بڑے چارٹرڈ اکائونٹنٹ ہیں، چنئی میں رہتے ہیں اور ان کا رشتہ ملک کے ان بڑے صنعت کاروں سے ہیں، جو ملک کو چلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ سنگھ کے ہمارے ذرائع کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی اس تمام حکمت عملی کے پیچھے گرومورتی کا دماغ اور حکمت عملی ہے۔گرومورتی یہ چاہتے ہیں کہ ان تمام لوگوں کو کنارے کر دیا جائے، جو نریندر مودی کے راستہ میں اب سے لے کر 2014 تک آ سکتے ہیں۔ لیکن سنگھ کے اس سینئر لیڈر نے ہم سے یہ بھی کہا کہ چارپائی صرف چار پایوں سے نہیں بنتی ہے، اس کے لیے نواڑ کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور اگر نواڑ نہ ہو تو، آدمی کے لیے چارئی کے کوئی معنی نہیں ہوتے۔ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوںکو ہٹانے کی بات گرومورتی نریندر مودی کے لیے کر رہے ہیں، وہ سبھی نواڑ ہیں، ان کے بغیر نریندر مودی کو چارپائی نصیب نہیں ہونے والی۔ گرومورتی جی بھی کمال کی شخصیت ہیں۔گرومورتی امبانی برادران کے دوست رہے ہیں اور دوست رہتے ہوئے انھوں نے ایل این ٹی کے دوحصے کرا دیے، جس کا ایک حصہ انھوں نے کمار منگلم بڑلا کو فروخت کرا دیا۔گرومورتی نے اپنے دوستوں سے کہا کہ میں نے یہ کام کمار منگلم بڑلا کے لیے اس لیے کیا، کیونکہ وہ میرے دوست ہیں۔ پہلے گرومورتی اٹل بہاری واجپئی کے ساتھ تھے، پھر گوونداچاریہ کے ساتھ ہوئے اور اب نریندر مودی کے لیے حکمت عملی بنا رہے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سنگھ کے پاس آج بھی سب سے زیادہ طاقت ہے اور بغیر اس کی رائے کے بی جے پی میں پتہ بھی نہیں ہلتا۔ موہن بھاگوت اور بھیا جی جوشی، یہ دونوں اہم فیصلہ کن کردار میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ میں ہیں۔ انہی دونوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ 75سال کے تمام لیڈر بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی سے الگ ہو جائیں۔ جب یہ الگ ہو جائیں تو پھر پینتالیس، پچاس اور ساٹھ سال کی عمر کے لیڈر سامنے آئیں گے، جو موہن بھاگوت اور بھیا جی جوشی سے جونیئر ہوں گے۔ انہیں لگتا ہے کہ تبھی سنگھ کا وہ تسلط قائم ہوگا، جو دیورس جی کے وقت بی جے پی کی حکمت عملی کے اوپر تھا۔ ان دونوں کی بات چیت سے ہمیشہ ایک بات نکلتی ہے کہ جب رابطہ آر ایس ایس کا، کارکن آر ایس ایس کے اور ساکھ آر ایس ایس کی تو پھر بی جے پی کے لیڈر آر ایس ایس کی بات پوری طرح کیوں نہیں مانتے۔ آر ایس ایس کا ردعمل ظاہر کرنے کا طریقہ بہت ہی الگ ہے۔ کہتے تو یہ ہیں کہ اگر توے کے اوپر انگلی چھو جائے تو پورے جسم کو درد ہوتا ہے ، لیکن آر ایس ایس اس اصول سے بالکل الگ ہے۔ کچھ بھی ہو جائے، وہ دھیان نہیں دیتے اور کافی دیر بعد ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آر ایس کی قیادت کو اس پورے واقعہ کی خبر ہے؟ عام دماغ سے سوچیں تو کہا جا سکتا ہے کہ آج جب اخبار ہیں، ٹیلی ویژن ہے، ان کی پارٹی ہے تو انہیں سچائی کا علم ضرور ہوگا۔ لیکن آر ایس ایس کوجاننے والے یہ کہتے ہیں کہ آر ایس ایس کو اس واقعہ کی حقیقت کا ابھی تک علم نہیں ہوا ہے۔ اگلے دو مہینوں میں جب ان کی میٹنگ ہوگی اور انہیں ان کے ہی ذرائع بتائیں گے کہ کیا ہوا، کیسے ہوا، تب انہیں پتہ چلے گا کہ حقیقت کیا ہے، لیکن تب تک اس واقعہ کو مہینوں گزر چکے ہوں گے۔
نریندر مودی کا کیس ایک معاملہ میں آنکھ کھولنے والا بھی ہے۔کھلے عام نریندر مودی نے آر ایس ایس کی توہین کی ہے اور اس کے فیصلہ کے خلاف اپنی باتیں منوائی ہیں ۔ اگر نریندر مودی وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار بنائے جاتے ہیں تو یہ مان لینا چاہیے کہ آر ایس ایس کا تسلط بی جے پی کے اوپر سے ختم ہو گیا ہے۔ وہیں دوسری طرف ہمیں ایک اور اطلاع ملی ہے کہ یہ ماسٹر پلان خود آر ایس ایس کا ہے۔ سنگھ کا یہ ماننا ہے کہ نریندر مودی ملک کے سب سے زیادہ قابل قبول لیڈر تب تک نہیں بن سکتے، جب تک ان کے اوپر سنگھ کی چھاپ رہے گی اور سنگھ سے مسلمانوں کو تو چھوڑ ہی دیجیے، بی جے پی کی معاون جماعتوں کا بھی عدم اتفاق ہے۔ وہ مشکل سے نریندر مودی کو این ڈی اے کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدہ کا دعویدار قبول کریں گے۔ اس لیے آر ایس ایس نے یہ منصوبہ بنایا کہ نریندر مودی کو گالی دی جائے،نریندر مودی کو آر ایس ایس کی بات نہ ماننے والا شخص قرار دیا جائے اور نریندر مودی آر ایس ایس کے کئی فیصلوں کے اوپر انگلی اٹھائیں، تاکہ انہیں این ڈی اے میں کم سے کم قابل قبول لیڈر کی شکل میں منوایا جا سکے۔
جس واقعہ کو لے کر سنجے جوشی نے استعفیٰ دیا، وہ واقعہ تھا پورے ملک میں سنجے جوشی کی حمایت میں لگائے گئے پوسٹر۔ ان پوسٹروں میں سنجے جوشی کو بڑا لیڈر بتایا گیا اور اس سے یہ لگا کہ نریندر مودی سے بی جے پی اور سنگھ کاکارکن ناراض ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ پوسٹر لگوائے کس نے ہیں، کیا یہ پوسٹر نریندر مودی نے لگوائے، کیا یہ پوسٹر سنجے جوشی نے لگوائے؟ ہماری اطلاع یہ بتاتی ہے کہ یہ پوسٹر نہ نریندر مودی نے لگوائے، نہ سنجے جوشی نے۔ یہ پوسٹر خود آر ایس ایس نے پورے ملک میں لگوائے، تاکہ نریندر مودی کی شبیہ کو نکھارا جا سکے۔ نریندر مودی کو قابل قبول لیڈر کی شکل میں وزیر اعظم کے عہدہ کا دعویدار پیش کرنے کی سمت میں یہ پہلا قدم مانا جا سکتا ہے۔ یہ پوسٹر اور یہ تمام واقعات جہاں نریندر مودی کو سب سے زیادہ قابل قبول وزیراعظم کے عہدہ کا امیدوار بنانے کی سمت میں سنگھ کا قدم ہے، وہیں یہ شری لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی جیسے لیڈروں کی حکمت عملی پر فل اسٹاپ لگانے کا بھی ایک اشارہ ہے۔ جسونت سنگھ ، یشونت سنہا اور شترو گھن سنہا جیسے لیڈر بھی اسپینٹ فورس مان لیے گئے ہیں۔ اس لیے ہو سکتا ہے، آئندہ پارلیمانی انتخابات میں ان پانچوں کو بی جے پی اپنا امیدوار نہ بنائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here