گینگ ریپ کے چاروں مجرمین کو سزائے موت کا فیصلہ: سماج کی اصلاح میں کتنا معاون؟

Share Article

اے یو آصف 
دہلی میں 16 دسمبر کے گینگ ریپ معاملے میں فاسٹ ٹریک عدالت کا فیصلہ آچکاہے جس پر عام لوگوں کی طرف سے ایک طرف اطمینا ن کا اظہار کیا جارہا ہے اور دوسری طرف سزائے موت کے مخالف افراد انسانی بنیادوں پر یہ کہہ کر مخالفت کر رہے ہیں کہ محض سزائے موت کے فیصلے سے سماج کی اصلاح نہیں ہوسکتی ہے ۔ان دونوں پہلوئوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ تحریر پیش خدمت ہے۔

13 ستمبر کو پچھلے برس 16دسمبر کو ہوئے گینگ ریپ کے معاملے میں جن چار ملزمین کو سزائے موت سنائی گئی، اس سے ملک میں انصاف کا سر یقینا اونچا ہوا ہے اور متاثرہ کے وارثین کے ساتھ ساتھ ان سے ہمدردی رکھنے والے تمام لوگوں کو اطمینان حاصل ہو اہے۔ان لوگوں کو بھی اطمینان حاصل ہوا ہے، جو اس سے قبل اس گینگ ریپ کیس میں کم عمر والے ایک نوجوان کو دی گئی تین برس کی سزا سے مطمئن نہیں تھے۔جن چار افراد کو سزائے موت ہوئی ہے ان میں 26 سالہ مکیش سنگھ ،28 سالہ اکشے ٹھاکر،19 سالہ پون گپتا اور 20سالہ ونے شرما ہیں۔

p-9ظاہر سی بات ہے کہ یہ اہم فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے ، جب خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں اور آئے دن سننے کو ملتے ہیں ،جس سے اس بات کا احساس پوری دنیا میں پھیلتا جارہاہے کہ اس ملک میں خواتین محفوظ نہیں ہیںیا پھر یہ ملک اپنی خواتین کی حفاظت نہیں کر پارہا ہے۔دراصل یہ وہی حالات تھے، جس کی پیش نظر ایڈیشنل سیشن جج یوگیش کھنہ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایسے وقت میں جبکہ خواتین کے خلاف جرائم عروج پر ہیں ،عدالتیں اس بہیمانہ عمل پر آنکھیں نہیں موند سکتی ہیں۔وکیل نکھل مہرا کے مطابق،اس فیصلے پر نظر ڈالتے ہی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس سزا میں دو عوامل محرک تھے۔ایک نقطہ محرک یہ تھا کہ یہ حملہ غلط اور غیر قانونی تھا اور دوسرا پورے عمل کو بے دردی سے انجام دیا جانا تھا۔اس پورے معاملے میں دو اور افراد ملزم قرار دیے گئے تھے جن میں سے ایک رام سنگھ تھے، جنہوں نے جیل کے اندر مبینہ طور پر خود کشی کرلی اور دوسرے کم عمر نوجوان تھے جنہیں قبل ہی تین برس کی سزا دیے جانے کا اعلان ہوچکا ہے۔خواتین کے حقوق سے متعلق سماجی کارکن خدیجہ فاروقی اس فیصلے کو قانون کے عین مطابق مانتی ہیں اور یہ بھی کہتی ہیں کہ ان کے خیال میں سزائے موت اس طرح کے معاملے کا واقعی حل نہیں ہے۔ان کے مطابق ایک ملک جس چیز کو دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ اسے لینے کا حق بھی نہیں رکھتا ہے۔سابق پولیس آفیسر اور حقوق انسانی کارکن کرن بیدی نے اپنے ٹیوٹر پوسٹ میں اس تعلق سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ سن کر بہت راحت ہوئی کہ درندے نما انسانوں کو جہنم میں بھیج دیا گیا۔ان کے مطابق اگر ایسا ہر معاملے میں ہوتا رہا تو ایک ہی پیغام جائے گا اور وہ یہ ہوگا کہ اگر آپ اس طرح کے جرم انجام دیں گے تو آپ کی جگہ جہنم ہوگی۔

اس فیصلے پر جہاں اطمینان کا اظہار کیا جارہاہے وہیں جو لوگ سزائے موت کے مخالف ہیں وہ اس سے اتفاق نہیں کر رہے ہیں۔سپریم کورٹ کے وکیل محمد کاظم شیر کہتے ہیں کہ جمہوریت میں جرم اور سزا کا فیصلہ عوام کی بھیڑ پر نہیں چھوڑا جاسکتا ہے ۔لہٰذا قانون ایک میڈیٹنگ ہتھیار(Mediating Device) ہے۔

اس فیصلے پر جہاں اطمینان کا اظہار کیا جارہاہے وہیں جو لوگ سزائے موت کے مخالف ہیں وہ اس سے اتفاق نہیں کر رہے ہیں۔سپریم کورٹ کے وکیل محمد کاظم شیر کہتے ہیں کہ جمہوریت میں جرم اور سزا کا فیصلہ عوام کی بھیڑ پر نہیں چھوڑا جاسکتا ہے ۔لہٰذا قانون ایک میڈیٹنگ ہتھیار(Mediating Device) ہے۔
جو لوگ آخر الذکر انداز سے سوچتے ہیں ان کا یہ کہنا ہے کہ ججوں کو خون کا پیاسا نہیں ہونا چاہئے۔قاتلوں کی پھانسی کبھی بھی ان کے لئے اچھی نہیں رہی ہے۔ دراصل یہ وہ بات ہے جو کہ1980 کے بچن سنگھ معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے کہی گئی تھی۔اس فیصلے میں ان ججوں نے سزائے موت کی آئینی حیثیت کو تسلیم کیا تھا، مگر اسی کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال کو محدود کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ سزائے موت بہت ہی مخصوص حالت میں دی جاسکتی ہے اور یہ اس معاملے میں دی جاسکتی ہے جب سزا دیے جارہے شخص کی اصلاح کی کوئی گنجائش باقی نہ بچتی ہو۔
اس لحاظ سے یہ سوال فطری ہے کہ ایک ایسے وقت جبکہ مذکورہ گینگ ریپ کے واقعہ کی بربریت سے ہر عام و خاص آدمی متاثر ہوگیا تھا اور سخت سے سخت سزا کا مطالبہ کررہا تھا،کیا اس بات کاخدشہ نہیں رہ جاتا ہے کہ اس تعلق سے دیے گئے فیصلے میں عوام کے جذبات کی ترجمانی ہوگئی ہو اور دوسرے پہلو نظر انداز ہوگئے ہوں؟
اسی جگہ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا اس جرم کے تعلق سے سزائے موت واحد ممکنہ قانونی یا سماجی جواب ہوسکتا ہے ؟ جج بھی آخر انسان ہیں ۔وہ اپنے ارد گرد ہونے والے کسی دردناک اور بربریت والے واقعہ سے فطری طورپر متاثر ہوتے ہیں اور اس تعلق سے عوام میں جو ہاہا کار مچتی ہے اس سے بھی وہ لا تعلق نہیں رہ سکتے ہیں۔مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس کے اثرات ان کے ذریعہ دیے گئے فیصلے پر کسی نہ کسی انداز سے پڑ جائیں۔
جو لوگ سزائے موت کے مخالف ہیں ان کی طرف سے یہ سوال بار بار کیا جاتا ہے کہ سزائے موت آخر کس مقصدکو پورا کرتی ہے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ ایسا ثبوت نہیں ہے کہ جس سے یہ کہا جاسکے کہ سزائے عمر قید کے مقابلے میں قتل جیسی واردات کو روکنے میں زیادہ معاون و مددگار ہوتا ہے۔ان افراد کی تو یہ بھی دلیل ہے کہ چند زانیوں کو پھانسی دے دینے سے کسی مقام کی گلیاں خواتین کے لئے محفوظ نہیں ہوجائیں گی اور خواتین اپنے گھر کے اندر بھی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھنے لگیں گی ۔بلکہ اس سے خواتین کی حفاظت کے اصل ایشوز سے توجہ ہٹ جائے گی اور اکا دکا سزائے موت کے فیصلے سے لوگ اطمینا ن حاصل کرکے چین کی نیند سونے لگیں گے اور پھر زبانی طور پر سیاست داں یہ دعویٰ کرتے رہیں کہ یہ لوگ خواتین کے خلاف ہورہے جرائم کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں۔ظاہر سی بات ہے کہ یہ سب زبانی جمع خرچ ہوگا ، جس میں کوئی عملی پہلو نہیں دکھائی پڑے گا۔یہ امر تعجب خیز نہیں ہے کہ اسی لئے متعدد تحریک نسواں کارکنان خواتین کے خلاف جرائم کے تعلق سے سزائے موت کی مخالف رہتے ہیں۔
قانون اور اخلاق موت کے مقابلے اصلاح کو ترجیح دیتے ہیں۔اصلاح بہت مشکل چیز ہے اور بیش قیمت بھی ہے۔کسی کی زندگی لینا آسان اور سستا کام ہے، لیکن اگر ہمدردی رحم اور انسانیت میں یقین اب بھی نیکیاں ہیں جس کی ہم قدر بھی کرتے ہیں، تو یہ سب کچھ ہمیں مجرم کی اصلاح کے لئے ابھارتا ہے بجائے اس کے کہ آسانی سے ان کے گلے میں اس وقت تک پھانسی کے پھندے کو تنگ کیا جاتا رہے جب تک کہ وہ دم نہ توڑ دے ۔ایک بار جب ہم اصلاح کا راستہ ترک کردیتے ہیں، تو سزا انتقام جیسی شکل اختیار کرلیتی ہے اور پھر ہم اسی اخلاقی سطح پر آجاتے ہیں جس پر ایک قاتل ہوتا ہے۔
ایک سماج کو انسانی قدروں اور جذبہ رحم سے سرشار ہونے کے لئے نیز اپنی نئی نسل میں اچھے جذبے اور قدروں کو ڈالنے کے لئے ہمیں خونی راستے پر چلنے سے بچنا ہوگا ۔ویسا تشدد جس کی ملک منظوری دیتا ہے اس سے تشدد ختم یا کم نہیں ہوسکتا ہے بلکہ اس سے وہ بڑھتا ہے۔مذکورہ بچن کیس میں سپریم کورٹ نے اسی لئے مذکورہ بالا فکر اپنے فیصلے میں ادا کی تھی۔جس کا مطلب صاف تھا کہ ججوں کو مجرم کی اصلاح کا پہلو کبھی اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہئے ،کیونکہ کسی فیصلے کا مقصد مجرم اور سماج کی اصلاح ہوتا ہے ، یہ کوئی ایسی چیز ہرگز نہیں ہوتی ہے جس میں انتقام کا پہلو کسی نہ کسی درجے میں محسوس ہو۔یہی وجہ ہے کہ مذکورہ گینگ ریپ کے تعلق سے فاسٹ ٹریک کی عدالت کے فیصلے سے یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا محض سزائے موت سے سماج کی اصلاح ہوجائے گی۔ اس سے دیگر لوگوں کو سبق تو یقینا ملے گا اور کسی جرم کے کرتے وقت وہ خوف میں مبتلا ہوں گے مگر عام طور پر ایسا ہوتا نہیں ہے ۔کسی بھی جرم کے رجحان میںکمی تبھی آسکتی ہے جب سماج میں اخلاقی اور انسانی قدروں کو فروغ ملے ۔دراصل یہ وہ نسخہ کیمیا ہے جس کا استعمال سماج کی اصلاح کے لئے کیا جانا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *