گاندھی کی کرم بھومی چمپارن بھی: انجمن اسلامیہ بنا ہوا ہے سیاست کا اکھاڑہ

Share Article

انتظار الحق

p-10bصدیوں سے مختلف مسائل میں گرفتار ہندوستانی مسلمان اپنے ہی سماج کے رہنماؤں کے ذاتی مفاد کے ناپاک سیاسی مکڑ جال میں چھٹپٹانے کو مجبور ہے۔ یہ معاملہ ہے بہار کے مشرقی چمپارن ضلع میں 1975میں قائم کیا گیا انجمن اسلامیہ کا، جو اپنے مقصد سے پوری طرح بھٹکا ہوا ہے۔ موجودہصورتحال یہ ہے کہ وقت کے تمام چیلنجوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلمانوں کے مسائل سے سروکار ختم کر کے یہ ادارہ سیاست کا اہم اکھاڑہ بن گیا ہے۔ اس کا مقصد اب صرف لاوارث لاشوں کو دفنانا ہی رہ گیا ہے۔ انجمن اسلامیہ کے قیام کے بعد مسلم دانشوروں نے جس طرح سے اس کی آبیاری کر کے اسے آگے بڑھایا، اس سے لوگوں میںبڑی امید جاگی اور انھیں لگا کہ یہ ادارہ ان کی رہنمائی کرتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے کارگر قدم اٹھائے گا۔ اپنے قیام کے بعد کچھ دہائی تک اس ادارہ نے کئی کامیابیاں حاصل کیں، لیکن گزشتہ دہائی سے یہ ادارہ اپنے مقصد سے کافی دور چلا گیا۔ ادارہ کے ذمہ دار اس کی کروڑوں روپے کی جائیداد پر کاہل سانپ کی طرح کنڈلی مار کر بیٹھ گئے۔ اس ادارہ میں عہدوں کے لیے ہونے والی سیاسی مقابلہ آرائی اسلامی تہذیب کی حدیں پھلانگ کر ذاتی لڑائی کی شکل لے چکی ہے۔ انجمن کے صدر و سیکریٹری عہدوں کے لیے مسلم سماج کے کئی قد آور لوگ ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے ساتھ ساتھ اپنی قابلیت اور دبنگئی دکھانے کے لیے کئی بار تمام حدیں پار کر چکے ہیں۔ مشرقی چمپارن کے مسلمانوں کے دو گروپ اس انجمن پراپنا قبضہ جمانے کے لیے کئی بار آمنے سامنے آچکے ہیں۔ ایک گروپ شہر کے مشہور طبیب ڈاکٹر پرویز کا ہے، تو دوسرا گروپ ڈاکٹر انوارالحق و نگر پریشد کے ڈپٹی چیف کونسلر محب الحق خاں کا ہے۔ صورتحال، ماحول اور جوڑ توڑ کی سیاست کے سبب ان گروپوں کے حامیوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ انجمن پر ابھی ڈاکٹر پرویز کا قبضہ ہے، لیکن ان کا گروپ بھی اس اہم ادارہ کی مریادہ کو قائم رکھنے اور اس کی جائیداد کا صحیح استعمال کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ موجودہ کمیٹی تعلیم کا الکھ جگانے کے مقصد سے سال میں ایک دو بار تعلیمی بیداری کانفرنس کا اہتمام کرکے خانہ پُری کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری ختم کرلیتی ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ انجمن کے پاس کروڑوں روپے کی اپنی جائیداد ہے اور ہر سال لاکھوںروپے زکوٰۃو فطرہ کی مد میں آتے ہیں۔ انتخاب جیت کر مسلمانوں کی رہنمائی کرنے کی منشا لیکر یہاں آنے والوں کی منشا اگر صاف ہوتی، تو انجمن کی جائیداد کا بہتر استعمال ہوتا اور مشرقی چمپارن میں مسلمانوں کے لیے تعلیمی و سماجی شعبہ میں کئی اہم اور تاریخی کام انجام پاسکتے تھے۔ انجمن کا انتخاب تین سال میں ہوتا ہے او ر57علاقوں سے ارکان منتخب ہو کر یہاں آتے ہیں۔ کسی رکن ا ور کسی اہلکار کو کوئی تنخواہ نہیں ملتی ہے، پھر بھی ارکان عہدے کے لیے تمام حدیں پار کر جاتے ہیں۔ پچھلے انتخاب میںایسے کئی معاملے سامنے آئے، جن کے سبب مسلمانوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ معاملہ ہاتھا پائی سے ہوتے ہوئے خون خرابے تک پہنچ گیا۔ موتیہاری جامع مسجد میںواقع انجمن کے دفتر میں چل رہے انتخانی عمل کے دوران پولیس دستہ کو انتظامیہ نے مستعد کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ موتیہاری نگر پریشد کے ڈپٹی اسپیکر محب الحق خاں کے جان پُل محلہ میں انتخاب سے پہلے جم کر مار پیٹ ہونا اور ہنگامہ کے سبب الیکشن آفیسر کے ذریعہ انتخاب منسوخ کر دینا انجمن اسلامیہ کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ تھا۔ انتخاب جیتنے کے لیے امیدواروں نے تمام ضابطوں کو طاق پررکھ دیا اور سماج کے کئی اہل امیدواروں کو سازش کر کے ہرادیا گیا، جس کا تذکرہ بعد میں بھی ہوتا رہا۔ انتخاب جیت کر انجمن کا ممبر بننے کے لیے جس طرح کا ڈرامہ یہاں کھیلا گیا، اس سے صاف ہوگیا کہ ممبران کو سماج و قوم کی خدمت سے کم ا وراپنی خدمت میں دلچسپی زیادہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انتخاب جیت کر آنے والے سبھی ایک جیسے نہیں ہیں اور ان میں اچھے لوگ بھی ہیں، لیکن الیکشن جیت کر زیادہ تر وہی لوگ انجمن میں آئے ہیں، جن کا سماج و قوم سے دور دور تک واسطہ نہیں ہے۔ شاعر، صحافی گلریز شہزاد کا کہنا ہے کہ انجمن اسلامیہ مسلم فرقہ کا نمائندہ ادارہ ہے، اسے مسلم فرقہ کی ترقی اور اس کے مسائل کے حل کے لیے کام کرنا چاہیے۔ ان دنوں انجمن کا جو خراب کردار ابھر کر سامنے آیا ہے، اس سے ہر طرف ایک غلط پیغام گیا ہے، جو بد قسمتی کی بات ہے۔ بڑے مقصد کے لیے ذاتی مفاد کو قربان کرنا پڑے گا، وہیں موتیہاری کے ڈپٹی چیف کونسلر و انجمن کے ممبر محب الحق خان موجودہ کمیٹی پرادارہ کی رقم و جائیداد کے بیجا استعمال کرنے کاالزام لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ انجمن کے آئین کی کھلی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور جنرل باڈی سے تجویز لائے بغیر کام کرائے جارہے ہیں۔ دوسری طرف سکریٹری عدالت حسین سبھی الزامات کو بے بنیاد بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ انجمن کے سبھی کام دستور کے مطابق ہوتے ہیں۔ اس علاقے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ گاندھی جی کی سرگرمیوں کا آغاز یہیں سے ہوا تھا اور گاندھی کو یہاں کے مسلمانوں کی زبردست حمایت ملی تھی۔ لہٰذا وقت کا تقاضہ ہے کہ اس علاقے کے وقار اور عظیم تاریخ کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کے اس تاریخی ادارے کو بچایا جائے اور اسے سیاست کا اڈّا نہ بننے دیا جائے۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *