دنیا پر چھایا فٹبال کا خمار

Share Article

اسد مفتی، ایمسٹرڈیم،ہالینڈ

انیس سو تیس سے شروع ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کا یہ 19واں ایڈیشن ہے۔ ایک اندازے کے مطابق لگ بھگ ایک لاکھ افراد اسٹیڈیم میں موجود تھے جب کہ دنیا بھر میں دو ارب سے زائد افراد براہ راست ٹی وی پر میچ دیکھنے والوں میں شامل ہیں۔
جیساکہ آپ جانتے ہیں ان دنوں دنیا (با لخصوص یوروپ) کو فٹ بال کا بخار چڑھا ہوا ہے۔ قریباً ایک ماہ تک یوروپ کے اخبارات، رسائل اور الیکٹرانک میڈیا میں ایک ایسے کھیل کا ذکر ہوتا رہے گا جسے بر صغیر ہند وپاک میں ڈھنگ سے کھیل بھی نہیں پاتے اور میری رائے میں کسی ایسے کھیل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا جس میں ہاتھ استعمال نہ ہوتے ہوں لیکن اس’’ جنونی کھیل ‘‘کا تو کچھ اتنے مبالغہ سے ذکر ہوتا رہا ہے کہ دوسرے تمام کھیل اور خبریں پس دیوار چلی گئی ہیں۔ ہم ان دنوں یہ بھی بھول گئے ہیں کہ غزہ کا محاصرہ کرکے فلسطینیوں کو سزادی جارہی ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ایران نے چین کو کاغذی شیر کیوں کہا ہے؟ ہمیں اس میںبھی کوئی دلچسپی نہیں کہ ہالینڈ میں تارکین مخالف فریڈم پارٹی پارلیمنٹ میں دونشستوں سے چھلانگ لگاکر 29نشستوں پر قابض ہوگئی ہے۔ ہمیں اس سے بھی کوئی غرض نہیں ہے کہ ہر سال 10ہیکڑ زمین سے درخت کاٹے جارہے ہیں اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ پاکستان میں غربت ، بے روزگاری اور زر مبادلہ بڑھ رہا ہے۔ہاںہمیں یہ یاد رہاہے کہ کونسی ٹیم کس ٹیم سے ہار ی یا جیتی ہے۔چونکہ کھیل آج کے معاشرہ کا ایک اہم جز بن چکا ہے جب کہ فٹ بال اور کرکٹ کا کھیل ایک انڈسٹری، ایک منافع بخش صنعت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس برس فٹ بال مقابلوں پر میزبان ساؤتھ افریقہ کو چھ بلین یورو کا منافع متوقع ہے۔ اس کھیل کے توسط سے معاشی فوائد کا ایک سلسلہ شروع ہوچکا ہے جس سے لاکھوں افراد وابستہ ہیں۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ پاکستان کے ایک با اصول اور نامور سیاست داں میر غوث بخش مرنجوئے مرحوم جوانی میں متحدہ ہندوستان کے قومی سطح کے فٹبالر رہے تھے ۔ انہوں نے ایک بار مجھے بتایاتھا ’’ حیر ت ہے کہ کرکٹ جو فٹبال کی نسبت ایک مہنگا کھیل ہے اور جو انگریز آقا کی دین ہے اسے تو ہم نے سینے سے لگا رکھا ہے مگر انگریز ہی کا عطا کردہ کھیل فٹ بال کو ہم قومی سطح پر بھلا بیٹھے ہیں حالانکہ اس کھیل کے لئے ہندو پاک کی آب وہوا اور ماحول بے حد مناسب ہے اور ہماری معاشی حالت کو مد نظر رکھ کر اس کھیل کو فروغ دیا جا سکتا ہے مگر خدا جانے کرکٹ کے مقابلے میں ہم فٹ بال کو اتنا کیوں اچھوت سمجھتے ہیں۔‘‘
ورلڈ کپ فٹ بال کی 80 سالہ تاریخ کی یہ تلخ حقیقت ہے کہ فٹ بال جیسے عالمی کھیل میں پاکستانی ٹیم نہ صرف بہت پیچھے ہے بلکہ اس کا وجود بھی ہے کہ نہیں ہے جیسا معاملہ ہے، لیکن پاکستان میں شائقین فٹ بال اس کھیل میں دلچسپی ضرور لے رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی ورلڈ کپ فٹ بال کا جوش اپنے عروج پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن میرے حساب سے اب وقت آگیا ہے کہ اس کھیل میں مزید چمک لانے کے لئے اس میں کچھ تبدیلیاں کرنی ہوںگی۔ فیفا کو لگ بھگ دو ارب شائقین کے لئے اس کھیل کو مزید خوبصورت بنانا ہی ہوگا تاکہ اس کی مقبولیت برقرار رہے۔ روایتوں میں ادل بدل سے فٹ بال کی کچھ روایتوں کو توڑنا ہوگا۔ اگر مستقبل میں لوگوں کی دلچسپی اس کھیل میں برقرار رکھنی ہے تو اسے نئی شکل دینی ہوگی۔ اسے وقت کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ میرے حساب سے اگر اس میں چند درج ذیل تبدیلیاں کردی جائیں تو اس کھیل میں کافی بہتری آسکتی ہے۔
کیا ضروری ہے کہ 45منٹ کے دو ہاف کئے جائیں؟ کم وقت بھی بہتر ہوسکتا ہے، اگر دونوں ہاف 30-30منٹ کے کردئے جائیں اور جس وقت کھیل نہ ہورہا ہو تو اس وقت گھڑی (ٹائم ) کو روک دیاجائے تو بہتر ہوگا۔ جیسے کہ آئس ہاکی اور دیگرکئی کھیلوں میں ہوتا ہے۔ گذشتہ عالمی کپ سے پتہ چلتا ہے کہ ہر میچ میں گیند سے 42منٹ سے 63منٹ کے درمیان ہی کھیل ہوا باقی وقت مختلف وجوہات سے کھیل نہیں ہوا۔ اگر وقت کم کردیا جائے تو شائقین کو ایک گھنٹہ ٹھوس ایکشن دیکھنے کا موقع ملے گا جس سے وہ خوش ہوںگے اور گول بھی زیادہ ہونے کے امکانات ہوجائیں گے۔ فاضل اوقات میں دس دس منٹ کے دوہاف رکھ دئے جائیں۔ ایک عجیب بات جس سے ممکن ہے فیفا کے عہدیدار اختلاف کریں یہ ہے کہ یہ واقعی احمقانہ اور مضحکہ خیز بات ہے کہ ٹیلی ویژن پر صحیح دیکھنے والے اربوں لوگ یہ جانتے ہیں کہ گول غلط دیا گیا ہے یا نہیں دیا گیا یا کسی کھلاڑی کو غلط نشانہ بنایا گیا ہے اور وہی شخص یہ بات نہیں جانتا جس کو ریفری کہا جاتا ہے۔ یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ انسانی غلطی سے اتنا بڑا نقصان ہوا اور سارا انحصار ایک شحص کے فیصلے پر چھوڑدیا جائے، مگر لوگ اس بنا پر اس کے خلاف منہ نہیں کھولتے کہ اس سے کھیل رک جائے گا اور تسلسل ٹوٹ جائے گا مگر میرے خیال میں ویڈیو ری پلے صرف متنازعہ گول، پنالٹی اور ریڈیو کارڈ شو کے موقع پر ہی دیکھے جائیں۔ میرا ایک مشورہ یہ بھی ہے کہ پنالٹی شوٹ آؤٹ کی حیثیت ختم کردی جائے۔ پنالٹی شوٹ آؤٹ میں کھیلنے والے ہر کھلاڑی پر قوم کی فتح کا دارومدار ہوتا ہے اور ہر عالمی کپ ایسے کھلاڑی چھوڑ جاتا ہے جو ایک پوری قوم کی امیدوں کو خاک میں ملانے کے ’’جرم‘‘ کا بوجھ دل پرلئے جاتا ہے۔ صرف اس وجہ سے کہ وہ پنالٹی پر گول کرنے سے قاصر رہ گیا یا چوک گیا میرے حساب سے پنالٹی کی جگہ کوئی مشترکہ الیکشن ہونا چاہئے تاکہ کھلاڑی اور شائقین فٹ بال کی یہ ایذارسانی ختم ہو اور یہ مشترکہ الیکشن کچھ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہر ٹیم کو پانچ کارنر دئے جائیں جس میں پانچ فارورڈ ایک گول کیپر اور دو دفاعی کھلاڑیوںکا مقابلہ کریں اور اس کو اسکور کرنے کے لئے دس سیکنڈ دئے جائیں، جس سے کسی ایک کھلاڑی پر ساری ذمہ داری نہیں آئے گی اور کھیل میں دلچسپی بڑھ جائے گی اور شائقین مزید لطف اندوز ہوں گے۔ چوتھایہ کہ ’’پیلا کارڈ‘‘ دکھاکر کھلاڑیوں کو معطل نہ کیا جائے۔ گذشتہ عالمی کپ میں جرمنی کے مائیکل بلیک فائنل نہ کھیل سکے۔1994میں اٹلی کے کوسٹا کورنا اور 1990میں ارجنٹیناکے کلاڈیو نہیں کھیل پائے صرف اس لئے کہ انہیں فائنل سے پہلے دو پیلے کارڈ دکھادئے گئے تھے۔ اکثر یہ من مانی پابندی ہوتی ہے، فاؤل کرنے والے کھلاڑیوں کو سزاکے طور پر اس میچ سے محروم کیا جانا چاہئے مستقبل کے میچوں سے نہیں ۔ دوسرے الفاظ میں آئس ہاکی کی طرح کا ضابطہ لایا جائے جس میں دس منٹ کھیل کے میدان سے دور رہنے سے پیلے کارڈوں سے نجات مل جاتی ہے اور اب آخری بات ، گولڈن گول کو یکسر ختم کردیا جائے ۔ گولڈن گول کے ضابطے کی وجہ سے ٹیمیں بہت زیادہ احتیاط سے کھیلتی ہیں کہ کہیں ان کے خلاف ایک گول نہ ہوجائے اور میچ ختم نہ ہوجائے بلکہ پورے ایکسٹرا ٹائم میں کھیل کو جاری رہنا چاہئے تاکہ جو ٹیم ایک گول کھاچکی ہے اسے واپس آکر جیتنے کا موقع حاصل رہے۔اگر1970میں گولڈن گول کا ضابطہ ہوتا تو عالمی کپ کی تاریخ کے کچھ عظیم میچوں کا تو کوئی ذکر ہی نہ ہوتا۔ آپ کو یاد ہوگا اٹلی نے ایک بار نہایت سنسنی خیز طریقے سے جرمنی کو 3-4سے ہرایا تھا اس میچ کے پانچ گول ایکسٹرا ٹائم میں ہوئے تھے۔اگر اس وقت گولڈن گول کا ضابطہ نافذہوتا تو وہ میچ جرمنی نے 1-2سے جیت لیا ہوتا کیونکہ اس نے ایکسٹرا ٹائم میں پہلا گول کیا تھا۔
(نوٹ) یہ مضمون اور اس کے نتائج میں نے اپنے فٹ بال کے کھلاڑی بیٹے ولادیمر جوکہ ایمسٹرڈیم کی ٹیم میں کھیل چکا ہے سے بحث و مباحثہ کے بعد مرتب کئے ہیں اور اب اپنی ان تجاویز کو فیفا کی کمیٹی کو بھیج رہا ہوں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *