فرنٹل آرگنائزیشن کی بساط پر یوپی کی سیاست

Share Article

p-11جنگ جیتنے کے لیے فوج کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ اچھے سے اچھا اور طاقتور سے طاقتور سپہ سالار بھی جنگ ۱ٍکے میدان میں اس وقت تک کچھ نہیں کر سکتا ہے، جب تک کہ اس کے پیچھے کھڑے جوانوں کے حوصلے بلند نہ ہوں۔ یہ فارمولہ سبھی شعبوں میں لاگو ہوتا ہے۔ خواہ سرحد پر کھڑا سپہ سالار ہو یا پھر سیاست کے میدان کو لیڈ کر رہا عوامی ہیرو، اسے اس بات کا دھیان رکھنا پڑتا ہے۔ جو ہیرو اس طرف دھیان نہیں دیتا ہے، اس کے سامنے مشکلیں منہ پھاڑے کھڑے رہتی ہیں۔ بات 2012کے یو پی اسمبلی انتخابات سے شروع کی جائے ۔ کانگریس کے یو راج راہل گاندھی نے اتر پردیش میں کانگریس کی واپسی کے لیے کافی محنت کی تھی۔ ان کے عوامی جلسوں میں بھیڑ اکٹھا ہو رہی تھی، عوام ان کی باتوں کو سنجیدگی سے سن رہے تھے۔ وہ جارحانہ انداز میں اس وقت کی بی ایس پی سرکار کی بدعنوانی کو مدعا بنائے ہوئے تھے۔ پورے ملککا ماحول کانگریس کے حق میں تھا۔ کانگریس کی طرح ہی بی جے پی کے قد آور لیڈروں نے انتخابی پروپیگنڈہ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ریاستی عوام کانگریس یا بی جے پی میں سے کسی ایک کو تاج سونپ دیں گے۔ وہیں سماجوادی پارٹی کے اکھلیش یادو ’کرانتی رتھ‘پر سوار ہو کر خاموشی کے ساتھ پرچار میں لگے ہوئے تھے۔ بی ایس پی لیڈر مایا وتی تو زمینی لڑائی میں ماہر مانی جاتی ہیں۔ ان کا ٹھوس ووٹ بینک ہے، وہ بھی سیاسی درجہ حرارت اپنے اسٹائل میں بڑھا رہی تھیں۔
چاروں بڑی پارٹیوں کے آقا اپنے اپنے حساب سے منصوبے بنا رہے تھے۔ چاروں پارٹیوں کے پرچار میں فرق تھا، تو بس اتنا کہ بی ایس پی بھائی چارہ کمیٹیوںکی بنیاد پر اور سماجوادی پارٹی کیڈر بیس ہو کر انتخابی جنگ لڑ رہی تھیں۔ سماجوادی کے اہم لیڈر ہی نہیں اس کے ایک درجن سے زیادہ سیل کے عہدیدار اور اس سے متعلقہ ضلعی سطح کے لیڈر بھی کندھے سے کندھا ملاکر ایس پی سپریمو ملائم سنگھ یادو اور ریاستی صدر اکھلیش یادو کی لڑائی میں اپنا اپنا تعاون دے رہے تھے۔ سماجوادی مہیلا سبھا اپنا کام کر رہی تھی، تو یووجن سبھا، پرچارسبھا،اقلیتی سبھا، وکیل سبھا، پچھڑا ورگ سیل، سینک سیل، لوہیا واہنی، شیڈول کاسٹ اور شیڈول کاسٹ ٹرائب سبھا، مزدور سبھا اپنے طبقوں کے ووٹروں کو سماجوادی پارٹی کے قریب لانے کے لیے زمینی لڑائی چھیڑے ہوئے تھیں۔ وہیں مایا وتی بھائی چارہ کمیٹیاں بنا کر مختلف ذاتوں میں تقسیم ووٹروں کو لبھانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھیں۔ مایا وتی نے اپنے لیڈروں کو ذات کی بنیاد پر بانٹ کر ان کو اپنی اپنی برادری کے ووٹروں کوبی ایس پی کے قریب لانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ ذاتوں کو لبھانے کے لیے بھائی چارہ کمیٹی کی تشکیل اسی کا ایک حصہ تھی۔ بی ایس پی کی بھائی چارہ کمیٹیاں ٹھیک ویسے ہی کام کر رہی تھیں جیسے سماجوادی پارٹی کے مختلف سیل کر رہے تھے۔ بی ایس پی کی برہمن، کائستھ، ویشیہ، چھتریہ، اقلیت، دلت جیسی تمام بھائی چارہ کمیٹیاں ضلع ضلع میں اجلاس کر کے مختلف ذاتوں کو بی ایس پی کے حق میں اکٹھا کر رہی تھیں۔
سماجوادی اور بی ایس پی کے لیڈروں کو اس بات کا احساس اچھی طرح سے تھا کہ سپہ سالار کے لیے جوانوں کے ٹولی کی بہت اہمیت ہوتی ہے، وہ ہی اہمیت سیاسی میدان میں کسی سیاسی پارٹی کی فرنٹل آرگنائزیشنز (سیل) کی ہوتی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے لیے اس کی فرنٹل آرگنائزیشنز آکسیجن کا کام کرتی ہیں۔ اسی بات کو دھیان میں رکھ کر سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی نے 2012کے اسمبلی انتخابات میں فرنٹل آرگنائزیشنز، بھائی چارہ کمیٹیوں کی ذمہ داری محنتی لیڈروں کے کندھوں پر ڈالی تھی، لیکن یہ بات اس وقت کانگریس اور بی جے پی جیسی قومی پارٹیاں نہیں سمجھ پائیں۔
انھوں نے فرنٹل آرگنائزیشنز کو مضبوطی کے ساتھ کھڑا کرنے پر توجہ نہیں دی۔ کانگریس اور بی جے پی نے کسی بھی شعبے میں اپنی اپنی فرنٹل آرگنائزیشنز کو مضبوطی کے ساتھ کھڑا نہیں کیا۔ اس کے کئی سیل خالی پڑے رہے۔ اس کے برعکس جہاں کہیں کسی سیل میں کسی لیڈر کی تقرری ہوئی بھی تو وہاں فرنٹل آرگنائزیشن گروپ بندی کا اڈا بن گئی۔ دراصل، کانگریس اور بی جے پی کے بڑے بڑے لیڈروں نے اپنے قریبی لیڈروں کو بڑے بڑے سیلوں پر قابض کرا دیا تھا، جو بالکل بیکار ثابت ہوئے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ کانگریس اور بی جے کا ووٹر گھر سے نکل کر بوتھ تک گیا ہی نہیں۔ایس پی کو جیت حاصل ہوئی اور بی ایس پی کو حکومت مخالف لہر کے سبب ہار کا منہ دیکھنا پڑا،لیکن بی جے پی اور کانگریس کی طرح اس کو درگتی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس بات کا احساس بعد میں کانگریس کے یوراج کو بھی ہو گیا تھا کہ تنظیمی اعتبار سے وہ کافی پچھڑ گئے تھے۔ اس کے بعد سے تو وہ مسلسل پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ہی بات کرتے دکھائی پڑنے لگے۔
پرانی غلطی سے سبق لیتے ہوئے2014کے پارلیمانی انتخاب میں کانگریس اور بی جے پی بھی ایس پی کی طرح اپنی فرنٹل آرگنائزیشنز کو مضبوط بنانے میں جٹ گئی ہیں۔ بی جے پی کے اتر پردیش کے الیکشن انچارج امت شاہ نے اس طرف کافی توجہ دی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اتر پردیش میں بی جے پی کی قریب قریب سبھی فرنٹل آرگنائزیشنز کے اہم عہدے بھرے جا چکے ہیں۔ ریاست کی مختلف ذاتوں کی عوامی بنیاد والے لیڈروں کو بی جے پی کے مختلف مورچوں اور سیلوں کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
ریاستی بی جے پی یوا مورچہ کی کمان وارانسی کے آشوتوش رائے کو، مہیلا مورچہ کی کمان کانپور کی کملاوتی کو، اقلیتی مورچے کی کمان لکھنؤ کی مسز رومانہ صدیقی کو، کسان مورچہ کی کمان میرٹھ کے وجے پال تومر کو ، درج فہرست ذات قبائل مورچہ کی کمان بستی کے راجندر گوڑکو، درج فہرست ذات مورچہ کی کمان الہ آباد کے گوتم چودھری کو سونپ کر پارٹی کے اندر تال میل بٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بی جے پی نے اپنے سبھی 14سیلوں میں بھی صدور اور کنوینروں کی تقرری کر دی ہے۔ مقامی بلدیات میں میرٹھ کے امت اگروال، پنچایت میں گورکھپور کے للن سنگھ تیواری، سماجی بہبود میں بلند شہر کے منشی لال گوتم، گئو ونش وکاس میں وارانسی کے مہندر سنگھ، اسمال اسکیل میں اناؤ کے گرجا شنکر، پربدھ میں اعظم گڑھ کے رامادھین سنگھ، انتیودے میں فرخ آباد کے ڈاکٹر رامیشور سنگھ، کو آپریٹو میں بلیا بالمیکی کو، ایجوکیشن میں گونڈہ کی ڈاکٹر رنجنا شرما کو ، انسانی حقوق میں لکھنؤ کے کلدیپ پتی ترپاٹھی وغیرہ کو مختلف سیلوں کا مکھیا بنا کر ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ بی جے پی اور خاص طور پر اس کے اتر پردیش کے الیکشن انچارج امت شاہ کو ان فرنٹل آرگنائزیشنز کے آقاؤں سے کافی امیدیں ہیں، لیکن اس سچائی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ ابھی تک تو ایک دو کو چھوڑکر کسی بھی سیل کا مکھیا ایسی تیزی نہیں دکھا رہا ہے، جو انتخابی جنگ جیتنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی الیکشن انچارج امت شاہ کو اس طرف بھی دھیان دینا ہوگا۔
بی جے پی نے کم سے کم اپنے سبھی سیلوں کے صدور کی تقرری تو کردی، لیکن کانگریس تو یہ بھی نہیں کر پائی۔ کانگریس اپنی فرنٹل آرگنائزیشنز کو مضبوطی دینے کے معاملے میں کافی پچھڑی ہوئی ہے۔ اتر پردیش کانگریس کے الیکشن انچارج مدھو سودن مستری ، فرنٹل آرگنائزیشنز کے خالی عہدوں کو بھرے جانے کے معاملے میں بی جے پی کے امت شاہ کی کاوشوں سے کافی پیچھے چل رہے ہیں۔ اتر پردیش میں کانگریس کافی مشقت کے بعد تمام سیلوں کی ہی ذمہ داری کسی لیڈر کو سونپ پائی ہے۔ اتر پردیش کانگریس سیوا دل کے عہدے پراس نے لکھنؤ کے پرہلاد دویدی، مہیلا کانگریس کے عہدے پر لکھنؤ کی مسز نیرا سنگھ، یوا کانگریس کی ذمہ داری لکھنؤ کے ہی یوگیش دیکشت کے کندھوں پر ڈال کر اپنے فرض کی ادائیگی کرلی ہے۔ کانگریس میں ابھی بھی بزنس سیل، رائٹ ٹو انفارمیشن ٹاسک فورس، لیبر سیل، ڈاکٹر سیل، مقامی بلدیاتی سیل ، فرقہ وارانہ مخالف فرنٹ، کو آپریٹو، کھیل کودوغیرہ سبھی سیل صدر سے محروم ہیں۔ اس بات کا بھی احساس نہیں ہو رہا ہے کہ کانگریسی اس کمی کی وجہ سے سنجیدہ ہیں۔
فرنٹل آرگنائزیشنز کی مدد سے 2012فتح کرنے والی ایس پی نے انتخاب جیتنے کے بعد بھلے ہی ان کو بھنگ کر دیا تھا،لیکن 2014کے پارلیمانی انتخاب کی آہٹ نے اس کے قدم تیز کر دیے ہیں۔ وزیر اعظم کے عہدے کی دعویداری ٹھوک رہے ایس پی کے سپریمو ملائم سنگھ یادو کی امیدوں کو پر لگانے کے لیے ایس پی نے ریاستی سطح کے مختلف سیلوں کو بھرنا شروع کر دیا ہے۔ چھانٹ چھانٹ کر محنتی لیڈروں کو فرنٹل آرگنائزیشنز کی ذمہ داری سونپی جا رہی ہے۔ حال میں ہی سماجوادی پارٹی نے اپنے 14میں سے 09سیلوں پر صدور کی تقرری کر کے انتخابی سرگرمی بڑھا دی ہے۔
ایس پی نے چھاتر سبھا کی ذمہ داری میرٹھ کے اتل پردھان کو، ملائم سنگھ یوتھ بریگیڈ کی ذمہ داری دیوریا کے برجیش یادو کو، مہیلا سبھا کی ذمہ داری امبیڈکر نگر کی لیلا وتی کشواہاکو، ویا پار سبھا کی میرٹھ کے گوپال اگروال کو، اقلیتی سبھا کی پیلی بھیت کے ریاض احمد کو، ایڈووکیٹ سبھا کی الہ آباد کے ودھو بھوشن سنگھ کو، سماجوادی پسماندہ طبقے کی فتح پور کے نریش چندر اتم کو، سینک سیل کی ذمہ داری اٹاوہ کے کرنل ستیہ ویر سنگھ یادوکو، کلچرل سیل کی ذمہ داری غازی پور کے کاشی ناتھ یادو کوسونپی گئی ہے۔ ابھی لوہیا واہنی، یووجن سبھا، شکشک سبھا، ایس ٹی سیل اور سماجوادی مزدور سبھا اکائیاں بھنگ پڑی ہیں۔ بی ایس پی کی صورتحال ضرور الگ ہے۔ ہائی کورٹ کے ذریعے نسلی ریلیوں پر روک لگ گئی ہے۔ بھائی چارہ کمیٹیاں بی ایس پی سپریمو پہلے ہی بھنگ کر چکی ہیں۔ اس معاملے میں بی ایس پی میں کوئی منہ کھولنے کو بھی تیار نہیں ہے۔
ویسے اس سے الگ بھی اتر پردیش میں مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے طریقے سے اپنے اپنے نسخے آزما رہی ہیں۔ لیڈر انتخابی میدان مارنے کے لیے عوام کو لبھانے، پھوٹ ڈالنے، فرقہ وارانہ تناؤ بڑھانے، ذات برادری کا زہر گھولنے، لالچ دینے، ساڑی کمبل بانٹنے جیسے تمام ہتھکنڈے اپنا رہے ہیں۔ ترقی کا مدعا حاشیے پرچلا گیا ہے۔ امن کی باتیں گزرے زمانے کی بات بن کر رہ گئی ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے چال چلن میں ’شارٹ کٹ‘ سے جیت کا اتاؤلا پن صاف جھلک رہا ہے۔
انتخابی دوڑ میں بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی امیدواروںکے سلیکشن کے معاملے میں بازی مار گئی ہیں۔ بی جے پی مودی کے نام اور امت شاہ کے کام کے سہارے سیاسی ماحول گرمانے میں لگی ہے۔ اسے مودی ہر مرض کی دوا لگتے ہیں۔ کانگریس کے یوراج کو مستری پر بھروسہ ہے، لیکن مستری بیچارے خود اپنے آپ پر بھروسہ نہیں دکھا پار ہے ہیں۔ عوامی عدالت میں لیڈر اپنے آپ کو ہیرو بنانا چاہتے ہیں، تو مخالفین کو ولین کی طرح پیش کرنے کے لیے سازشیں ہوتی ہیں،لفظوںکے تیر چلائے جاتے ہیں، یہ سیاسی ترکیب بھی یو پی میں سلیقے سے آزمائی جا رہی ہے۔g
چوتھی دنیابیورو

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *