بہار سے اٹھی آواز! اردو کو ملے دوسری قومی زبان کا درجہ

Share Article

اشرف استھانوی
بہار کی آزادی میں نمایاں کردار ادا کرنے والی اردو زبان آزادی کے بعد ہندستان کی قومی زبان نہ بن سکی کیوں کہ اردو قومی زبان کا درجہ حاصل کرنے کی جنگ ایک ووٹ سے ہار گئی یا قصداً ہرا دی گئی۔ اس شکست کے بعد اردو کی دوسری سرکاری زبان کی حیثیت مسلم تھی لیکن آزادی کے 63 سال بعد بھی اسے یہ حق حاصل نہ ہو سکا۔ آج اردو کو صرف ریاست جموں و کشمیر میں سرکاری زبان کی حیثیت حاصل ہے اور بڑی جدو جہد کے بعد اسے دہلی، یوپی ،جھارکھنڈ،حیدر آباداور بہار جیسی کچھ ریاستوں میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلایا جا سکا ہے۔ بقیہ ریاستوںاور مرکز کے زیر انتظام علاقوں یہاں تک کہ قو می سطح پر بھی اسے دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل نہیں ہے اور جن ریاستوں میں اسے پہلی یا دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے وہاں بھی اس کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اردو جیسی شیریں اور دل نشیں زبان آج اپنے ہی گھر میں بے گھرہوکررہ گئی ہے۔ اردو کی حالت اس دوشیزہ جیسی ہے جس سے دل بہلانا تو ہر آدمی چاہتا ہے مگر اسے اپنانے کا حوصلہ کسی میں نہیں ہے۔
اردو کے ساتھ دہائیوں سے جاری اس نا انصافی کے خاتمہ اور اسے قومی سطح پر دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانے کی ایک مہم عظیم آباد (بہار)  کی سرزمین سے شروع ہو گئی ہے اور اس تحریک کی قیادت کشمیریوں کو ان کا حق اور انصاف دلانے کی لڑائی لڑ رہے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کو سونپی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں گزشتہ دنوں اردو کے حق کی لڑائی لڑنے والے ادارہ اردو کونسل ہند کے زیر اہتمام پٹنہ میں شاہ مشتاق میموریل اردو کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں ریاست بہار کے کونے کونے سے کثیر تعداد میں محبان اردو جوق در جوق شریک ہوئے تھے۔کانفرنس میں قرار داد منظور کرکے مرکزی حکومت سے اردو کو اس کی مقبولیت اور اہمیت کے پیش نظر ملک کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ عطا کرنے اور جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشوں کے مطابق اردو کے تحفظ اور فروغ کے لئے سہ لسانی فارمولہ اپناتے ہوئے اسے قومی سطح پر شامل نصاب کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ قرار داد میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اردو اخبارات کی اشتہارات کے توسط سے سرپرستی کی جائے اور جن ریاستوں میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے ، وہاںاردو کے عملی نفاذکی کارروائی میں تیزی لائی جائے۔ اردو کو نسل ہند کی طرف سے قرار داد ملک زادہ ڈاکٹر منظور احمد نے پیش کی اور انہیں اردو کونسل ہند کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر اسلم جاوداں ، کونسل کے صدر وسابق ریاستی وزیر شمائل نبی اور ممبر پارلیمنٹ طارق انور اور ڈاکٹر فاروق عبد اللہ سمیت تمام محباّن اردو ،مجاہدین اردو کی بھر پور تائید اور حمایت حاصل ہوئی۔
اردو کانفرنس میں اردو کو قومی سطح پر دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانے کی مہم کو قیادت دینے کا وعدہ کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے محباّن اردو کو یقین دلایا کہ پارلیمنٹ کے رواں بجٹ اجلاس کے دوران ہی ہم اور طارق انور قومی راجدھانی دہلی میں پارٹی کی سیاست سے اوپر اٹھ کر تمام مسلم ارکان پارلیمان اور ارکان قانون سازیہ کی میٹنگ طلب کرکے اس سلسلہ میں ایک ٹھوس لائحہ عمل طے کریں گے اور اردو کے تحفظ اورفر وغ کے سلسلہ میں قابل عمل تجاویز کے ساتھ وزیر اعظم سے یہ بھی درخواست کریں گے کہ وہ نکسلی اور دیگر قومی مسائل پر جس طرح وزرائے اعلیٰ کی کانفرنس طلب کرتے ہیں اسی طرح اردو کو قومی سطح پر اس کا حق دلانے کے لئے بھی وزرائے اعلیٰ کی کانفرنس بلائیں اور نہ صرف ٹھوس تجاویز پیش کریں بلکہ اردو کے فروغ کے لئے ریاستوں کو الگ سے فنڈ بھی مہیا کرائیں تاکہ ریاستی حکومتوں پر اردو کے فروغ کے لئے دبائو قائم کیا جا سکے۔اس سلسلہ میں اردو نواز نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیر مین حامد انصاری کی بھی مدد لی جائے گی۔
ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کا کہنا تھا کہ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ بہار سمیت ان تمام ریاستوں میں بھی جہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے ، اردو کو انصاف نہیں مل رہا ہے اور اردو کے عملی نفاذ کی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ اردو اخبارات کی سرکاری سرپرستی دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے اور اردو اخبارات، سرکاری سرپرستی کے فقدان اور افسران کے منفی اور متعصبانہ رویہ کے سبب دم توڑتے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ، ڈاکٹر ملک زادہ منظور احمد، ڈاکٹر اسلم جاوداں ، پروفیسر علیم اللہ حالی، رکن راجیہ سبھا طارق انور، رکن قانون ساز کونسل ڈاکٹر تنویر حسن، رکن بہار قانون ساز اسمبلی اختر الایمان، سابق وزیر شمائل نبی،نور عالم، ڈاکٹر محبوب عالم، میجر بلبیر سنگھ ، شکیل حسن ایڈووکیٹ اور راقم الحروف سمیت کئی مقررین کا یہ ماننا تھا کہ ریاستی سرکار یں ووٹ بینک کی سیاست سے متاثر ہو کر اردو کو کاغذ پر تو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے دیتی ہیں مگر اس کے عملی نفاذ سے پہلو تہی کرتی ہیں۔خود ریاست بہار میں جہاں سے اردو کو قومی سطح پر دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانے کی مہم شروع ہو رہی ہے۔ وہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہونے میں تو تین دہائیاں گذر گئیں مگر اس کا عملی نفاذ آج تک ممکن نہ ہو ا۔ سرکاریں آتی اور جاتی رہیں مگر اردو اپنی جگہ حسب سابق نظر انداز رہی۔موجودہ این ڈی اے2 حکومت میں جہاں دیگر محاذ پر ترقی کی گنگا بہہ رہی ہے اردو کے عملی نفاذ کے محاذ پر بالکل بے عملی اور بے حسی قائم ہے۔ اردو ملازمین کی نئی بحالیاں نہیں ہو رہی ہیں، پرانے ملازمین ریٹائر ہوتے جا رہے ہیں انہیںبھی پُرکرنے کی کوئی کوشش نہیں ہو رہی ہے۔
نتیش حکومت نے 8 ؍اکتوبر2009میں ہی ریاست کے تمام اسکولوں میں لازمی طور پریونٹ قائم کرنے اور اردو اساتذہ بحال کرنے کا اعلان کیا تھامگر آج تک اس پر عمل نہیں ہو سکا۔کہنے کو تواردو ڈائریکٹوریٹ، اردو مشاورتی کمیٹی اور اردو اکادمی کے علاوہ انجمن ترقی اردو بھی ہے۔ مگر تشفی بخش کام نہیں ہو رہا ہے۔ انجمن ترقی اردو تو لوٹ کھسوٹ اور سرکاری فنڈ پر قبضہ کی لڑائی تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔اردو ڈائریکٹوریٹ اور اردو مشاوتی کمیٹی ہاتھی کے دانت بن کر رہ گئے ہیں۔ اردو ڈائریکٹوریٹ کو مالی اور انتظامی اختیارات وزیر اعلیٰ تنیش کمار کے اعلان کے باوجود اب تک نہیں عطاکئے جا سکے ہیں۔ موجودہ اردو ڈائریکٹرشاہد اقبال خان دفتر آنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔مشاورتی کمیٹی اپنے چیر مین کی طرح عضو معطل بن کر رہ گئی ہے۔ اردو اکادمی کے لئے ایک عدد سکریٹری کی تلاش 4 ماہ میں بھی پوری نہیں ہو سکی ہے اور سب سے بڑا ظلم موجودہ حکومت میں یہ ہوا ہے کہ اسکولی نصاب سے اردو کی لازمیت تک ختم کردی گئی ہے۔ این ڈی اے2 حکومت میں پہلی بار سرکاری دفاتر اور افسران کے سائن بورڈ اور نیم پلیٹ لازمی طور پر اردومیں آویزاں کئے جانے کا حکم صادر ہوا ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کی رفتار بہت سست ہے۔ اردو اخبارات کو اشتہارات فراہم کرنے کے معاملے میں بھی تعصب اور امتیاز سے کام لیا جاتا ہے اور اشتہارات کے نام پر اردو اخبارات کو جو امداد مہیا کرائی جاتی ہے وہ بھی منہ بھرائی کے لئے ہے تاکہ وہ حکومت کے خلاف آواز بلند کرکے رائے عامہ کو متاثر نہ کر سکیں۔ یا اپنے قلم کی دھار کو تیز نہ کر سکیں۔ اشتہارات کے نام پر اردو اخبارات کو بلیک میل بھی کیا جاتا ہے۔ اردو آبادی اس ظلم اور نا انصافی سے اوب چکی ہے اور جب اس نے آر پار کی لڑائی لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس کا ثبوت کانفرنس میں کثیر تعداد میں محبان اردو کی پرجوش شرکت اور اس کی تاریخ ساز کامیابی ہے۔
بہار کے نامور ادیب و شاعر غلام السعیدین ،ناوک حمزہ پوری جو تقریباً 90 کتابوں کے مصنف ہیں ان کی گرانقدر ادبی خدمات کے اعتراف میں شاہ مشتاق یاد گاری ایوارڈ 2011 جو مبلغ25 ہزار روپے نقد ایک توصیفی سند، ایک یاد گار یہ (میمنٹو) پر مشتمل تھا ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کے مبارک ہاتھوں سے انہیں یہ ایوارڈ پیش کیا گیا۔
کچھ سال قبل یو پی اے حکومت کے دوران پارلیمنٹ میں بھی اردو کی موجودہ صورت حال اور اس کے تحفظ اور فروغ کی صورتوں پر غور کرنے کے لئے ارکان پارلیمان سر جو ڑ کر بیٹھے تھے اور بلا امتیاز جماعت مذہب، ذات اور زبان تمام پارٹیوں کے ارکان نے ایک زبان ہو کر اردو کے فروغ کے لئے ٹھوس قدم اٹھانے اور اردو اخبارات کی سرپرستی کی سفارش کی تھی۔ حالاں کہ اس وقت اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ نہیں آیا تھا، لیکن دیگر سفارشوں پر بھی آج تک عمل نہیں ہو سکا۔ شاید اس لئے کہ وہ ایک غیر سنجیدہ سرکاری پہل تھی، لیکن بہار سے اٹھنے والی یہ تحریک ایک عوامی تحریک ہے جس میں بلاکا جذبہ، جوش اور جنون ہوتا ہے۔ اس لئے امید کی جانی چاہئے کہ یہ تحریک نتیجہ خیز ثابت ہوگی اور اردو کو انصاف دلانے میں معاون ثابت ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *