سیریاکی نازک صورت حال پر عالم اسلام کی خاموشی خطرناک ہے: مولانا محمد رحمانی مدنی

muhammad-rahmani
مسلسل کئی سالوں سے جس انداز سے سیریا،فلسطین اور دنیا کے بہت سے خطوں میں مسلمانوں کے خلاف مظالم جاری ہیں ۔بڑے بوڑھوں، معصوم بچوں اور خواتین تک کو قتل کیا جارہا ہے، اسکولوں پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے یہ پوری دنیا کے لئے بالعموم اور مسلم ممالک اور ان کے ذمہ داران کے لئے بالخصوص باعث شرم وعار ہے ۔ایسے نازک حالات میں سب کو کھل کر سامنے آنا چاہئے ۔بہت سے لوگ ایران اور ترکی کی وجہ سے دھوکہ میں ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایران کھل کر وہاں خون بہانے میں معاون ہے اور ترکی بھی روس وغیرہ سے دوستی نبھا کر اس میں ملوث نظر آرہا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ عالمی سیاست کی سچی صورت حال کو سمجھیں اور قرآن وسنت کے مطابق مسلمانوں کے تعاون کے لئے مکمل خاکہ تیار کریں۔مولانا نے عالم اسلام میں واقع ہونے والی تبدیلیوں، وہاں پھیلنے والی انارکی،بے پردگی اور غیر اسلامی تہذیب پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور فرمایا کہ ہمارے دین سے دور ہونے کی وجہ سے آج ہمارے دشمن پر سے ہمارا رعب ختم ہوگیا ہے اور ہم مغلوب اور مظلوم ہوکر رہ گئے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق ، جوگابائی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا۔مولانا شام (سیریا)کے موجودہ تشویشناک حالات اور عالم اسلام کی صورت حال پر خطاب فرمارہے تھے۔مولانا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث جو ترمذی میں وارد ہوئی ہے کی روشنی میں فرمایا کہ جب اہل شام سے حالات خراب ہوجائیں گے تو مسلمانوں سے بھی خیر اٹھ جائے گی۔لیکن خراب حالات کے باوجود مسلمانوں میں حق کی آواز بلند کرنے والی ایک ٹولی قیامت تک باقی رہے گی ۔ موجودہ حالات درحقیقت ہماری عملی کوتاہیوں کا نتیجہ ہیں ، ہم نے دین کو چھوڑ دیا اور شرک وبدعات میں ملوث ہوگئے اور دنیا کی رنگینوں میں مست ہوگئے تو اللہ تعالی نے بھی ہم کو چھوڑ دیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی پیشین گوئی فرمائی تھی کہ عنقریب مسلمانوں پر دنیا کی ساری قومیں اسی طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے بھوکے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں، صحابہ کرام نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! کیااس دن ہماری تعداد کم ہوگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ تم بہت زیادہ ہوگے لیکن دنیا کی محبت اور موت سے خوف کے نتیجہ میں اللہ تعالی تم پر دشمنوں کو مسلط کردے گا اور تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب ختم کردیا جائے گا۔
خطیب محترم نے مزید فرمایا کہ عالم اسلام کو فلسطین اور سیریا کے مظلوم مسلمانوں نیز برما، سری لنکا اور دنیا کے جن جن خطوں میں مسلمان مظلومیت کی زندگی گزار رہے ہیں ان کے تعاون کے لئے میدان میں اترنا چاہئے ورنہ آج اگر ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے تو کل ہماری باری بھی آسکتی ہے۔یہ بڑا عجیب المیہ ہے کہ ہم اپنے اپنے درد کو تو محسوس کرتے ہیں لیکن دوسروں کے درد کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔ جب کہ مسلمان کی مثال ایک جسم کی طرح ہے اگر اس کے کسی بھی عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو اسے پورا جسم محسوس کرتا ہے ویسے سارے مسلمانوں کو محسوس کرنا چاہئے۔ مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ توحید واتباع کی بنیادوں پر حمایت اور مخالفت کا خاکہ تیار کریں اور ان ممالک کی حمایت ہرگز نہ کریں جو شرک، بدعات، زناکاری اور ہم جنس پرستی جیسے خطر ناک جرائم کو بھی اپنے یہاں روا رکھتے ہیں اور ان کے لئے جواز فراہم کرتے ہیں نیز ان ممالک کے لئے دعا کریں جو شرکیات اور بدعات سے پاک ہیں اگر چہ ان کے یہاں بھی بگاڑ کی صورت حال نظر آنے لگی ہے۔اخیر میں مسلمانوں سے دین کی طرف رجوع کرنے کی اپیل اور دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *