فرانسیسی مسلمانوں کو انتخابی مدعا کیوں بنایا جا رہا ہے؟

شفیق عالم
فرانس ایک ایسا ملک ہے جو اپنی سیکولر اقدار کی پاسداری پر ناز کرتا ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ برسوں سے داخلی سلامتی کو بہانہ بناکریہاںکی اقلیتوں کو، خاص طور سے مسلمانوں کو جس طرح سے ہراساں کیا جارہا ہے اورجس طرح سے سیکولر اقدار کو پامال کیا جارہا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔یہ وہی فرانس ہے جسے یوروپ کی روشن خیالی کا نقیب کہاجاتا ہے۔ انسان کی انفرادی آزادی کے لیے پہلی آواز یہیں سے اٹھی تھی۔ لیکن آج یہاں گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔ اس ملک میںپہلے حجاب، پھر حلال گوشت اور اب دہشت گردی کا الزام عائدکرکے مسلم نوجوانوںکوگرفتار کیا جارہاہے ۔فرانسیسی حکومت کی انہی پالیسیوں کی وجہ سے بہت سارے مسلمانوںکو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھوناپڑا ، بہتوںکو حجاب پہننے کی وجہ سے جرمانہ ادا کرنا پڑا اور کئی ایسے ہیںجن کوسرپھر ے نسل پرستوں کے عتاب کا شکار ہونا پڑا۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں رہنے والے مسلمان ایسا محسوس کرنے لگے ہیں کہ فرانس تمام مغربی ممالک میں مسلمانوں کے قیام کے لیے بدترین ملک بن گیا ہے۔
مسلمانوں کی مذہبی علامتیں ،مثلاً حجاب اور حلال گوشت تو حکومت کے نشانے پر بہت پہلے سے ہی تھیں ،لیکن دہشت گردانہ معاملوںمیں گرفتاریوں اور ملک بدری کا سلسلہ اس وقت سے شروع ہوا جب محمد مارح نامی ایک مبینہ فرانسیسی مسلم دہشت گرد نے گزشتہ مہینے ٹولوج کے مقام پر چھ لوگوںکو گولی مارکر ہلاک کردیا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اس دہشت گردانہ کارروائی میں القاعدہ کا ہاتھ تھا اور اس سازش میں اور بھی بہت سارے لوگ ملوث تھے۔لہٰذااس سلسلے میں 30مبینہ اسلامی بنیاد پرستوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور 10 کو ملک بدر کردیا گیا ہے۔ان تمام ناخوشگوار واقعات سے فرانسیسی مسلمان سہمے ہوئے ہیں۔ ان میںسے بعض ایسے ہیں جو ہمیشہ کے لیے اس ملک کو چھوڑ کر کسی اور ملک میں رہائش اختیار کرنے کی سوچ رہے ہیں۔بعض کا خیال ہے کہ اگر صدر نکولس سرکوزی ایک بار پھر منتخب ہوگئے تو ان کا جینا اور محال ہوجائے گا، جبکہ سرکوزی کے حامیوں کا یہ موقف ہے کہ وہ انتہاپسند عناصر سے فرانس کی حفاظت کر رہے ہیں۔
بہرحال، ابھی فرانس میں صدارتی انتخاب ہونے والے ہیں۔یہاںپہلے دور کے صدارتی انتخاب امریکہ کی پرایمسی کی طرزپر ہوتے ہیں، جس میںدو امیدواروں کا انتخات کیا جاتا ہے ، جبکہ دوسرے مرحلے میںان دو امیدواروں میں سے کوئی ایک صدر منتخب ہوتا ہے ۔اس انتخاب میںسرکوزی کو پہلے اپنے دائیںبازو کی حریف کو شکست دیناہو گی اور بائیںبازو کے امیدوار کواپنے حریف کو، جس کے بعداصل مقابلہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی امیدوار میرین لے پن اور صدر نکولس سرکوزی کے درمیان اخباروں کی سرخیوں میں جگہ حاصل کرنے کی ہوڑ لگی ہوئی ہے۔ مسلمان اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہیں اور ان میں سے زیادہ تر شمالی افریقہ سے آکر یہاں آبا د ہوئے ہیں۔ فرانس میں امریکہ پر 9/11کے حملوں کے بعد دوسرے مغربی ممالک کی طرح ایک مسلم مخالف جذبہ پایا جاتا ہے، اور اس جذبہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدام کیے جارہے ہیں یا اشتعال انگیز بیانات جاری کرکے ووٹ حاصل کرنے کے لیے خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس خوف کے ماحول کو اس وقت اور تقویت ملی، جب ٹولوج کے واقعے کے بعد فرانسیسی پولس نے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا۔ ابتدا میںپورے ملک سے 10مشتبہ اسلامی دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا اور 5 کو ملک بدر کردیا گیا۔ اسی خوف کے ماحول کی وجہ سے ایک عام فرانسیسی ووٹر  کے نزدیک اسلامی بنیاد پرستی اور ملک کی سلامتی کا مدعا موضوع بحث بنا ہوا ہے۔لیکن حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ جو ملک اپنی سیکولرزم کی بنیادوں کو بہت مضبوطی سے تھامے رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے اور دوسرے ترقی پزیرممالک میں ہورہے انسانی حقوق کی پامالی پر آنسو بہانے میں تمام مغربی ممالک کے شانہ بہ شانہ کھڑا نظر آتاہے ،اسی ملک کے صدرکواپنے ہی شہریوں کے حقوق تلف کرکے اسی کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی مدعا بنانے سے بھی گریز نہیں ہے۔ صدر سرکوزی نے 2005 کے پیرس کے باہری علاقوں میں ہوئے فسادات، جس میں مسلم نوجوان شامل تھے ، کو کچل کر اپنا نام پیدا کیا تھا۔ اس وقت سرکوزی وزیر داخلہ تھے ، انھوں نے اس وقت امیگریشن، ملکی سلامتی اور اسلامی بنیاد پرستی کے مدعے کو بڑے زور و شور سے اٹھایا تھا اور کافی مقبولیت بھی حاصل کی تھی، اور بعد میںصدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی۔ سرکوزی نے اس سال اپنی انتخابی مہم میںایک بار پھرانہی مسئلوں کواپنا مرکزی مدعا بنایا ہے۔اس سلسلے میں انہوں نے پہلاکام یہ کیا کہ جب انتہائی دائیں بازو کی امیدوار میرین لے پن نے سٹرکوں پر جمعہ کی نماز ادا کرتے ہوئے مسلمانوں کی تصویر کو ایک خطرہ کی طرح پیش کیا تو سرکوزی نے سٹرکوںپر نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کردی۔ اس سے قبل اس سال کی ابتدا میں اپنی انتخابی مہم کے دوران سرکوزی نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ حلال گوشت کا مسئلہ سب سے اہم مسئلہ ہے، اور انہوں نے عوام سے ایک ایساقانون وضع کرنے کاوعدہ کیا ہے جس کے مطابق اسلامی طریقے سے ذبح کیے گئے گوشت کو نشان زد کیا جائے گا۔ظاہر ہے حلال گوشت کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس سے کسی ملک یا سماج کے امن یا سلامتی کو خطرہ لاحق ہو۔ حکومت کے ان اقدام کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی یہ سمجھ سکتاہے کہ مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ وہ کچھ ایسے قدم اٹھائیں جس کا فائدہ آئندہ انتخاب میںاٹھایا جاسکے۔
فرانس میں موجودمسلمانوں کے تئیں امیتاز ی سلوک کا سلسلہ حجاب پر پابندی کی بحث سے شروع ہوا۔ اس بحث کی ابتدا 1980 کی دہائی میں شروع ہوگئی تھی ،لیکن مکمل چہرے کے نقاب یابرقعہ پر پابندی گزشتہ سال عائد کی گئی۔ٹولوج کے حملہ آور نے پولس کے مفاہمت کاروں سے یہ کہا کہ اس کی دہشت گردانہ کارروائی کی ایک وجہ حجاب پر لگی پابندی بھی تھی۔ ظاہر ہے اس طرح کی پابندی بنیادی انسانی حقوق اور باہمی رواداری کے منافی ہے، لہٰذااس کے نتائج بھی اچھے نہیں ہوں گے، کیوں کہ اس طرح کے معاملوں سے مفاد پرستوں کو بھولے بھالے نوجوانوں کو ورغلانے کا سنہرا موقع مل جائے گا۔ فرانس میں برقعہ پر پابندی کے خلاف احتجاج میں پیش پیش رہے ایرانی نژاد پراپرٹی ڈیولپر راشد نکاز بھی یہ مانتے ہیںکہ خاص عوامی مقامات، جیسے اسکول یا سرکاری دفاترمیںبرقعہ پر پابندی تو جائز ہو سکتی ہے، لیکن سڑکوں پر اس طرح کی پابندی شرمناک ہے۔ نکاز کی اہلیہ، جو ایک امریکن کیتھولک عیسائی ہیں، نے برقعہ قانون کی خلاف ورزی کرنے کی صور ت میں جرمانہ کی رقم ادا کرنے کے لیے ایک فنڈ قائم کیاہے۔ ابھی تک وہ 57 ایسی عورتوں کے جرمانے کی رقم ادا کر چکی ہیں۔ فرانسیسی حکومت نے اس قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں 150 یورو تک جرمانے کا نظم کیاہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرح کی پابندی عائد کرکے اصل مدعے سے نہیں نمٹا جا سکتاہے۔اگر واقعی فرانسیسی معاشرے کو اسلامی انتہاپسندی سے خطرہ ہے تو اسے ووٹ کی سیاست سے اوپر اٹھ کر اصل مسئلے کی طرف آناہوگا۔
فرانس میں مذہب کی بنیاد پر مردم شماری نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے حتمی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتاہے کہ اس ملک میں کتنے مسلمان رہتے ہیں۔ لیکن ایک اندازے کے مطابق یہاں مسلمانوں کی آبادی 6ملین ہے، جو یوروپ کے کسی ایک ملک میں سکونت اختیار کرنے والے مسلمانوں کی سب بڑی آبادی ہے۔یہاں کے مسلمان اپنے ہم وطنوں سے ہر لحاظ سے پس ماندہ ہیں۔ لیکن صدر سرکوزی مسلمانوں کا خوف دلا کر ایک بارپھر صدر کی کرسی پر قابض ہو نا چاہتے ہیں۔ لیکن اس بار ان کے لیے راہ آسان نہیں ہے، کیوںکہ فرانس میں رائے عامہ کا سروے کرنے والی ایجنسی PCPE کے ذریعہ گزشتہ مہینے کرائے گئے سروے کے مطابق زیادہ تر فرانسیسی ووٹروںنے بے روزگاری کو سب سے بڑا مدعاتصور کیاہے،ان کی ترجیحات کی فہرست میں امیگریشن اور قومی سلامتی کے مدعے کافی نیچے ہیں۔ لیکن یہ تمام مدعے صدارتی انتخاب کی وجہ سے ہی اتنے زور و شور سے اٹھائے جارہے ہیں۔ اگر انتخابات نہیں ہوتے تو شاید یہ تمام مدعے بھی نہیں اٹھائے جاتے۔ بہرحال اس طر ح کے مدعوں سے وقتی طور پر عوام کو ورغلا کر ووٹ تو حاصل کیا جاسکتا ہے، لیکن ہمیشہ ایساہی ہو یہ ناممکن ہے۔ عوام سمجھدار ہوتے ہیں کسی خاص طبقہ کا خوف دلاکر ایک بار بے وقوف بنایا جاسکتا ہے بار بار نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *