کسانوں کے گھروں میں سسکیوں کا بسیرا

Share Article

راجیش سنہا
کوشی اور متھلا کے علاقے میں اس بار بھی نقلی بیج فروشوں نے کسانوں کوزبردست طریقہ سے ٹھگاہے۔ کسانوں نے مکّا کے بیج اصل قیمت پر خریدے ،لیکن مکّاکی خراب پیداوار نے ان کو نقلی ثابت کردیا۔ نتیجتاً کسانوں کے گھروں میں سسکیوں کی آواز گونج رہی ہے۔
فصلوں کی اچھی پیداوار کے لئے کھیتوں میں پسینہ بہانے والے کسانوں کی پیشانی پر اس بار خون کا پسینہ بہہ رہا ہے۔ دراصل نقلی بیج کا دھندہ کرنے والوں نے اس بار بھی اصلی بیج کے پاکیٹ میں نقلی مکّا کا بیج کسانوں کو فراہم کرایا، جس کی وجہ سے مکّا کی پیداوار صحیح نہیں ہوئی۔ مہاجنوں سے سود پر روپے لے کر کسانوں نے مکّا اس خیال سے بوئی تھی کہ مکّا کی اچھی پیداوار ہوگی، لیکن ان کا خواب ادھورہ ہی رہ گیا۔ حالانکہ اس طرح کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی کسان بیج خریداری کے معاملہ میں ٹھگے جا چکے ہیں۔ احتجاج ومظاہرے کرکے کسانوں کے ذریعہ غصے کا اظہار کیا گیا۔ ضلع انتظامیہ کے ذریعہ ٹھوس کارروائی کا بھروسہ دلایا گیا، لیکن وقت کے ساتھ ٹھگی کا معاملہ دفن ہوکر رہ گیا۔اب ایک بار پھر کسان ٹھگے گئے ہیں۔ ہائے توبہ تو مچ رہی ہے لیکن لگتا نہیں ہے کہ اس بار بھی ضلع انتظامیہ کوئی ٹھوس کارروائی کرے گا۔ ہاں! کسانوں کو ٹھوس کارروائی کا بھروسہ ضرور مل رہا ہے۔ دیگر علاقوں کو اگر نظرانداز بھی کردیا جائے تو مکّا کا گڑھ کہے جانے والے فرکیا گھگڑیا ضلع کے بیلدور، پربتا، الولی، مانسی، چوتھم اور کھگڑیا ہیڈکوارٹر سے متصل رحیم پور کمہرچکی سمیت دیگر گاؤں کے کسان مکّا کی اچھی پیداوار نہیں ہونے کی وجہ سے کافی پریشان ہیں۔ بربتہ ڈویژن کے کسان جے رام یادو کا کہنا ہے کہ مکّا کے سرکاری بیج صحیح وقت پر نہیں ملنے کی وجہ سے ہم نے نجی کمپنیوں سے بیج خریدے۔ ایک سو روپے فی کلو کے نرخ سے پروایگرو کمپنی کا مکّا کابیج خریدا گیا، لیکن پیداوار نہ کے برابر ہونے سے اب مکّا کے پودوں کا استعمال مویشیوں کے چارہ کے لئے کیا جارہا ہے۔ اسی ڈویژن کے مشہور کسان نیپالی منڈل، راجیش سدا، سبودھ ساہ اور لالی جھا نے اپنی بے بسی بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ کئی بار سرکاری بیج پانے کی چاہت میں ٹھگے گئے ہیں۔ وقت پر سرکاری بیج دستیاب نہ ہونے سے بوائی نہیں کی جاسکی۔ اس لئے مجبور ہوکر پروایگرو کمپنی کا مکّا کا بیج خریدا تھا۔ بیج فروش نے اچھی پیداوار ہونے کا بھروسہ دلایا تھا۔ جب اچھی پیداوار نہیں ہوئی تو بیج فروش سے شکایت کی گئی۔ بیج فروش نے یہ کہہ کر پلہ جھاڑ لیا کہ کمپنی کے سیلس مین کے ذریعہ دلائے گئے بھروسے کی بنیاد پر ہی انہوں نے اچھی پیداوار کا بھروسہ دیا تھا۔ اس تعلق سے کمپنی سے شکایت کی گئی تو کمپنی نے کہا کہ اگر کمپنی کے ذریعہ اس تعلق سے کوئی پہل کی جائے گی تو کسانوں کو اطلاع دی جائے گی۔
کھگڑیاڈویژن کے صدر دفتر پرواقع شیخ پورا گائوں کے کسان جواہر مہتو کا کہنا ہے کہ پہلے لوگ مکّا کی پیداوار ہونے کے بعد مکّا کے کچھ اچھے دانوں کو بیج کے لئے رکھ لیتے تھے۔ بوائی کے وقت اسی گھریلو بیج کا استعمال کیا جاتا تھا، لیکن پیداوار بہت اچھی نہیں ہوتی تھی۔ کافی محنت و مشقت کے بعد بھی زیادہ سے زیادہ فی بیگھا ساٹھ من اناج ہی پیدا ہوتا تھا۔ اسی درمیان کارگل 900ایم نامی مکّا بیج بازار میں آیا۔ جب کسانوں نے اس بیج کا استعمال کرنا شروع کیا تو فی بیگھہ ایک سو سے ایک سو بیس من مکہ پیدا ہوئی۔اس نتیجہ کے بعد بیشتر کسانوں کے ذریعہ اسی بیج کا استعمال کیا جانے لگا۔ اس بیج سے اچھی پیداوار ہونے کے سبب کسانوں کا کارگل 900ایم کے تئیں اعتماد بڑھ گیا ۔ کسانوں کے کارگل 900ایم کے تئیں پختہ یقین کو مدنظر رکھتے ہوئے نقلی بیج کا کاروبار کرنے والے لوگوں نے اصلی پیکٹ میں نقلی بیج بازار میں اتار دیا۔ نتیجتاً کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔جب کسانوں کا کارگل 900ایم کے تئیں اعتماد ٹوٹ گیا تو پروایگرو کا بیج مارکیٹ میں آگیا۔کسانوں کے ذریعہ اس کمپنی کے بیج کا استعمال کرنے پر اچھا نتیجہ سامنے آ نے لگا، لیکن اب اس بیج کا استعمال کرنا بھی کسانوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ کسانوں کے لئے نہ روتے بن رہا ہے اور نہ ہی سسکتے۔ کئی کسانوں نے اس بار اچھی پیداوار ہونے کے بعداپنی بیٹی کی شادی تو کئی نے گھر بنانے کے ارمان پال رکھے تھے ،لیکن سب کے ارمانوں پر پانی پھر گیا۔ جواہر کہتے ہیں کہ انھوں نے فصل بوائی کے وقت مہاجن سے یہ سوچ کر قرض لیا تھا کہ اچھی پیداوار ہونے کے بعد وہ اپنی بیٹی کی شادی کر سکیںگے۔فصل اس قدر برباد ہوئی کہ پودے سمیت مکّا کا استعمال مویشی کےچارے کی شکل میں ہو رہا ہے۔ ایک لائسنس شدہ بیج فروش کا کہنا ہے کہ کوئی بھی کمپنی نہیں چاہتی ہے کہ بازار میں اس کی ساکھ پر بٹہ لگے۔ نقلی بیج کاکاروبار کرنے والے لوگ کمپنی کو بدنام کرتے ہیں۔ کچھ غیر لائسنس شدہ بیج فروش نقلی بیج کا کاروبار کرنے والوں کے ساتھ ہو جاتے ہیں اور کسان ٹھگی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس طرح معیاری کمپنیاں بدنام ہو کر رہ جاتی ہیں۔ ادھر نقلی بیج کا دھندہ کرنے والے ایک کاروباری نے نام نہیں شائع کرنے کی شرط پر بتایا کہ جس کمپنی کے بیج پر کسان زیادہ بھروسہ کرنے لگتے ہیں، اسی کمپنی کے بیگ میں نقلی بیج پیک کر کے بازار میں اتار دیا جاتا ہے۔ کسان بڑے بھروسہ کے ساتھ کمپنی کا بیج خریدتے ہیں اور ٹھگے جاتے ہیں۔ ٹھگی کا شکار ہونے کے بعد جب کسان دوسری کمپنی کے بیج پر بھروسہ کرنے لگتے ہیں تو پھر اس کا بھی نقلی بیج بازار میں اتار دیا جاتا ہے۔ کاروباری کے مطابق بازار میں مکّا عموماً چار سے پانچ روپے فی کلو ملتی ہے۔ کاروباری کے ذریعہ فراہم کردہ معلومات کے مطابق مکئی کے دانے چار سے پانچ روپے فی کلو خرید لئے جاتے ہیں اور اس کو اصلی بیج کی طرح رنگ کر مشہور کمپنی کے پاکیٹ میں بھر کر بازار میں فراہم کرادیا جاتا ہے۔ کسانوں کے ذریعہ اصلی اور نقلی بیج کی پہچان بہت مشکل ہے۔ اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نقلی بیج فروشوں کے ذریعہ کسانوں کو ٹھگی کا شکار بنایا جاتا ہے۔ اس کے مطابق بیج فروش اگر چاہیں تو کسانوں کو ٹھگی کا شکار ہونے سے بچا سکتے ہیں، لیکن زیادہ منافع کی چاہت میں بیج فروشوں کے ذریعہ کسانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب ضلع زراعتی افسرسریندر ناتھ کا کہنا ہے کہ یہ کافی حد تک صحیح ہے کہ وقت پر کسانوں کو سرکاری بیج فراہم نہیں ہو پاتے ہیں۔جس کے سبب انہیں پرائیویٹ کمپنیوں کے بیج کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ نقلی بیج کا دھندہ کرنے والے دکانداروں کے خلاف وقت وقت پر کارروائی کی جاتی ہے۔ اگر اس بار بھی کسانوں کے ذریعہ شکایت کی جائے گی تو یقینی طور پر قصوروار دکانداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی لیکن کسانوں کو بھی چاہئے کہ لائسنس شدہ بیج فروشوں سے ہی رسید کے ساتھ بیج کی خریداری کریں۔ بہر حال، ٹھگی کا شکار ہونے والے کسانوں کی شکایت پر نقلی بیج فروشوں کے خلاف کارروائی ہوگی یا یہ معاملہ بھی دیگر معاملوں کی طرح فائلوں میں دفن ہو کر رہ جائے گا، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن ضلع انتظامیہ کو چاہئے کہ کسانوں کو نہ صرف صحیح وقت پر سرکاری بیج فراہم کرائے بلکہ نقلی بیج کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی بھی کرے، جس سے مستقبل میں کسان ٹھگی کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *