سنتوش بھارتیہ
اجودھیا پر الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد کئی لوگ اس سوال پر اپنی رائے کا اظہار کر رہی ہیں۔ نہ صرف رائے کا اظہار کر  رہے ہیں، بلکہ سیاست کو نئے سرے سے موڑنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ لیکن ملک کے عوام، جس میں مسلمان بھی شامل ہیں اور ہندو بھی، اس سوال سے بہت پریشان نہیں ہیں۔ فیصلہ آنے سے پہلے ملک کے، خاص طور سے شمالی ہند کے مندروں میں بھجن-کیرتن ہوئے، لوگوں کو منظم کرنے کی کوشش ہوئی، لیکن عام آدمی اس سے نہیں جڑا۔ دوسری جانب مسلم سماج نے کہا تھا کہ عدالت کا جو فیصلہ آئے گا، وہ قبول ہوگا۔ عدالت سے مطلب ہائی کورٹ بھی ہے اور سپریم کورٹ بھی۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ گلے سے نیچے نہیں اترتا۔ پہلے یہ مقدمہ چلا کہ یہ زمین کس کی ہے، پھر اس میں مزید معاملے  شامل ہوتے چلے گئے۔ زمین کے تنازعہ کا مقدمہ، رام کہاں پیدا ہوئے تھے، اس پر آکر اٹک گیا۔ ججوں کی سمجھ داری کو سلام کرنا چاہیے کہ انہوں نے بتایا کہ رام، بابری مسجد کے درمیانی گنبد کے ٹھیک نیچے پیدا ہوئے تھے۔ تینوں جج اگر یہ بھی بتا دیتے کہ تینوں رانیوں کے محل ایک تھے یا الگ الگ، وہ ایک کوٹھری میں رہتی تھیں یا الگ الگ کوٹھریوں میں، راجا دشرتھ کا دربار، ان کا بیڈ روم اور ان کا ڈائننگ روم کہاں تھا۔ ان کے درباری، ان کے گرو، ان کی فوج کہاں رہتی تھی، تو ملک کا بہت بھلا ہوتا۔ لیکن جج صاحبان نے یہ سب نہیں بتایا۔
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ گوسوامی تلسی داس سے پہلے ملک میں بالمیکی رامائن چلتی تھی، جس میں رام ایک کردار تھے، مثالی کردار تھے اور انہیں ’مریادا پروشوتم‘ کہا جاتا تھا۔ تلسی داس جی نے ’رام چرت مانس‘ لکھ کر انہیں بھگوان بنا دیا۔ زبان کی وجہ سے گواسوامی تلسی داس جی کی لکھی گئی رامائن شمالی ہند کے گھر گھر میں مقبول ہوگئی اور مریادا پروشوتمـ رام، بھگوان رام میں بدل گئے۔ گوسوامی تلسی داس اکبر کے زمانہ میں تھے اور رامائن بھی تبھی لکھی گئی تھی۔ رام سے جڑی آستھا جس نے انہیں بھگوان بنایا، اسی وقت پیدا ہوئی۔
ملک کی کوئی ہندو تنظیم بالمیکی رامائن کی بات نہیں کرتی۔ اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ مہارشی بالمیکی دلت مہاتما تھے، جنہیں ہندوستانی منووادی سماج نے کبھی قابل احترام قبول ہی نہیں کیا، دوسری وجہ یہ ہے کہ انہوں نے رام کتھا کو، جیسی تھی ویساہی لکھا۔ اس پوری رامائن میں رام کی اچھائیاں، ان کی کمزوریاں، ان کی حکمت عملی کی بڑائیاں اور خامیاں تفصیل سے کہی ہیں۔ گوسوامی تلسی داس برہمن تھے اور انہوں نے رام کے کردار کو بھگوان کی شکل میں اس لیے رکھا، کیوں کہ وہ اس وقت کی حکومت کے خلاف عام لوگوں کا حوصلہ بڑھانا چاہتے تھے۔ رامائن لوگوں کو اکٹھا ہونے، راون کے مظالم پر بات کرنے کا ان دنوں ایک ذریعہ بن گئی تھی، جس کتھا کو مہارشی بالمیکی نے کہا، وہ بھی’جنم استھان‘ـ نہ لکھ پائے، خود گوسوامی تلسی داس جب اجودھیا گئے تو وہ وہاں کسی مندر میں نہیں ٹھہرے، وہ ایک مسجد میں ٹھہرے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ جگہ بابری مسجد ہی تھی، جہاں گوسوامی تلسی داس ٹھہرے تھے، لیکن گوسوامی جی کے کسی گرنتھ میں رام کہاں پیدا ہوئے تھے، ایسابیان نہیں ملتا۔ ہمارے تینوں فاضل جج صاحبان نے جب یہ فیصلہ دیا ہے تو ظاہر ہے، ہمیں ان کا احترام مہارشی بالمیکی اور گوسوامی تلسی داس سے زیادہ کرنا چاہیے۔
گزشتہ 26؍ نومبر کو اجودھیا میں رَسِک پیٹھادھیشور مہنت جنمے جے شرن نے صوفی جیلانی قتال کو اپنے مندربلایا۔ یہاں رام جانکی کا بڑا مندر ہے اور یہ علاقہ بڑا استھان کہلاتا ہے۔ یہاں کافی سادھو سنت اور صوفی اکٹھے ہوئے۔ مہنت جنمے جے شرن اور صوفی صاحب کو آگے کر کے تمام لوگ اس مقام کی طرف گئے، جس مقام کا فیصلہ ہائی کورٹ نے کیا ہے اور جس اراضی کو تین برابر حصوں میں تقسیم کرنے کی بات کہی ہے۔ سارے بازار والوں نے ان کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے پہلے متنازع اور اب فیصلے کے بعد پوری اراضی کو دیکھا اور وہاں موجود لوگوں سے کہا کہ مندر اور مسجد بنتے رہیںگے، لیکن اگر لوگوں کے دل نہ بنیں تو ان کے بننے کا مطلب کیا۔ دونوں نے کہا کہ ملک میں رہنے والوں کا پیار اور ان کا بھائی چارہ کسی بھی مندر اور مسجد کے برابر ہی اہم ہے۔
اجودھیا میں مہنت جنمے جے شرن کے ساتھ صوفی جیلانی کی آمد نے انہیں خوف زدہ کردیا، جو اس سوال کا سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ وشو ہندو پریشد کے لوگوں کا بیان آنے لگا کہ جس دروازے سے شنکر اچاریہ کو نہیں جانے دیا گیا، اس دروازے سے یہ دونوں کیسے گئے۔ یہ وہی ذہنیت ہے، جس نے مہارشی بالمیکی کو اس ملک میں پورے طور پر قابل قبول نہیں ہونے دیا۔ ایسے لوگوں کو صوفی کا اجودھیا میں جانا اچھا نہیں لگا، کیوں کہ اگر یہ 100سال پہلے زندہ ہوتے تو انہیں گوسوامی تلسی داس کا مسجد میں رہ کر رام کے دوہے رچنا بھی اچھا نہیں لگتا، یہ بیان دیتے اور تحریک چلاتے۔
لیکن الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے نے ایک راستہ دکھایا ہے، جس سے یہ تنازعہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوسکتا ہے۔ مشہور اسلامک اسکالر مولانا کلب رشید رضوی سے میری بات ہوئی اور صوفی جیلانی اور مہنت جنمے جے شرن سے بھی بات ہوئی۔ تمام لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اگر پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کرے کہ 15اگست 1947کو ملک کے جس مذہبی مقام کی جو حالت تھی، وہی رہے گی یا الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے دن جس مذہبی مقام کی جو حالت تھی، وہی رہے گی اور مسلمان الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو جیسے کا تیسا مان لیں، تو اس مسئلہ کا ہمیشہ کے لیے نمٹارا ممکن ہے، لیکن اس سے وہ مقامات الگ ہیں، جنہیں سپریم کورٹ نے غیرقانونی کہا ہے، جنہیں ہٹانے کے لیے مختلف ریاستی حکومتوں کو احکامات دیے ہیں۔
ملک کے عوام یہی چاہتے ہیں، کیوں کہ لڑنے کے لیے بے کاری، مہنگائی، بدعنوانی، بیماری، ترقی، عدم مساوات جیسے سوال ہیں۔ یہی مذہب کی کسوٹی ہے، کیوں کہ جو مذہب انسان کو، اسے ماننے والوں کو زندگی میں آگے نہ بڑھائے، وہ مذہب انسان کے لیے نئے دروازے نہیں کھولتا۔
اب حکومت کو آگے آنا چاہیے اور آئین میں ترمیم کی تجویز ملک کے سامنے رکھنا چاہیے۔ مسلمانوں کے درمیان سمجھ دار لوگوں اور ملک کی سول سوسائٹی کو آگے بڑھ کر، سالوں پہلے ہوئے حادثہ کو بھول کر آگے بڑھنے کے لیے ملک کے عوام کو آواز دینی چاہیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here