تہاڑ میں بند مسلم قیدی صابر کا الزام، زبردستی میرے پیٹھ پر گودا ’اوم‘ کا ٹیٹو

Share Article
Om-Tatoot-in-Tihar-Jail

دہلی کی تہاڑ جیل سے ایک حیرت انگیز معاملہ سامنے آیا ہے۔دراصل، تہاڑ جیل کے ایک قیدی نے وہاں کے حکام پر بیحد سنگین الزام لگایاہے۔ مسلم قیدی صابرنے کڑکڑڈوما کورٹ میں پیشی کے دوران الزام لگایا کہ جیل نمبر چار کے سپرنڈنٹ راجیش چوہان نے اس کی پیٹھ پر ’اوم‘کا نشان گود دیا۔جبکہ صابر مسلم ہے۔ اتنا ہی نہیں اس کے ساتھ مارپیٹ کر کے افسر نے بھوکا بھی رکھواے ہیں۔ معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے عدالت نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔انکوائری کی ذمہ داری ڈی آئی جی کو سونپی گئی ہے۔ تحقیقات کے بعد دو دن میں اس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔ سیکورٹی کے لحاظ سے قیدی صابر کو جیل نمبر چار سے جیل نمبر ایک میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔

دراصل جمعرات کو قیدی صابر کی عدالتی حراست بڑھانے کے لئے مشرقی دہلی کے کڑکڑڈوما کورٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ قیدی نے لاک اپ کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے اپنے کپڑے اتار کر’ اوم‘ کا نشان دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ نشانات کسی دھات (آلہ)کو گرم کرکے داغا گیا ہے۔قیدی کا الزام ہے کہ واقعہ 17 اپریل کاہے۔

الزام لگانے والا قیدی صابر دہلی کے ہی نیو سیلم پور علاقے کا رہنے والا ہے۔پولیس نے اسے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا جس کے بعد سے ہی وہ عدالتی حراست میں ہے۔ اسے تہاڑ جیل نمبر ۔4 کے ہائی رسک وارڈ میں رکھا گیا تھا۔ قیدی نے فون پر اپنے اہل خانہ کو بتایا کہ اسے جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد جب صابر کو عدالتی حراست میں کڑکڑڈوما کورٹ میں پیش کیا گیا تو صابر کے لواحقین وکیل کے ساتھ کورٹ پہنچ گئے۔

جس کے بعد صابر کے وکیل نے ڈیوٹی مجسٹریٹ رچا پرہار کو صابر کی شکایات کے بارے میں بتایا۔ مجسٹریٹ نے لاک اپ کے اندر ہی قیدی کی پیٹھ پر داغے گئے اوم کے نشان کی تصویر کھنچوائی اور وکیل کی عرضی پر تہاڑ انتظامیہ کو 24 گھنٹے میں جواب داخل کرنے کی ہدایت جاری کی۔ مجسٹریٹ نے اپنے حکم میں جیل انتظامیہ کو اعلی سطحی جانچ کا حکم دیا ہے۔ساتھ ہی کہا ہے کہ جیل میں CCTV کیمروں اور دوسرے قیدیوں کے بیان کی بنیاد پر رپورٹ پیش کی جائے۔

اب 22 اپریل کو ہوگی سماعت
اب اس معاملے میں کورٹ کے حکم پر جیل انتظامیہ کو 18 اپریل کو ہی رپورٹ سونپنی تھی لیکن 18 اپریل کو دوپہر 2 بجے تک تہاڑ انتظامیہ کی جانب سے جواب داخل نہیں کیا گیا۔ جس کی وجہ سے کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت کی تاریخ 22 اپریل مقرر کر دی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *