انصاف کے لئے درد در بھٹکتے فاربس گنج کے متاثرین

عابد انور
ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے حصول انصاف کتنا مشکل امر ہے اس کا اندازہ فاربس گنج کے بھجن پور میں پولس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے متاثرین کو دیکھ کر اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔3 جون کو پولس فائرنگ میں ایک چھ ماہ کا بچہ ایک خاتون سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن میڈیا نے، جس میں اردو میڈیا بھی شامل ہے، اسے مکمل طور پرنہیں تو مجموعی طور پر ضرور نظر انداز کردیا ۔ یہ بات ہم نہیں کہہ رہے ہیں اخبارات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے، جہاں پٹنہ سے شائع ہونے والے ہندی کے اخبارات دینک ہندوستان، جاگرن اور پربھات نے اس واقعہ کو کوئی اہمیت نہیں دی بلکہ ایک دو دن کے علاوہ اس واقعہ کے بارے میں اس میں کوئی خبر نہیں تھی وہیں اردو کے ملٹی ایڈیشن اخبارات کو یہ کوئی بڑا واقعہ نظر نہیں آیا۔ کب کس نے اس واقعہ پر توجہ دی ایک ایک بات نوٹ کی گئی ہے اور یہ سب انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ عام لوگوں نے اپنی بات دنیا تک پہنچانے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے، اب وہ کسی روزنامہ پر صرف انحصار نہیں کرتے بلکہ اپنے ذرائع سے اپنی بات عوام تک پہنچادیتے ہیں۔ اس معاملے میں بھی کون کیا کہہ رہا ہے اس واقعہ سے کس کو تکلیف پہنچی اور کس نے خوشی منائی تمام چیزیں انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔ یہ میڈیا خاص طور پر پٹنہ نشیں صحافیوں کے لیے تازیا نہ کی بات ہے کہ انہوں نے حکومت بہار کے ہاتھوں اپنا سب کچھ گروی رکھ دیا ہے اور اس معاملے کو دبانے کی بھرپور کوشش کی اور اس میں انہیں کامیابی بھی ملی۔ یہ بات ملک کے سامنے اجاگر ہونے سے رہ جاتی اگر دہلی کے صحافی اور متاثرین کے ورثاء دہلی نہیں آتے اور پریس سے خطاب نہیں کرتے۔ ان متاثرین کو اپنی آوازملک اور حکومت تک پہنچانے کے لیے پہلے ریاستی راجدھانی پٹنہ اور پھر قومی راجدھانی دہلی کا سفر کرنا پڑا۔ جائے واقعہ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے دہلی میں پانچ روز ہ قیام کرنے والے مہلوکین کے متاثرین نے اس دوران ملک کے ارباب اقتدار، حقوق انسانی کے علمبردار اور اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کا دم بھرنے والے کمیشن سمیت نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری، محترمہ سونیا گاندھی اور مرکزی وزراء سے ملاقات کی اور اپنے اوپر ہونے والے مظالم سے روشناس کرایا۔
اس واقعہ کے بارے میں مسلم قائدین خواہ وہ مولوی ہوں یا مسٹر، کا رویہ نہایت مایوس کن رہا ہے۔ کسی نے بھی اس معاملے میں اپنے لب کو جنبش دینے کی کوشش نہیں کی۔ بات بات پر پریس ریلیز لے کر اخبارات، نیوز ایجنسیوں کے دفتر کا چکر لگانے والی تنظیموں اور علماء کا رویہ بھی تجاہل عارفانہ کا رہا ۔ معلومات کے فقدان کا یہ عالم رہا کہ ان لوگوں کو اس واقعہ کی خبر تک نہیں ہوسکی۔ ہندوستان میں پوری مسلم قیادت مذمت ، مطالبہ اور خیرمقد م کے دائرہ میں قید ہے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی اور کارنامہ قابل ذکرنہیں ہے اور نہ ہی کوئی کام جو مطالبے سے آگے بڑھ کر نفاذ اور نتائج کا جامہ پہنچا ہو۔ ان لوگوںکو کسی واقعہ کے بارے میں اس وقت تک معلوم نہیں ہوتا جب تک کہ مقامی اردو اخبارات میں وہ خبر شائع نہ ہوجائے۔بہت بار ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ جب خبریں کافی پرانی ہوجاتی ہیں تب یہ قائدین خواب غفلت سے بیدار ہوتے ہیں اور رٹے رٹائے گھڑیالی آنسو بہانے والا بیان جاری کردیتے ہیں۔مسلمانوں کی قیادت کا دم بھرنے والی جمعیۃ علماء ہند، جماعت اسلامی ہند، مرکزی جمعیت اہل حدیث تین بڑی جماعتیں ہیں اور سب کے پاس میڈیا سیل اور نشر و اشاعت کا شعبہ بھی ہے، جب بھی بیان جاری ہوتا ہے ان ہی شعبوں سے ہوتا ہے لیکن بے خبری کا یہ عالم ہوتا ہے کہ آج تک کسی خبر پر بروقت ردعمل سامنے نہیں آیا، مسلم مسائل کے تئیں یہ لوگ کتنے حساس ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جب بے خبری کا دائرہ اس حد تک وسیع ہے تو مسائل سے ناواقفیت کس حد تک ہوگی۔ ایک ایسا واقعہ جس نے ساری انسانیت کو شرمسار کیا اور پولس والوں کی دہشت گردی، بربریت، سفاکیت اور حیوانیت کو اجاگر کیا جس پر اخبارات میں خبریں شائع ہوئیں لیکن اس پر کسی مسٹر یا مولانا نے بروقت کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ۔ کچھ نے ردعمل کا اظہار اس وقت کیا جب یہاں کے ایک اردو اخبار میں اس بارے میں مضامین شائع ہوئے۔ بہار میں اس طرح کااپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ پٹنہ کے اخبارات سمیت دہلی کے ہندی اور انگریزی اخبارات میں بھی خبریں شائع ہوئی تھیں لیکن ہمارے کسی مسلم قائدین، خواہ وہ مولوی ہوں، مسٹر، وزراء ہوں یا رکن پارلیمان کسی کو خبر نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی نے اس پر کسی ردعمل کا اظہار کیا اور نہ اس ضمن میں کوئی قدم اٹھایا۔ جس طرح حکومت سرحدی علاقے کو نظر انداز کرتی ہے اسی طرح مسلم تنظیموں کے لیے بھی سرحدی علاقے کسی کام کے نہیں ہوتے۔
اس واقعہ کے بعد جائے حادثہ کا دورہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سوا تمام بڑی پارٹیوں کے لیڈران اور کمیشن کرچکے ہیں جس میں لوک جن شکتی پارٹی کے صدر رام ولاس پاسوان، رام چندر پاسوان، ممبر اسمبلی ذاکر انور ، آر جے ڈی کے لیڈر اور بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عبدالباری صدیقی، کانگریس کے جنرل سکریٹری اور بہار امور کے انچارج گورشین سنگھ چرک ، ریاستی صدر محبوب علی قیصر، ڈاکٹر شکیل احمد خاں، سی پی آئی (ایم ایل ) کے نندکشور،جے ڈی یو کے لیڈر تسلیم الدین اور سرفراز عالم اور دیگر اہم رہنما، کمیشنوں کے وفود، قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین وجاہت حـبیب اللہ ، اس کی ممبر سعیدہ بلگرامی امام، انہد کی شبنم ہاشمی اور کئی دیگر اہم تنظیموں کے وفود اور ارکان شامل ہیں۔ مسٹر محبوب قیصر نے اس معاملہ میں کافی سنجیدگی دکھائی ہے اور انہوں نے نہ صرف متاثرین کا حال چال پوچھا بلکہ عبوری طور پر کچھ مدد بھی کی اور حکومت بہار کو الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر اس نے واقعہ کے پندرہ دن کے اندر خاطیوں کے خلاف کارروائی اور متاثرین کے لیے معاوضہ کا اعلان نہیں کیا تو پورے بہار میں ہر ضلع اور سب ڈویژن میں مظاہرہ اور احتجاج کیا جائے گا۔ محترمہ سونیا گاندھی کی مداخلت پر کانگریس پارٹی کی طرف سے ریاستی صدر محبوب علی قیصر اور ریاستی ترجمان ڈاکٹر شکیل احمد خاں کی موجودگی میں مسٹر چرک نے مہلوکین کے ورثاء کو ایک ایک لاکھ روپے اور زــخمیوںکو دس دس ہزار روپے کا چیک پیش کیا۔ بہار پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر محبوب علی قیصر نے بھی اس موقع پر متاثرین کو ڈھارس بندھائی اور اس لڑائی کو منطقی انجام تک پہنچانے کا وعدہ بھی کیا۔ ڈاکٹر شکیل احمد خاں ابتدا سے ہی متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آئے اور پٹنہ اور دہلی میں بھی متاثرین کے ساتھ تھے اور انہوں نے اس لڑائی کو لڑنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔اگر یہ موضوع ملک گیر بنا ہے تو اس کا سہرا ڈاکٹر شکیل احمد خاں کو ہی جاتا ہے۔
متاثرین کا وفد جس کی قیادت انہد کی سربراہ اور مشہور سماجی کارکن محترمہ شبنم ہاشمی اور ڈاکٹر شکیل احمد خاں نے کی تھی، قومی راجدھانی دہلی میںنائب صدر جمہوریہ حامد انصاری، قومی حقوق انسانی کے چیئرمین کے جی بالاکرشنن، قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین وجاہت حبیب اللہ، اس کی ممبر سعیدہ بلگرامی امام، وزیر مملکت انڈسٹریز اشونی کمار، وزیر اقلیتی امور سلمان خورشید اور پلاننگ کمیشن کی ممبر محترمہ سیدہ سیدین حمید سے ملاقات کی۔ نائب صدر جمہوریہ ہند محمد حامد انصاری نے متاثرین کے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ وہ مظلومین کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔وفد نے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کرکے اپنے اوپر ہونے والے مظالم سے آگاہ کیا۔سماجی کارکن محترمہ شبنم ہاشمی اور بہار کانگریس کے ترجمان ڈاکٹر شکیل احمد خاں نے قیادت کی، نائب صدر جمہوریہ کو پولس فائرنگ کی پوری تفصیلات بتائیں اور صدر جمہوریہ نے متاثرین سے فرداً فرداً روداد سنیں۔ مسٹر حامد انصاری نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنے اختیارات کے مطابق کارروائی کریں گے اور ریاستی حکومت کو اس ضمن میں انصاف کے لیے خط لکھیں گے۔ قومی حقوق انسانی کمیشن کے چیئرمین کے جی بالاکرشنن نے بھجن پور میں پولس کے مبینہ رویے کی سخت مذمت کرتے ہوئے متاثرین کے اس وفد سے کہا کہ وہ اس قانونی لڑائی میں مظلوموںکے ساتھ ہیں اور جلد ہی قومی حقوق انسانی کمیشن کا ایک وفد جائے واردات کا دورہ کرکے حقائق کا پتہ لگائے گا۔محترمہ ہاشمی نے فاربس گنج پولس فائرنگ کی تفصیلات سے کمیشن کے چیئرمین کو آگاہ کیا اورایک میمورنڈم اور وہ فوٹیج بھی سی ڈی کی شکل میں پیش کیے جو پولس بربریت کا مظہر بتائے جاتے ہیں۔ محترمہ ہاشمی نے وہاں موجود میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کمیشن سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ چار ہزار متاثر گاؤں والوں کے خلاف جو مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں انہیں فوراً واپس لیا جائے، خاطی پولس اور دیگر افسران کے خلاف مقدمات دائر کیے جائیں اور مہلوکین کے ورثاء کو معاوضہ دیا جائے۔ڈاکٹر شکیل احمد نے اس موقع پر حکومت بہار پر جارحانہ رویے اور متاثرین کے گھر والوں کو خوف زدہ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ مجبوراََ یہ لڑائی ہمیں دہلی تک لانی پڑی ہے۔
حصول انصاف کی مہم میں شامل ہوتے ہوئے لوک جن شکتی پارٹی کے صدر رام ولاس پاسوان نے وزیر اعظم سے ملاقات کرکے انہیںاس واردات کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی اور پولس مظالم کی داستان بیان کی کہ کس طرح گاؤں والوں کے خلاف فساد برپا کرنے کا معاملہ درج کیاگیا ہے۔مسٹر پاسوان نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنے ہوئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار مسلمانوں پر زیادتی کرکے بہار کو گجرات بنانے کی سازش کررہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس کے جنرل سکریٹری راہل گاندھی سے فاربس گنج کا دورہ کرنے کا مطالبہ کیا ۔ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے گزشتہ تین جون کو پولس فائرنگ میں چار بے قصور لوگوں کی موت کی سی بی آئی سے انکوائری کرانے اور بہار حکومت سے استعفیٰ دینے کے مطالبے کے ساتھ زیر اعظم کو دیے گئے میمورنڈم میں مرکزی حکومت سے اس بربریت کے معاملے میں مداخلت کرنے اور وہاں ایک انکوائری ٹیم فوراََ بھیجنے، مرنے والوں کے خاندان کو بیس بیس لاکھ روپے معاوضہ دینے، پولس فائرنگ میں ملوث ارریہ کے ایس پی اور فاربس گنج کے ایس ڈی او کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کرنے اور انہیں فوراََ معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے معاملہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے وزیر داخلہ پی چدمبرم کو ضروری ہدایات دینے کی یقین دہانی کرائی۔آر جے ڈی کے قومی ترجمان شکیل احمد خاں نے الزام لگایا کہ فاربس گنج فائرنگ کی عدالتی انکوائری کا اعلان ریاستی حکومت نے معاملے کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنے کے مقصد سے کیا ہے۔ اگر وزیر اعلیٰ نتیش کمار اس واقعہ کے سلسلے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو اب تک وہ خود یا ان کے کابینہ کا کوئی وزیر متاثرین سے ملاقات اور حالات کو جاننے کے لیے وہاں کیوں نہیں گیا۔ انہوں نے پولس اور انتظامیہ کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟ دراصل مسٹر نتیش کمار اس واردات کے لیے اصل ذمہ دار نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ اندوہناک سانحہ دراصل بہار کو دوسرا گجرات بنانے کی کوشش ہے۔ فاربس گنج پولس فائرنگ کا واقعہ صرف ایک کڑی ہے اور ایک ٹسٹ ہے، جسے بہار کے مختلف علاقوںمیں کیا جانا ہے۔کشن گنج میں مسلم یونیورسٹی کی برانچ نہ کھولنے دینا جہاںفرقہ پرستوں کے عزائم کو ظاہر کرتا ہے وہیں بہار کی سیکولر حکومت پر سوالیہ نشان بھی لگاتا ہے۔ نتیش کمار مکمل طور پر بی جے پی کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں اگر وہ سیکولر ہوتے اور مسلمانوں کے کسی بھی طرح سے بہی خواہ ہوتے تو گودھرا کا سچ بہت پہلے سامنے آتا جب وہ ریلوے کے وزیر تھے لیکن انہوں نے اس ضمن میں کوئی قدم نہیں اٹھایا تھا۔ این ڈی اے کی گود میں بیٹھنے والے نتیش کمارکو گرچہ میڈیا نے خوبصورت چہرہ عطا کردیا ہے لیکن یہ مصنوعی خوبصورتی بہت جلد بدصورتی میں تبدیل ہونے والی ہے کیوں کہ بہار کے عوام سچ کو جان گئے ہیں۔ بہار میں ترقی کا شور صرف میڈیا میں ہے، زمینی سطح پر عوام بہت نچلی سطح پر کھڑے ہیں۔ اس لیے بہار میں اگلا الیکشن جیتنے کے لیے حکومت فرقہ پرستی کا سہارا لے رہی ہے، فاربس گنج پولس فائرنگ کے واقعہ کو اسی آئینہ میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *