فاربس گنج کانڈ: مالے نے دلایا آدھا انصاف، اب سپریم کورٹ سے آس

Share Article

اشرف استھانوی
بہار کے بد نام زمانہ فاربس گنج گولی کانڈ کے مظلومین کو انصاف ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ اس گولی کانڈ میں شکم مادر میں سانس لے رہے ایک معصوم بچہ سمیت پانچ افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ یہ سبھی لوگ غریب اور پسماندہ مسلمان تھے اور ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اپنے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھنے والے 50 سال پرانے راستہ کو بند کرنے کی مخالفت کر رہے تھے جس پر چل کر وہ بازار، اسپتال اور عید گاہ جایا کرتے تھے یا اپنے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کر پاتے تھے۔ 3 جون، 2011 کو نماز جمعہ کے بعد ہوئی یہ فائرنگ چونکہ حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی شہہ پر اقتدار سے جڑے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے کی گئی تھی، اس لیے اس معاملے کی تحقیقات سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ روز اول سے مسلمانوں اور دیگر حقوق انسانی کی علمبردار تنظیموں کی طرف سے کیا جاتا رہا ہے۔ مگر بہار کی نتیش حکومت نے اس معاملے میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک عدالتی کمیشن قائم کرکے معاملہ کو حسب روایت دبا دینے کا فیصلہ کیا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ عدالتی کمیشن کے قیام کے وقت حکومت نے کہا تھا کہ کمیشن 6 ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور رپورٹ میں جو لوگ بھی قصور وار پائے جائیں گے انہیں معقول سزا دی جائے گی۔ لیکن 6 ماہ تک تو کمیشن کو ہی ہوا میں معلق رکھا گیا اور اسے بنیادی ڈھانچہ یا ضروری سہولیات مہیا نہیں کرائی گئیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج 15 ماہ بعد بھی کمیشن اپنی رپورٹ پیش کرنے میں ناکام ہے۔ اس دوران اس کی مدت کار میں دو بار توسیع کی جا چکی ہے۔

فاربس گنج کمیشن سے وہاں کے مظلومین اور عام مسلمانوں کو اس لیے بھی انصاف کی امید نہیں ہے کہ نتیجہ طے کر لیا گیا ہے او راسی کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ تیار کرائی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمیشن فاربس گنج میں فائرنگ معاملے میں جو سنوائی کر رہا ہے اس میں ریاستی حکومت، فاربس گنج انتظامیہ اور خود کمیشن کی طرف سے بڑے بڑے اور کافی مہنگے وکیلوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں مگر کسی بھی پینل میں کسی مسلم وکیل کو شامل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ہے، حالانکہ انصاف کا تقاضہ یہ تھا کہ مسلم وکلاء بھی شامل کیے جاتے تاکہ مسلمانوں کا موقف مضبوطی کے ساتھ پیش کیا جا تا اور اگر کسی طرف سے ڈنڈی مارنے کی کوشش ہوتی تو مسلم وکلاء اس کی مخالفت کے لیے وہاں پر موجود ہوتے، لیکن یہ سب کچھ نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے حکومت اور انتظامیہ کی منشا ظاہر ہوتی ہے۔ فاربس گنج معاملے میں حکومت اور انتظامیہ کو زر خرید مقامی میڈیا کا تعاون روز اول سے حاصل رہا ہے۔

کمیشن پر ماہانہ لاکھوں روپے صرف کیے جا رہے ہیں، لیکن ابھی تک اس سے حاصل کچھ نہیں ہوا، یہاں تک کہ مظلومین کے ورثاء کو ایک پیسہ بھی معاوضہ کے طور پر نہیں مل سکا ہے، جب کہ عام حالات میں 24 گھنٹے کے اندر معاوضہ اور آخری رسوم کی ادائیگی کے اخراجات تک مل جاتے ہیں۔ یہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا ایک سنگین معاملہ تھا، لیکن اس معاملے میں حکومت و انتظامیہ نے تو سرد مہری کا مظاہرہ کیا ہی۔ بابا رام دیو کے حامیوں پر لاٹھی چارج کے معاملے میں از خود نوٹس لینے والی عدلیہ نے بھی اس وقت اپنے حساس ہونے کا ثبوت نہیں دیا۔ لیکن اب ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کی عرضی پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت سے 3 ہفتے کے اندر جانچ رپورٹ طلب کی ہے۔ ایسوسی ایشن نے اپنی عرضی میں عدالت سے درخواست کی ہے کہ زمین تحویل میں لے کر پرانے راستہ کو بند کردینے کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر ہوئی پولس فائرنگ کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جائے، کیوں کہ یہ سارا معاملہ اقتدار سے جڑے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کا ہے۔
ویسے حکومت اور انتظامیہ کے نہ چاہتے ہوئے بھی گزشتہ 16 اگست کو فاربس گنج کے مظلومین کو آدھا انصاف مل چکا ہے۔ اس دن بہار کے بعض علاقوں میں سرگرم سی پی آئی مالے کے ہزار وں کارکنوں نے روایتی اسلحہ سے لیس ہو کر دن کے اجالے میں اور انتظامیہ کو کھلے طور پر چیلنج کرتے ہوئے اس راستے کو دوبارہ کھول دیا ہے، جسے بیاڈا کے ذریعہ تحویل میں لیے جانے کے بعد اووروسندرم گلو کوز فیکٹری کو سونپ دیا گیا تھا اور انتظامیہ کی مدد سے جہاں راتوں رات دیوار کھڑی کرکے راستہ مسدود کر دیا گیا تھا اور جب بھجن پور گائوں کے لوگوں نے وہاں پہنچ کر احتجاج کرنا شروع کیا تو ان پر بے رحمی سے گولیاں برسائی گئیں، جس میں 5 بے قصور مارے گئے اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ مقتولین میں وہ جوان بھی شامل ہے جو محض زخمی تھا اور اس کی جان بچائی جا سکتی تھی، مگر مسلم دشمنی میں پاگل ہو رہے ایک خاکی وردی دھاری نے اس کے چہرے اور سینے کو اپنے بوٹوںسے روند کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا اور جس کا ویڈیو فوٹیج ایک ٹی وی چینل نے پورے ملک کو دکھا کر ان کے اندر چھپے ہوئے انسانی جذبہ کو بیدار کرنے کا کام انجام دیا تھا۔ سی پی آئی مالے کے رضا کاروں نے حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھجن پور گائوں کے مظلومین کی مدد سے نہ صرف وہ دیوارمنہدم کی، جسے انتظامیہ نے قائم کی تھی، بلکہ آپسی شرم دان کی مدد سے مٹی بھرائی کا کام کرکے راستہ کو چلنے کے لائق بنا دیا۔ اس دوران پولس اور انتظامیہ کے لوگ آس پاس پھٹکنے کی بھی ہمت نہیں کر سکے، روکنے یا حکم امتناعی کی خلاف ورزی پر کارروائی کی بات بھی دور رہی۔ لال سلام کا نعرہ لگا رہے مالے کارکنان، تیر، دھنش ، بھالا، پھرسا ، تلوار اور لاٹھیوں سے لیس تھے۔ بعد میں بھجن پور گائوں میں سی پی آئی مالے کی طرف سے ایک جلسہ کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں سڑک بحال رکھنے کے معاملے پر تحریک جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے انتظامیہ کو کھلا الٹی میٹم دیا گیا کہ وہ اس راستے کو بند کرنے کا خیال بھی دل میں نہ لائے، کیوں کہ ایسی کسی بھی کوشش کا مالے کی طرف سے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ مالے کارکنوں نے بھجن پور گائوں میں فتح جلوس بھی نکالا۔ جلوس میں پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے رکن اور سابق رکن پارلیمنٹ رامیشور پرساد اور سابق رکن قانون ساز یہ محبوب عالم بھی شامل تھے۔ جلوس کی قیادت کر رہے پارٹی کی ریاستی کمیٹی کے رکن پنکج کمار سنگھ کا کہنا تھا کہ اس سڑک کو بیاڈا نے تحویل میں لیا ہی نہیں تھا اور چونکہ بھجن پور کے لوگ سالہا سال سے اس سڑک کا استعمال کرتے آرہے تھے، اس لیے انتظامیہ کی طرف سے اسے بند کیے جانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ دراصل یہ کام کچھ افسران نے اپنے سیاسی آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا تھا۔
مالے کے تعاون سے رمضان المبارک کے آخری ایام میں ملی اس کامیابی پر بھجن پور کے مسلمان خوشی سے جھوم اٹھے۔ انہوں نے اسے غیبی مدد مان کر اللہ کا شکریہ ادا کیا اور اس بار پورے جوش و خروش کے ساتھ عید منائی۔ گزشتہ سال بھجن پور کے مظلومین عید اس طرح سے نہیں منا سکے تھے، کیوں کہ وہ غموں سے نڈھال تھے اور عید گاہ تک جانے والا راستہ بھی مسدود تھا۔ مقامی لوگ مالے کارکنوں کے تعاون کو بنظر استحسان دیکھتے ہیں اور ان کے تئیں جذبہ ممنونیت کا اظہار کرتے ہوئے نہیں تھکتے ہیں اور اب وہ سپریم کورٹ کی طرف سے امید بھری نگاہوں سے دیکھنے لگے ہیں ۔ انہیں حکومت بہار اور اس کے عدالتی کمیشن سے تو انصاف کی امید نہیں ہے، لیکن سپریم کورٹ سے ضرورہے۔انہیں لگتا ہے کہ جس طرح مالے نے اپنی سیاسی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان کا ایک مسئلہ حل کیا ہے اور انہیں آدھا انصاف دلایا ہے، سپریم کورٹ اپنی قانونی حیثیت اور طاقت کا استعمال کرتے ہو ئے انہیں مکمل انصاف دلانے کی پہل کرے گا۔فاربس گنج کے مظلومین ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کے بھی احسان مند ہیں کہ انہوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے اور انہیں انصاف دلانے کے لیے لگاتار عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔
مظلومین کو ریاستی حکومت اور اس کے عدالتی تحقیقاتی کمیشن سے اس لیے انصاف کی اُمید نہیں ہے، کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ حکومت انہیں پہلے سے ہی مظلوم کی بجائے ظالم مان کر چل رہی ہے، اور جب تحقیقات سے ہی فیصلہ ہو جائے تو تحقیقات کا نتیجہ کیا ہوگا یہ بات آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔ اس معاملے میں دونوں فریقوں کی طرف سے ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے، جس کا تقاضہ یہ ہے کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے ۔ مگر حکومت صرف اُن ایف آئی آر کو قابل اعتنا مان رہی ہے جو انتظامیہ یا اووروسندرم کمپنی کے ذمہ داروں کی طرف سے درج کرائی گئی ہے۔اسے نقصان مسلمانوں کا نہیں کمپنی کے مالکوں کا نظر آرہا ہے۔ ایسے میں جب حکومت کی منشا ہی مسلمانوں کو مظلوم قرار دینے اور انہیں انصاف دلانے کی نہیں ہے تو کمیشن کیا کرے گا۔ اس طرح کے کمیشن تو سرکاری منشا کے مطابق ہی کام کرتے ہیں اور ان کی تحقیقات کا رخ وہی ہوتا ہے جو حکومت کا ہوتا ہے۔ اس سے پہلے کے عدالتی کمیشنوں کا حال بھی سب کو معلوم ہے۔ کسی عدالتی کمیشن سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے ہیں۔ خود موجودہ نتیش حکومت کا ریکارڈ ہی دیکھ لیا جائے تو سب سے بڑا ثبوت بھاگلپور فساد کمیشن ہے،جو نتیش حکومت نے پہلی بار اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ کہتے ہوئے قائم کیا تھا کہ سابقہ کمیشن سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکے ہیں اور بہت سے ملزمین قانونی عمل سے بچ گئے ہیں، اس لیے یہ کمیشن قائم کیا جا رہا ہے جو تمام ملزموں کو قانون کے دائرے میں لے کر انصاف کا عمل پورا کرے گا۔اس لیے کمیشن کے قیام کے وقت بھی یہی کہا گیا تھا کہ یہ کمیشن 6 ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرے گا، مگر 6 سال بعد بھی اس نے کام پورا نہیں کیا ہے اور محض ایک عبوری رپورٹ کے علاوہ اس کی کوئی حتمی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے اور آنے کی کوئی امید بھی نہیں ہے۔ سال دو سال اس کی مدت کار میں توسیع ہو رہی ہے۔ اب تک کروڑوں روپے اس پر صرف ہو چکے ہیں، مگر نتیجہ صفر ہے۔ جو لوگ قانونی عمل سے بچ گئے تھے وہ اب بھی بچے ہوئے ہیں، کیوں کہ موجودہ کمیشن نے نئے دعویداروں کو سنا ہی نہیں بلکہ نئے دعوے ماننے سے ہی انکار کر دیا اور صرف اتنے ہی لوگوں کو مظلوم مانا جتنے لوگوں کو بھاگلپور ضلع انتظامیہ نے مانا تھا اور جن کی فہرست اس نے پیش کی تھی۔
موجودہ کمیشن نے اپنی عبوری رپورٹ کے ذریعہ اس فہرست میں شامل مظلومین کو ماہانہ ڈھائی ہزار روپے پنشن دلانے کا کام کیا ہے اور جب نئے دعویداروں کے دعووں کی جانچ ہی اس کے دائر ہ کار میں نہیں ہے تو پھر قانونی عمل سے باہر رہ گئے لوگوں کو قانون کے شکنجہ میں کسنے کا سوال ہی نہیں ہے۔ ایسے میں اس کمیشن کا کوئی کام ہی نہیں ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت کمیشن کو اپنے پورے اقتدار کے دوران یوں ہی زندہ رکھے گی اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرے گی۔
فاربس گنج کمیشن سے وہاں کے مظلومین اور عام مسلمانوں کو اس لیے بھی انصاف کی امید نہیں ہے کہ نتیجہ طے کر لیا گیا ہے او راسی کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ تیار کرائی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمیشن فاربس گنج میں فائرنگ معاملے میں جو سنوائی کر رہا ہے اس میں ریاستی حکومت، فاربس گنج انتظامیہ اور خود کمیشن کی طرف سے بڑے بڑے اور کافی مہنگے وکیلوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں مگر کسی بھی پینل میں کسی مسلم وکیل کو شامل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ہے، حالانکہ انصاف کا تقاضہ یہ تھا کہ مسلم وکلاء بھی شامل کیے جاتے تاکہ مسلمانوں کا موقف مضبوطی کے ساتھ پیش کیا جا تا اور اگر کسی طرف سے ڈنڈی مارنے کی کوشش ہوتی تو مسلم وکلاء اس کی مخالفت کے لیے وہاں پر موجود ہوتے، لیکن یہ سب کچھ نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے حکومت اور انتظامیہ کی منشا ظاہر ہوتی ہے۔ فاربس گنج معاملے میں حکومت اور انتظامیہ کو زر خرید مقامی میڈیا کا تعاون روز اول سے حاصل رہا ہے۔ اس لیے اس طرح کی نا انصافی پر بھی کوئی واویلا نہیں ہوا۔ نتیش حکومت کی ممنون کرم مقامی اور میڈیا نے مالے کی کارروائی اور اس سے مسلمانوں کو حاصل ہونے والی راحت کو کوئی اہمیت نہیں دی اور کسی اخبار نے اسے قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ کچھ غیر اردو میڈیا نے ہی اسے کسی حد تک اہمیت دی۔ اردو میڈیا بالکل خاموش رہا۔ اس لیے تمام مسلمانوں کو اتنے بڑے واقعہ کی خبر تک نہیں ہو سکی اور عجب نہیں کہ کمیشن کی طرف سے مسلمانوں کو ہی مظلوم ٹھہرادیا جائے اور مقامی اردو اخبارات حکومت نوازی کے چکر میں اتنے بڑے ظلم کو بھی خاموشی کے ساتھ برداشت کر لیں۔
کاش کہ ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس اس معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں ان تمام صورت حال کو واضح کرنے میں کامیاب ہو اور عدالت عظمی کے سامنے معاملے کی سنگینی اجاگر ہو سکے اور مظلوم کو انصاف دلانے کی راہ ہموار ہو سکے، کیوں کہ حکومت سے انصاف کی امید نہیں ہے۔ وہ توظالموں کو جزا اور مظلوموں کو ہی سزا دلانے کے لیے کمر بستہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *