لالو کی ریلی کے بعد فالو اپ کی شدید ضرورت

Share Article

نتیش کمار کے ذریعہ بہار میں لالو پرساد یادو کے ساتھ سرکار نہ چلنے اور بی جے پی کے ساتھ سرکار چلانے کے فیصلے نے ملک میں پورے اپوزیشن کو ایک طرح سے جھنجھوڑ دیا ہے اور نئے سرے سے اپوزیشن کے اندر پنپ رہی خطرناک کمزوریوں کے اوپر، ان کے آپسی رشتوں کے اوپر، ان کے اتحاد کو لے کر اٹھ رہے سوالوں کے اوپرروشنی ڈالی ہے۔
اترپردیش اسمبلی انتخابات کے دوران آخری بار اپوزیشن کے جزوی اتحاد کی کوشش ہوئی تھی۔ بغیر کسی مینِمم کامن پروگرام کے اکھلیش یادو اور راہل گاندھی نے انتخابات میں ہاتھ ملایا تھا۔ اکھلیش یادو نے جی جان سے انتخابی تشہیر کی،وہیں دوسری طرف کانگریس نے آدھے من سے اترپردیش کی انتخابی لڑائی کو لڑا مگر اتحاد کا وہ طریقہ عوام کی نظر میں بیکار ثابت ہوا۔ اکھلیش یادو سے ایکبڑی چوک یہ ہوئی کہ انہوں نے اپوزیشن اتحاد کی کوشش نہیں کی بلکہ سیٹوں کے تال میل کی بنیاد پر بی جے پی اور بہو جن سماج پارٹی کا سامناکرنے کی پالیسی بنائی۔ دوسری طرف انہوں نے بہو جن سماج پارٹی کی مایاوتی کو اپنا اہم دشمن نہ مانتے ہوئے بھی انہیں انتخاب میں ہرانے کی پوری کوشش کی۔ حالانکہ آخری دنوں میں انہوں نے اشارہ دیا کہ انتخاب کے بعد اگر ضرورت پڑی تو مایاوتی کے ساتھ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے سمجھوتہ کر سکتے ہیں۔ اس سمجھوتے میں اکھلیش یادو نے یہ کبھی صاف نہیں کیا کہ اگر ویسی صورت حال آئی تو وزیر اعلیٰ ان کی پارٹی کا ہوگا یا بہو جن سماج پارٹی کا۔ یہ سارے سوالات اور ان کے اندر شامل تضاد ات اترپردیش میں عوام کو سمجھ میں نہیں آئے۔
اتر پردیش کے انتخابات کے بعد پہلی بڑی کوشش بہار میں لالو پرسادیادو نے کی۔ حالانکہ جب انہوں نے 27 اگست کو ریلی کا اعلان کیا تھا جسے انہوں نے مہا ریلی کہا، تب اس کا ہدف دوسرا تھا۔ ہدف یہ تھا کہ اپوزیشن کے سارے لیڈروں کو اکٹھا کرکے 2019 کے انتخابات میں اپوزیشن اتحاد کا سنگ بنیاد رکھا جائے۔ اس اپوزیشن اتحاد کا محرک بننے کی خواہش لالو یادو میں تھی لیکن بہار کی سرکار ٹوٹنے کے فیصلے کے ساتھ ہی ریلی کا فوکس اپوزیشن اتحاد کم اور نیتش کمار زیادہ ہو گئے۔ یہ فطری تھا۔ بہار میں سیلاب آیا ہوا تھا۔لالو یادو کے پاس پیسے نہیں تھے۔ ملک میں ماحول ان کے خلاف بنا ہوا تھا۔ سی بی آئی ، انکم ٹیکس کے چھاپے ان کے یہاں پڑ چکے تھے جس میں ان کے بیٹے اور بیٹی گلے تک ڈوبے ہوئے ہیں،ایسی تشہیر ہورہی تھی، لیکن اس کے باجوود لالو یادو نے 27اگست کی ریلی ملتوی نہیں کی اور بھاری سیلاب کے خطرے کے ساتھ انہوں نے ریلی کی۔ ریلی کی تیاری میں تیجسوی یادو بہار میں اہم جگہوں پر گھومے۔ لالو یادو نے پٹنہ کے پاس کے علاقے پر اپنی ساری طاقت لگائی تاکہ سیلاب کی وجہ سے اس خطے کے لوگوں کے نہ آنے کا خطرہ کم سے کم کیا جاسکے۔
بہار میں جوحالات تھے ،ان میں 27اگست کا اجلاس کامیاب تھا ۔لوگ اپنے وسائل سے آئے تھے، حوصلہ سے آئے تھے، اجلاس میں جوش تھا لیکن جوش کا مقصد بدلا ہوا تھا۔ مقصد بہار میں نتیش کمار اور بی جے پی کو سبق سکھانے کا تھا ۔ملک میں 2019 کے انتخابات میں کیسے مرکزی سرکار پر قبضہ کیا جاسکتا ہے ،یہ مقصد کمزور تھا۔ پہلے چاروں طرف سے ہوا پھیلی کہ راہل گاندھی اور مایاوتی ریلی میں نہیں آرہے ہیں۔ ممتا بنرجی بھی جائیں گی یا نہیں ،یہ بھی کسی کو پتہ نہیں تھا۔ بلکہ صاف نہیں تھا کہ وہ آئیں گی ہی آئیں گی۔اس کے باوجود لالو یادو نے ہار نہیں مانی اور اسے لالو یاد وکی ہمت کہا جاسکتا ہے کہ اپنے خلاف پورے ماحول ہونے کے باوجود انہوں نے ریلی کی اور ان کے لگاتار سمجھانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس ریلی میں کانگریس بھی شامل ہوئی، ممتا بنرجی بھی شامل ہوئیں، ملک کی چھوٹی موٹی پارٹیاں بھی شامل ہوئیں۔کل ملا کر ان کی تعداد 18 کے آس پاس مانی جارہی ہے۔ ریلی میں سب کا سُر نتیش کمار اور بی جے پی کے گٹھ جوڑ کی تنقید کرنے پر تھا۔نریندر مودی کی پالیسیوں کی ناکامی کو اجاگر کرنے میں لوگوں نے کم طاقت لگائی ۔

 

 

 

 

اس ریلی نے یہ ثابت کیا کہ لالو یادو اگر لگیں گے تو اپوزیشن اتحاد کی نئے سرے سے کوشش ہوسکتی ہے لیکن لالو یادو کے سامنے کم چیلنجز نہیں ہیں۔مایاوتی نے صاف کہا کہ وہ اس ریلی میں اس لئے نہیں آئی ہیں کہ سیٹ تقسیم کے اوپر اتحاد کی بات ٹوٹ جاتی ہے۔اس لئے پہلے ملک میں سیٹ تقسیم کی بات ہو جائے کہ لوک سبھا میں کون کتنی سیٹیں لڑے گا۔ لالو یادو نے کہا کہ جب سب ایک پلیٹ فارم پر آجائیں گے، تب سیٹ کی بات ہوگی ۔اس طرح کے سوالوں کا لالو یادو کو سامنا کرنا پڑے گا ،وہ یہ ہے کہ اپوزیشن کا لیڈر کون ہوگا؟جسے لوگ ملک کے وزیر اعظم کی شکل میں نریندر مودی کے مقابلے میںدیکھ سکیں۔
راہل گاندھی اپنی عادت کے حساب سے غیر ملک میں تھے۔ موٹے طور پر وہ 9 مہینے کے آس پاس غیر ملک میں رہتے ہیں اور اس حساب سے وہ تین مہینے ملک میں رہتے ہیں۔ وہ غیر ملک کیوں جاتے ہیں ؟اس سے کیا حاصل ہوتا ہے؟کسی کو نہیں پتہ، لیکن وہ غیر ملک جاتے ہیں۔ اگر راہل گاندھی پٹنہ کی ریلی میں شامل ہوتے تو اس ریلی کو ایک نئی شکل ملتی لیکن راہل گاندھی کے شامل نہیں ہونے سے اپوزیشن اتحاد کے پہلے قدم کو بھٹکنے کا موقع مل گیا۔ کیا لالو یادو ممتا بنرجی کو لیڈر بنائیں گے؟ اکھلیش یادو کو ملک کی قیادت کرنے کے لئے تیار کریں گے یا پھر راہل گاندھی کے اوپر دائو لگائیں گے؟ ان سوالوں کے جواب اگلے دو تین مہینے میں اگر نہیں تلاش کئے گئے تو لالو یاد وکی ملک کے اپوزیشن کو ایک کرنے کی کوشش دھول میں مل جائے گی۔
اگر لالو یادو سنجیدہ ہیں تو اس وقت تو صرف ان کے پاس ایک گنجائش ہے کہ وہ اپوزیشن کے ہر لیڈر کے پاس جائیں اور پہلے اپوزیشن اتحاد کے فارمولے کی تلاش کریں۔ ممکنہ سیٹ تقسیم پر سب کی رائے جانیں اور یہ بھی صاف کریں کہ اگلا انتخاب کس طرح لڑا جائے گا۔ کیا اپوزیشن کی ایک پارٹی بنے گی، کیا اپوزیشن کا ایک مورچہ بنے گایا صرف سیٹوں کا تال میل ہوگا۔ میں ان سوالوں کی طرف بالکل نہیں جارہا جن سوالوں کو لوگ لالو یادو کو لے کر کے اٹھا رہے ہیں۔کیونکہ میرا ماننا ہے کہ ملک میں ابھی بھی ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو لالو یادو میں امکانات دیکھتا ہے۔ ان کی صلاحیت کو پہچانتا ہے لیکن لالو یادو کی پریشانی یہ ہے کہ منموہن سنگھ سرکار کے وقت جس بل کو راہل گاندھی نے پھاڑ دیا تھا اور ملک میں واہ واہی ملی تھی ،وہی بل لالو یادو کے آرے کھڑا ہوا ہے۔ ان کے سیاسی بنواس کے ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے تو پھر لالو یادو کے قدموں میں لوگ سنجیدہ زمین کا اندازہ ہر قدم پر کریں گے۔
میرا یہ بھی ماننا ہے کہ بہار کی ریلی ناکام نہیں رہی،میں تعداد کے سوال کے اوپر بی جے پی ، جے ڈی یو اور آر جے ڈی کے انٹرسیپٹر کو دیکھ رہا تھا۔ سوال یہ نہیں ہے کہ لالو یادو نے 10لاکھ کہا تو 10لاکھ تھے یا نہیں تھے یا بی جے پی نے جس ریلی کو 25 ہزار کہہ دیا، وہ سچ ہے یا نہیں۔ سچ یہ ہے کہ بہار کے لوگ جس میں پچھڑے سماج کے لوگ زیادہ تھے، وہ اپنے وسائل سے سیاسی سوال پر جوش و خروش کے ساتھ میدان میںپہنچے ۔ان کی تعداد دو لاکھ رہی ہو، تین لاکھ رہی ہو، پانچ لاکھ رہی ہو۔اس بحث میں جانابیکار ہے لیکن اس ریلی نے یہ بتایا کہ لالو یادو میں ابھی بھی لڑنے کی صلاحیت ہے اور وہیں اس ریلی سے قومی سطح پر تیجسوی یادو نام کے ایک نئے لیڈر نمودار ہوئے ۔تیجسوی یادو کو لوگ راہل گاندھی، جیوتیرادتیہ سندھیا، اکھلیش یادو، ایم کے اسٹالن کے مقابلے تخمینہ لگانا شروع کر چکے ہیں اور اس بات پر ان کی نظر ہے کہ کیا تیجسوی یادو صرف بہار میں رہتے ہیں یا ملک کے دوسرے حصوں میں بھی جانے کا حوصلہ جمع کرپاتے ہیں۔
لالو یادو کو اس بات کا احساس ہوگا کہ یہ ملک بہت بڑا ہے اور اگر انہیں نریندر مودی کے مقابلے اپوزیشن اتحاد کا ایجنڈا اٹھانا ہے تو انہیں ابھی سے سارے ملک میں کم سے کم 50-60 عام اجلاس کرنے پڑیں گے۔ان عام اجلاسوں میں جو لیڈر جائیں گے، وہ اپنے اندرونی تضاد کو کیسے دور کرتے ہیں یا انہیں دور کرنے میں کون آدمی اہم رول نبھاتا ہے ،یہ سوال تو ہے۔ لالو یادو کے سامنے یا ملک کے مکمل اپوزیشن کے سامنے شردپوار کی کانگریس کا ڈھلمل رویہ بھی ایک سوال بن کر کھڑا ہوا ہے۔ جنوب سے صرف ایچ ڈی دیو گوڑا کے نمائندے دانش علی اس ریلی میں تھے۔ ہندوستان کے نقشے کے حساب سے مہا راشٹر سے لے کر کیرل تک کی نمائندگی اس ریلی میں نہیں تھی۔ اس لئے مانا جانا چاہئے کہ یہ ریلی اپوزیشن اتحاد کے نام پر شمالی ہندوستان کے تمام لیڈروں کو اکٹھا کرنے میں تو کوئی رول ادا کر سکتی ہے، پورے ملک میں چھاپ چھوڑنے میں اس ریلی کی بہت شراکت داری نہیں ہے۔
لیکن ان سب کے باوجود اس ریلی نے لالو یادو کی اپوزیشن کو ایک کرنے کی کوشش کوایک نئی شناخت دی ہے اور تیجسوی یادو کی شکل میں ایک نیا امکان ملک کے سامنے رکھا ہے۔ اس ریلی میں تیجسوی یادو کے بڑے بھائی تیج پرتاپ یادو نے یہ اعلان کر دیا کہ تیجسوی یادو ارجن ہیں۔ ایسا بول کر انہوں نے اس امکان کو خارج کر دیا کہ مستقبل میں لالو یادو کے خاندان میں کوئی سیاسی لڑائی ہوسکتی ہے۔
کیا اس ریلی کے بعد اکھلیش یادو اتر پردیش میں اپوزیشن اتحاد کو لے کر کوئی بڑی ریلی کریںگے یا ممتا بنرجی بنگال میں کوئی ریلی کریںگی یا دیو گوڑا کرناٹک میں کوئی ریلی کریں گے ،یہ ایک اہم سوال ہے۔ان تین ریاستوں کے علاوہ مدھیہ پردیش میں کون ریلی کرے گا، راجستھان میں کون ریلی کرے گا، اڑیسہ میں کون ریلی کرے گا، مہاراشٹر میں کون ریلی کرے گا؟یہ سوالات منہ کھولے کھڑے ہیں۔ ایسے سوالوں کے جوابات جب تک لالو یادو، اکھلیش یادو اور ممتا بنرجی نہیں دیتے، تب تک یہ ماننا چاہئے کہ اپوزیشن اتحاد کا راستہ ابھی بالکل خالی ہے۔ اس کے اوپر چلنے والوں کی تیاری تو دکھائی دیتی ہے لیکن وہ چلتے ہوئے نہیں دکھائی دیتے،جتنا کمزور، بے سمت ،بے بس، مایوس اپوزیشن اس وقت ہے، ویسا ہندوستان کی سیاسی تاریخ میںکبھی نہیں رہا۔ اپوزیشن کا بے بس،کھوکھلا ، ہراساں ہونا جمہوریت کے لئے کبھی اچھا ہوتاہی نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *