زیریں آسام میں سیلاب کی صورتحال خراب

Share Article

 

گوہاٹی، بدھ کی رات بھوٹان سے پانی چھوڑے جانے کے بعد زیریں آسام میں سیلاب کی صورتحال کافی پیچیدہ ہو گئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹے میں چھ مزید لوگوں کی اس سیلاب کی وجہ سے ہوئی موت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 75 تک پہنچ گئی ہے۔

Image result for Flood situation worsens in Lower Assam

آسام ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی طرف سے جاری رپورٹ کے مطابق آسام کے 33 اضلاع میں سے 20 ضلع سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ، جس میں تین ہزار گاؤں میں رہنے والے 34 لاکھ سے زیادہ لوگ بری طرح متاثر ہوئے۔زیریں آسام میں پڑوسی ملک بھوٹان کے کڑیچو پن بجلی پلانٹ کے پشتے سے پانی کو چھوڑ دینے کی وجہ زیریں آسام کے برپیٹا، چرانگ، باکسا اور بن گاؤں ضلع میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

Image result for Flood situation worsens in Lower Assam

جمعرات کو ضلع انتظامیہ کی طرف سے بدھ کی رات بھوٹان کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کی وجہ پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ کو لے کر جگہ جگہ لاؤڈ اسپیکرز سے اعلان کروایا جا رہا ہے۔ لوگوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر اونچی جگہوں پر پناہ لے لیں کیونکہ آبی سطح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

Image result for Flood situation worsens in Lower Assam

سیلاب کا پانی آسام کے کوکراجھار،بنگاؤںو اور پاٹھ شالہ علاقے میں کافی تباہی مچا رہا ہے۔ وہیں، برپیٹا ضلع کے سرتھے باری اور اس کے ارد گرد کے علاقے میں بدھ کی رات شدید سیلاب کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر اونچی جگہوں پر پہنچ گئے۔

 

Image result for Flood situation worsens in Lower Assam

قابل ذکر ہے کہ زیریں آسام میں آئے تازہ سیلاب کی وجہ سے کل 30 پشتے ٹوٹ گئے ہیں۔ ریاست کے وزیرخزانہ ڈاکٹر ہمنت وشوشرما نے بدھ کوزیریں آسام میں سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیا تھا۔ اس سیلاب کی وجہ سے جہاں ریاست کے محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) نے 350 کروڑ روپے کے متوقع نقصان ہونے کا دعوی کیا ہے، وہیں، دیگر کئی محکموں نے مل کر ایک ہزار کروڑ روپے کے نقصان ہونے کا دعوی کیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *