فرقہ پرست اور سیکولر پارٹیوں کا سچ

Share Article

افروز عالم ساحل
جب انسانیت پر مذہب اور سیاست کا دباؤبڑھا ہے ،تب تب ہندوستان میں فساد ہوئے ہیں۔ خون ریز فساد ات کا ایک نیا دور پھر سے شروع ہوگیا ہے ۔ اتر پردیش کے متھرا اور بریلی میں فساد کی آگ نے کئی بے گناہوں کو بے وقت موت کی نیند سلا دیا ۔آسام کے بوڈو لینڈعلاقے میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے ۔ رہ رہ کر گھر جلائے جارہے ہیں ،لوگ مارے جارہے ہیں ۔ زبان اور تہذیب کے نام پر انسانیت کو گولیوں سے چھلنی کیا جارہاہے اور اس میں کسی سیاسی پارٹی کا دامن پاک صاف نہیں ہے ۔کانگریس ہو یا بی جے پی ،فسادات کے داغ سے کسی کا دامن بچا نہیں ہے ۔کم سے کم گزشتہ 28 سال کے اعداد و شمارتو یہی بتاتے ہیں ۔
’چوتھی دنیا‘کے پاس دستیاب دستاویزات کے مطابق،1984 سے مئی 2012 تک ملک میں کل 26 ہزار 817 فساد ہوئے، جن میں کل 12 ہزار 902 لوگوں نے جان گنوائی۔ مذکورہ اعداد وشمار سرکاری ہیں،حقیقی اعداد وشمار میں مرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہو سکتی ہے ۔ دستاویز بتاتی ہیں کہ ابھی تک پی وی نرسمہاراؤکی مدت کار سب سے لہو لہان رہی ہے ۔ راؤ کی مدت کار کے دوران ملک میں 8 ہزار سے زیادہ فساد ہوئے، جن میں 4 ہزار 774 لوگ مارے گئے، یعنی ان کی مدت کار کے دوران ہر سال اوسطاً 900 سے زیادہ مارے گئے۔ وہیں راجیو گاندھی کی مدت کار کے دوران ملک میں اوسطاًہر سال 475 لوگ مارے گئے۔ اٹل بہاری واجپئی کے دور اقتدار میں ہر سال اوسطاً 363 لوگوں کی فسادات میں موت ہوئی۔ گزشتہ 28 سالوں میں سے 18 سال ملک پر کانگریس کا راج رہا۔ اس دوران فسادات میں کل 8 ہزار 619 لوگوں نے جان گنوائی، یعنی اوسطاً ہرسال 478 لوگ فساد میں مارے گئے۔ وہیں 10سال غیر کانگریسی سرکار رہی، جس کے دوران 4 ہزار 283 لوگ فساد ات میں ہلاک ہوئے، یعنی ہر سال اوسطاً 428 لوگوں کی موت ہوئی۔ یہ کتنا عجیب ہے کہ ابھی سا ل 2012 کے 8 مہینے ہی گزرے ہیں اور 8 سے زیادہ بڑے فسادات ملک کے الگ الگ مقامات پر ہو چکے ہیں۔ 120 کروڑکی آبادی والے اس ملک میں 1984 سے اب تک صرف ایک سال ایسا گزرا ہے، جس میں 500 سے کم فساد ہوئے اور 100 سے کم لوگوں کی موت ہوئی ۔

دہشت گردی کی طرح ہی بھیڑکا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔بھیڑ کس لمحہ کب مشتعل ہوکرکب کیا کر دے ،کچھ کہا نہیں جا سکتا اور جب یہی بھیڑ ہولناک شکل اختیار کر لے تواسے فساد کا نام دے دیا جاتا ہے ۔فساد بلینک چیک کی مانند ہوتاہے ،جسے ہمارے نیتا الیکشن کے وقت کیش کرالیتے ہیں ۔جب ملک میں فساد کی تعداد اچانک بڑھ جائے تو سمجھ لیجئے کہ الیکشن کا وقت قریب آگیا ہے ۔

دستاویز ات میں درج اعداد و شمار کے مطابق، 1984 سے اب تک ہندوستان نے خاص طور سے تین پارٹیوں کی سرکاریں دیکھی ہیں۔ ان 28 سالوں میں زیادہ وقت کانگریس مرکز کے اقتدار پر قابض رہی۔ 1984 سے 1989 تک راجیو گاندھی ملک کے وزیر اعظم رہے۔ اس دورا ن 4 ہزار 187 فساد ہوئے، جن میں 2854 لوگ مارے گئے۔ اس کے بعد مرکز میں جنتا دل کی سرکار آئی۔ 1990 میں ملک میں کل 2 ہزار 593 فساد ہوئے۔ اگر 1992 کو چھوڑدیں تو 1984 کے بعد ہوئے فسادات میں 1990 میں ہی سب سے زیادہ لوگوں نے اپنی جان گنوائی۔ 1991 میں قریب 6 مہینے کے لیے سماجوادی پارٹی کے چندر شیکھر ملک کے وزیر اعظم رہے اور اس کے بعد مرکز کے اقتدار کی کمان ایک بار پھر کانگریس کے ہاتھوں میں آگئی اور پی وی نرسمہا راؤ جون 1991 سے مئی 1996 تک ملک کے وزیر اعظم رہے۔ 1991 میں ایک ہزار 727 فسادات ہوئے اور 877 لوگوں کی جان گئی۔ اس کے بعد 1992 فساد ات کے معاملے میں سب سے خون ریز ی کا سال رہا۔ اس سال ملک بھر میں 3536 فساد ہوئے، جن میں 1972 لوگوں نے جان گنوائی۔ 1991 سے 1996 تک کل ہزار 758 فسادات ہوئے اور 4 ہزار 774 لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑی۔ 1996 میں کانگریس مرکز کے اقتدار سے باہر ہوگئی۔ اس سال ملک میں کل 728 فسادات ہوئے، جن میں 209 لوگوں کی موت ہوئی۔ 1996 میں ایک بار پھر جنتادل کی سرکار آئی، جو مارچ 1998 تک رہی۔ 1997 اور 1998 میں کل ایک ہزار 481 فسادات ہوئے، جن میں 489 لوگوں کی موت ہوئی۔ مارچ 1998 میں بی جے پی کے اٹل بہاری واجپئی ملک کے وزیر اعظم بنے اور مئی 2004 تک رہے۔ 1998 سے 2003 کے درمیان ملک میں کل 4ہزار 441 فسادات ہوئے، جن میں کل 2 ہزار 182 لوگ مارے گئے۔ ان میں 2002 میں ہوئے گجرات کے فسادات میں ہی 1130 لوگ مارے گئے۔ اگر 2002 کے گجرات فسادات کو اٹل بہاری واجپئی کی حکومت سے ہٹادیا جائے تو کسی بھی سال فسادات میں مرنے والوں کی تعداد 250 کے اوپر نہیں پہنچی۔ 2004 میں ایک بار پھر کانگریس کی سرکار آئی۔ 2004 سے لے کر اب تک، ڈاکٹر منموہن سنگھ کی مدت کار میں ملک میں کل 6086 فسادات ہوئے ہیں، جن میں کل 991 لوگوں نے جان گنوائی۔ ان اعدادو شمار میں حال کے اتر پردیش اور آسام کے فسادات شامل نہیں ہیں ۔
حالانکہ ان دستاویزوں میں درج اعداد و شمار ملک میں ہوئے فسادات کی حقیقت کا پورا سچ نہیں ہے۔ ان اعداد وشمار میں وہ لاکھوں گھر شامل نہیں ہیں، جو فسادات کی آگ میں جل گئے، نہ ان گھروں میں بسنے والے خواب ہیں اور نہ مرنے والوں کے متعلقین کے دکھ۔ مذکورہ اعداد و شمار فسادات کی خوفناک تصویر کی محض جھلک دکھا تے ہیں۔ مکمل سچ یہ ہے کہ ملک کسی بھی سیاسی پارٹی کی ہاتھ میں محفوظ نہیں رہا۔ بابری مسجدکو لے کر اتر پردیش فسادات ہوئے تو پی وی نرسمہا راؤ پوجا میں محو تھے، گجرات میں اقلیتوں کا قتل عام ہوا تو اٹل بہاری واجپئی خاموش رہے اور اب، جب کہ آسام میں اقلیتوں کا قتل عام ہو رہا ہے، تب منموہن سنگھ مجبور ہیں۔ سوال یہی ہے کہ جو لوگ ان فسادات میں مارے گئے ہیں، ان کا قصور کیا تھا اور مرکزی حکومت کے ذریعے دخل نہ دینے کے پیچھے مجبوری کیا ہے؟
کس کا کتنا نقصان ہوا
مہاراشٹر حکومت کے محکمہ داخلہ سے ملی دستاویزبتاتی ہیں کہ صرف مہاراشٹر میں 1995 سے 2011 تک 2158 معاملے تھانوں میں درج کیے گئے۔ اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان فسادات میں 1996 سے 2011 تک کل 99 لوگوں کی موت ہوئی، وہیں کل 4356 لوگ زخمی ہوئے، جن میں 1631 پولس والے تھے۔ اگر ان فسادات میں مالی نقصان کے بارے میں بات کریں تو سب سے زیادہ نقصان مالی اعتبار سے پچھڑے مسلمانوں کا ہوا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 1996 سے 2011 تک 48 کروڑ 99 لاکھ 99 ہزار 845 روپے کا نقصان مسلمانوں کو ہوا، وہیں ہندوؤں کو 33 کروڑ 86 لاکھ 69 ہزار 109 روپے کا اور سرکار کو 2 کروڑ 2 لاکھ 68 ہزار 845 روپے کا نقصان ہوا۔ اس طرح ملک کو 85 کروڑ 89 لاکھ 12 ہزار 289 روپے کا نقصان ہوا۔ اگر دہلی کی بات کریں تو دہلی حکومت کے مالیاتی محکمہ کی راحت اکائی کے مطابق، آہوجہ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، 1984 سے لے کر اب تک 2733 فسادات دہلی میں ہوئے ہیں۔ ان فسادات کے بعد ایک ارب 59 کروڑ 36 لاکھ 57 ہزار 409 روپے کا معاوضہ دیا گیا۔ پیسوں کے یہ اعداد و شمار رلیف پیکیج 2006 سے 31 مارچ 2012 تک کے ہیں۔ آر ٹی آئی کے تحت ملک کی تمام ریاستوں میں درخواستیں بھیجی گئیں، لیکن زیادہ تر ریاستوں نے فسادات سے متعلق جانکاری نہیں دی۔ حالانکہ یہ بھی پوچھا گیا کہ ان فسادات میں کتنے سرکاری اہل کاروں کو ملزم بنایا گیا، ان کے نام اور عہدوں کی فہرست بھی مہیا کرائیں۔ ان کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے، مذکورہ اہل کار پہلے کس عہدہ پر تھے اور اب کس عہدہ پر ہیں، اگر وہ ریٹائر ہو چکے ہیں تو اب کہاں ہیں، اب تک کتنے لوگوں کو سزا ہو پائی ہے، لیکن اس سلسلے میں کوئی جانکاری نہیں فراہم کی گئی۔ صرف اتراکھنڈ کے پولس کمشنر، ضلع اودھم سنگھ نگر نے بتایا کہ تھانہ ہاجا علاقہ میں صرف ایک فساد 1994 میں ہوا، جس میں تین لوگ مارے گئے۔ مذکورہ فساد میں تین سرکاری اہل کار ملزم بنائے گئے۔ ان سرکاری اہل کاروں پر سال 1999 میں دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج ہوا، جو ابھی تک عدالیہ کے سامنے زیر غور ہے۔ ان اہل کاروں میں سے ایک انسپکٹر انچارج کے عہدہ پر فائز تھے اور باقی دونوں پولس اہل کار تھے اور اس وقت تینوں اتر پردیش کی حکومت کی طرف سے سبک دوش کیے جا چکے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *