فرقہ پرستی میں ان غریبوں کا تہوار برباد مت کیجئے

وسیم راشد 
فساد کیسے ہوا؟ فساد ایسے ہوا یعنی کوئی خاص وجہ نہیں تھی بس، مہاراشٹر کے اکولہ ضلع کے آکوٹ قصبے میں فساد ایسے ہوا کہ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ مورتیوں کا پنڈال بنا ہوا ہے۔ چند بچے وہاں شور شرابہ ڈھول ڈھمکا، بینڈباجہ ان سب کے شوق میں آگئے ہیں۔ بچے جو کسی مذہب کے نہیںہوتے کسی فرقہ سے تعلق نہیں رکھتے وہ تو معصوم ہوتے ہیں بس اپنے شوق و ذوق کی تسکین کے لیے جمع ہوجاتے ہیں۔ ہاں فساد کے بعد پتہ چلتا ہے کہ وہ مسلمان بچے تھے یعنی صرف اسی بناء پر کہ ایک مسلمان بچے نے بے خیالی میں زمین پر تھوک دیا یہ جانے بغیر کے وہ اقلیتی فرقہ کا بچہ ہے اسی کے اس عمل سے فساد بھی ہوسکتا ہے اور پھر فساد ہوا اور ایسا ویسا نہیں، وہ فساد جس میں 4لوگوں کی جان چلی گئی متعدد زخمی ہوئے اور ان بچوں کو مارا پیٹا گیا، ان کو پولیس اسٹیشن میں بھی پریشان کیاگیا۔ کیا ہے ہمارا ملک؟ کیا کررہے ہیں ہم؟ ارے بے وجہ مذہب کے نام پر لڑنے کی وجہ اگر معصوم بچوں کو بنائو گے تو پھر لعنت ہے، تم پر اور تمہاری مذہب پرستی پر۔ مذہب انسان کو جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے مذہب کے نام پر خون بہانا یہ خودلامذہبیت کی دلیل ہے اور کیا ہوا فیض آباد میں؟ ایک بے حد حساس ریاست ایسی ریاست جس نے ایودھیا میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے نام پر ایسا قتل عام کرایا کہ اب بھی اس کی یاد تازہ ہوجائے تو رگوں میں خون کی گردشیں بڑھ جاتی ہیں۔

گذشتہ 3مہینوں میں فیض آباد میں یہ دوسرا واقعہ ہے اور پھر حیدرآباد میں 2گروپوں میں تصادم، وہ بھی معمولی سی بات پر سمجھ میں نہیں آتا کہ جب اس ملک کے معصوم لوگ ہندو،مسلم ، سکھ، عیسائی، پارسی، جین کوئی تہوار منانے لگتے ہیں تو آخر یہ آگ کیوں لگادی جاتی ہے۔ محبت کے تہواروں کو نفرت کے رنگوں میں کیوں سجادیاجاتا ہے ارے جب قدرت سارے مذہبوں کو ایک ساتھ لے کر چل رہی ہے، جب دسہرہ، عید، والمیکی جینتی اور دیوالی سب ایک ساتھ پڑ رہے ہیں تو پھر کیوں ان میں تفرقہ پیدا کیاجارہاہے۔ یہ تیوہاروں کا مہینہ غریب لوگ ویسے ہی غریبی سے نبردآزما ہونے کے بعد بھی منارہے ہیں تو پھر کیوں ان معصوموں کے ساتھ ان کے تہوہاروں کو برباد کیاجارہاہے۔ اپنے سکھ دکھ بانٹنے کا یہی ایک موقع ہے ویسے بھی ان غریبوں کی زندگی میں خوشی کے لمحات کم ہی میسر ہوتے ہیں۔

فیض آبادمیں دسہرہ کے تیوہار کے موقع پر مورتیوں کے جلوس کے دوران جو ہنگامہ ہوا، اس سے پورے لکھنؤ میں خوف و دہشت کا ساماحول بنارہا اور اس فساد میں بھی پی اے سی کا وہی رول رہا جو ہمیشہ رہتا ہے۔ فسادی اگر ہندو طبقے کے ہیں تو خاموشی تماشائی بن کر تماشہ دیکھنا اور اگر مسلم ہیں تو پھر تو جو انہوںنے میرٹھ، ملیانہ میں کیا اس کی یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ گذشتہ 3مہینوں میں فیض آباد میں یہ دوسرا واقعہ ہے اور پھر حیدرآباد میں 2گروپوں میں تصادم، وہ بھی معمولی سی بات پر سمجھ میں نہیں آتا کہ جب اس ملک کے معصوم لوگ ہندو،مسلم ، سکھ، عیسائی، پارسی، جین کوئی تہوار منانے لگتے ہیں تو آخر یہ آگ کیوں لگادی جاتی ہے۔ محبت کے تہواروں کو نفرت کے رنگوں میں کیوں سجادیاجاتا ہے ارے جب قدرت سارے مذہبوں کو ایک ساتھ لے کر چل رہی ہے، جب دسہرہ، عید، والمیکی جینتی اور دیوالی سب ایک ساتھ پڑ رہے ہیں تو پھر کیوں ان میں تفرقہ پیدا کیاجارہاہے۔ یہ تیوہاروں کا مہینہ غریب لوگ ویسے ہی غریبی سے نبردآزما ہونے کے بعد بھی منارہے ہیں تو پھر کیوں ان معصوموں کے ساتھ ان کے تہوہاروں کو برباد کیاجارہاہے۔ اپنے سکھ دکھ بانٹنے کا یہی ایک موقع ہے ویسے بھی ان غریبوں کی زندگی میں خوشی کے لمحات کم ہی میسر ہوتے ہیں۔ مہنگائی نے ان کی مٹھائی، پوری کچوری، میوہ سب ہی کچھ تو چھین لیا ہے۔ کیوں ان کو یہ معمولی سی خوشی بھی منانے نہیں دی جاتی ہے اور یہ کرارہے ہیںسیاست کے ٹھیکیدارلیڈران۔ سیاست ایک ایسا گٹر بن گئی ہے جس کی گندگی سے سب کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ مایاوتی کی حکومت میں کوئی فساد نہیں ہوا، اب سماجوادی پارٹی کی حکومت میں لگاتار فساد ہورہے ہیں تو کیا فسادی کہیں باہر سے بلائے جارہے ہیں؟ فرق بس اتنا ہے کہ معصوم عوام نہ تو فساد کراتی ہے اور نہ ہی چاہتی ہے۔ فساد کراتے ہیں ہمارے سیاست کے داغدار لیڈر۔ یہ وہ لیڈران ہیں جن میں سے کسی کا دامن صاف نہیں ہے۔ کانگریس کو لیجئے تو پورا نہروخاندان ہی شک کے دائرے میں ہے اور داماد جی نے تو پورا ہندوستانی روایتی داماد ہونے کا پورا فائدہ اٹھایا اور ساس جی ان کو بچانے کی ان کی شبیہہ کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتی رہیں۔مگر عوام جانتے ہیں کہ واڈرا ایک کرپٹ داماد ہے۔
اب اگر ہم بی جے پی پارٹی کا تجزیہ کریں تو اس میں نتن گڈگری نے داغ لگادیااس سے پہلے یدیورپا تھے اور نہ جانے کتنے ایسے چہرے نکلیں گے جو ساہوکار بنے پھرتے ہیں۔ا ب بات کریں یوپی کی تو اکھلیش یادو نوجوان لیڈر ہیں۔ عوام کے چہیتے ہیں مسلمانوں نے ان کو کھل کر ووٹ دیا ہے تو یہ بات دوسری پارٹیاں کیوں برداشت کریں گی اس لیے اب منظم فرقہ وارانہ فساد کرائے جارہے ہیں تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ یوپی کا مسلمان صرف مایاوتی کے ساتھ ہی محفوظ ہے۔ کانگریس اپنی چال چل رہی ہے۔ بی جے پی اپنی، بہوجن سماجوادی پارٹی اپنی اور سماجوادی پارٹی اپنی غرض یہ کہ ہر کوئی اپنی روٹی دال سینکنے کے چکر میں ہے۔ کسی کو کسی کی فکر نہیں اورپسائی میں آرہی ہے غریب عوام۔ اُف شکلیں دیکھو تو جیسے بے حیائی اور کرپشن کی روٹی کھاکھاکر خنزیر جیسی ہوگئی ہے مگر کوئی باز نہیں آتا۔
فیض آباد کے فساد کا سب سے خطرناک اور شرمناک پہلو یہ ہے کہ سب کچھ پورا فساد پولیس کی موجودگی میں ہوا۔ اور یہ تبھی ہوتا ہے جب مسلمان سامنے ہوں ایسی بدقسمت قوم ہے یہ کہ اس کا کہیں کوئی پرسان حال نہیں۔ ہر جگہ اسے مارا جاتا ہے اور ہم سب تماشائی بنے دیکھتے رہتے ہیں ہماری مسلم تنظیمیں بس لمبے چوڑے آرٹیکل لکھ کر اخباروں میں چھپواکر مطمئن ہوجاتی ہیں کہ ان کا فرض پوراہوا۔ سب یہی کررہے ہیں اپنے ایڑکنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر صرف ماتم کررہے ہیں۔ آرٹیکل لکھ رہے ہیں اور بس۔ میرے خیال سے یہ وقت اب وہ آپڑا ہے جب سبھی کو مل کر سبھی مسلم تنظیموں، رہنمائوں، ملت کے قائدین، اکابرین، علماء دین، اساتذہ، ڈاکٹرس، انجینئرس سب کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر حکومت سے مطالبہ کیاجائے کہ فرقہ وارانہ فساد میں مسلمانوں کا قتل عام بندکرو۔ مسلمان نوجوانوں کی گرفتاری بنا کسی وجہ کے بندکرو ملک کے کسی بھی حصے میں فساد ہو سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو ہی ہوتا ہے۔ ویسے بھی فساد کے بعد فساد کی انکوائری کرانا ڈی ایم کو برخاست کرنا یہ سب تماشے بہت ہوچکے اگر صحیح معنوں میں فساد روکنا ہی مقصد ہے تو پھر پہلے سے شرپسند عناصر کو پکڑا جائے ان کا ٹریک رکھا جائے۔ ورنہ اس طرح ہر دن فساد ہوتے رہیں گے اور مسلمان غریب پیستے رہیں گے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *