شادی کے پنڈال میں آتشزدگی، چار گھنٹے میں بجھائی جا سکی

Share Article

 

شمال مغربی ضلع کے نیتا جی سبھاش پلیس تھانے سے چند قدموں کے فاصلے پر منگل کی رات شادی کے پنڈال میں شدید آگ لگ گئی۔ حالانکہ اس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوالیکن پنڈال کا خاصہ حصہ جل کر خاکسترہو گیا۔ فائر بریگیڈ کی نو گاڑیوں کو آگ بجھانے میں گھنٹوں محنت کرنی پڑی۔ پولیس کیس درج کر معاملے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔

محکمہ فائر بریگیڈ اور پولیس کے مطابق منگل کی رات تقریباً 10بج کر 25منٹ پر پی سی آر کو نیتا جی سبھاش پلیس تھانے سے ملحقہ شادی کے پنڈال میں آگ لگنے کی اطلاع ملی۔پولیس موقع پر پہنچی۔ فائر بریگیڈ کی نو گاڑیوں کو بھیجا گیا۔ فائر بریگیڈ کے جوانوں کو چار گھنٹے سختمشقت کرنی پڑی، تب ہی آگ کے شعلے پرسکون ہو سکیں۔ ابتدائی تحقیقات میں پولیس شارٹ سرکٹ کا خدشہ کا اظہار کر رہی ہے۔

 

Image result for Fire at wedding venue

 

پولیس کے مطابق ڈی ڈی اے کی زمین پر شادی کی تقریب کے لئے ستیہ ٹینٹ ہاؤس پنڈال لگا ہوا تھا۔ یہاں آریہ نگر رہائشی پارول کی پرنس کے ساتھ شادی کی رسومات پوری ہونی تھیں۔ بارات مہیندرا پارک سے آئی تھی۔ اس میں تقریباً 300 باراتی شامل تھے۔ رسومات کے دوران پنڈال کے مین گیٹ میں اچانک آگ لگ گئی۔ اس سے افرا تفری مچ گئی۔

پولیس کے مطابق پنڈال کو لکڑی اور کپڑوں سے سجاکر کور کیا گیا تھا۔ آگ لگنے پر انہی کی وجہ سے شعلے اٹھنے لگے۔ ہوا بھی کافی تیز چل رہی تھی، جس سے آگ پھیل گئی۔حادثے کی اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچے اے ایس آئی ستیندر نے بتایا کہ پنڈال کے پیچھے گاڑیوں کی پارکنگ تھی۔ پولیس نے سب سے پہلے تمام گاڑیوں کو باہر نکالا۔ اس کے بعد پنڈال سے تمام لوگوں کو پارکنگ کے راستے محفوظ باہر نکالا۔پولیس کے سینئر افسر کے مطابق پنڈال کا نصف سے زیادہ حصہ راکھ ہو گیا۔ جائے حادثہ سے کچھ فاصلے پر واقع لکشمی-نارائن مندر کے پجاری سے لوگوں نے گیٹ کھلوایا۔ اس کے بعد مندر میں شادی کی رسومات پوری کی گئیں۔

فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ سال 2010 میں پنڈالوں کے لئے نوٹس آیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ پندالوں کومحکمہ فائر بریگیڈ سے این او سی لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ پنڈال مالک خود ہی آگ بجھانے کے سامان لگائے گا۔ اگر کوئی آگ کے انجن محکمہ سے شکایت کرتا ہے کہ پنڈال میں آگ بجھانے کے آلات نہیں لگے ہیں اور حادثہ ہو سکتا ہے تو اس پرفائر بریگیڈ محکمہ پنڈال مالک سے پوچھ گچھ کر اسے نوٹس دے کر قانونی کارروائی کر سکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *