مشترکہ روحانی زمین کی تلاش ضروری

Share Article

سابق خارجہ سکریٹری شیام سرن اپنے حالیہ مضمون کی شروعات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حالیہ واقعات نے ایک زندہ ،تکثیری اور کامیاب جمہوریت کے طور پر ہندوستان کی شبیہ کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس مضمون میںانھوںنے ملک کی سماجی اور سیاسی بات چیت میںبڑھتے ہوئے پولرائزیشن اور فرقہ واریت پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سرن نے آگے لکھا ہے کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم دنیا کے سب سے روادار لوگوںمیں سے ہیں۔ ہم مذہب، ثقافت اور روایت ، زبان اور طرز زندگی کے تنوع کو سیلی بریٹ کرتے ہیں۔ تنوع حصہ داری سے پیدا ہوتا ہے لیکن یہ اس وقت زہر بن جاتا ہے جب تنوع سے ’ہم اور وہ ‘ کا فرق پیدا ہوتاہے۔ ہندو اور مسلمان کے بیچ تفریق کی بنیاد پر کوئی بہتر ہندو کی پہچان نہیںبنائی جاسکتی ہے۔
دراصل علیحدگی کے بجائے ہمیںایک مشترکہ روحانی زمین تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مشترکہ زمین یوںہی نہیں ملے گی۔ اس کے لیے پختہ یقین کے ساتھ لگاتار کوشش کی ضرورت ہوگی۔ یہ مشترکہ زمین مذہبی، علاقائی اور نسلی بھید بھاؤ کو مٹانے سے حاصل ہوگی۔
ہم ایساآدرش ملک کیسے بنا سکتے ہیں؟ اس کے لیے ہمیںوہیںسے شروعات کرنی چاہیے جہاں ہم فی الحال ہیں۔ یہیںسے ہمیںاپنی مشترکہ اقدار کی پہچان کرنی چاہیے، انھیںمضبوطی فراہم کرنی چاہیے اور اسی کے سہارے آگے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔
اپنی مشترکہ اقدار کی کھوج کے لیے میںمثال کے طور پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان اور بنارس ہندو یونیورسٹی کے بانی پنڈت مدن موہن مالویہ کے ذریعہ دی گئی تعلیمات کاذ کر کروں گا۔ ان دو نوںصاحب بصیرت شخصیات نے دنیا کو مذہب کے تنگ چشمے کے بجائے وسیع النظری سے دیکھا اور یہ دکھایاکہ کیسے ایک مضبوط جامع سوچ لوگوںکو بانٹنے کے بجائے انھیں متحد کرتی ہے۔

 

 

پنڈت مالویہ کہتے ہیںکہ ہندوستان صرف ہندوؤںکا ملک نہیں ہے۔ یہ مسلمانوں، عیسائیوں اورپارسیوں کا بھی ملک ہے۔ یہ ملک اس حالت میںمضبوط ہوگا اور ترقی کرے گا جب یہاںکے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہیںگے اور ایک دوسرے کا بھلا سوچیںگے۔ سر سید کی سوچ بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ انھوںنے کہا تھا کہ علی گڑھ سے فارغ التحصیل طلبہ اس سرزمین کے کونے کونے میںجاکر آزاد خیالی،رواداری اور اخلاقیات کی تشہیر کریں گے۔ حالانکہ سر سید اور پنڈت مالویہ کے مذہبی نظریات ایک دوسرے سے مختلف تھے لیکن بلاشبہ دونوںکے بیچ ایک روحانی یکسانیت تھی۔ انھیںمعلوم تھا کہ روحانیت ایک ماورائی چیز ہے ۔ وہ جانتے تھے کہ روحانیت ایک غیر مرئی طاقت ہے جو ہمیں ہمارے اندیشوں کے باوجود متحد کرتی ہے۔ وہ اس بات کو مانتے تھے کہ ہندوستان ایک خدا کے زیر سایہ ایک عظیم ملک ہوگا۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک خدا کے زیر سایہ سے کیا مطلب ہے؟ ایسے ملک کیسے وجود میںآئے گا؟ تو اس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ خدا نہ ہندو ، نہ مسلم اور نہ ہی عیسائی ہوگا۔ وہ خدا آفاقی اور غیر فرقہ وارانہ ہوگا۔ وہ خدا سبھی کو خوش آمدید کرے گا۔ کسی کے ساتھی بھید بھاؤ نہیںکرے گا اور نہ ہی کسی طرح کے بھید بھاؤ کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

 

 

 

ایک عظیم ملک بنانے کا کام ہم خدا یا اپنے دیوتاؤں کی طرف دیکھے بغیر ، اس زمین اور یہاںکے لوگوں اور اپنے خاندان کو دیکھتے ہوئے کر سکتے ہیں۔ اس کوشش میںہم سب کے اپنے اپنے کردار ہیں لیکن کچھ لوگوں کو اپنی خصوصی شراکت ادا کرنی ہوگی ۔ مذہبی رہنما بین المذاہب بات چیت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ وہ مختلف مذاہب کے پییروکاروں کو ایک بامعنی گفت و شنید کے لیے ایک پلیٹ فارم پر لاسکتے ہیں۔ وہ مختلفمذاہب اور فرقوںکے بیچ بات چیت کو فروغ دے سکتے ہیں تاکہ آپسی میل ملاپ کو فروغ دیا جاسکے۔ وہ اس حقیقت پر توجہ دے سکتے ہیںکہ ایک مذہب پر حملہ سبھی مذاہب پر حملہ ہے۔ سیاستداں اتحاد اور تہذیب کا خاکہ تیار کرسکتے ہیں۔ وہ یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ سبھی قانون غیر جانبدارانہ اور صحیح طریقے سے نافذ ہوں۔ وہ فرقہ وارانہ امن اور خیر سگالی کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے مثبت کارروائی کر سکتے ہیں۔ وہ ڈر کی جگہ امید کو فروغ دے سکتے ہیں۔ شہری او ررہنما باہمی تعاون اور اپنے لوگوںکے ساتھ مل کر اچھے کاموں کو فروغ دے سکتے ہیں۔ وہ ایسے پروگراموں کو فروغ دے سکتے ہیں جن کے ذریعہ نسلی، مذہبی او رسماجی- معاشی تقسیم کو ختم کیا جاسکے۔ وہ ایک مضبوط اور بہتر ہندوستان تشکیل دینے میںمدد کرسکتے ہیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ کا امریکہ دنیا میںجمہوریت کے قائدانہ رول سے پیچھے ہٹ رہا ہے اور اس کی وجہ سے ایک خلا ء بن گیا ہے۔ اپنے روحانی اتحاد کے ذریعہ اور ایک خدا کے تابع ایک ملک بن کر ہندوستان اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ دنیا میں جمہوریت کا قائد ملک بن سکتا ہے اور امریکہ کے ذریعہ خالی کیے مقام کو پُر کر سکتا ہے۔

فوٹو : پنڈت مدن موہن مالویہ اور سرسید احمد خان

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *