budget

وزیر خزانہ ارون جیٹلی آج عام بجٹ پیش کریں گے اور عام الیکشن سے قبل آخری مکمل بجٹ پیش کریں گے۔عیاں رہے کہ جی ایس ٹی نافذہونے کے بعدیہ پہلابجٹ ہے۔وزیرخزانہ ارون جیٹلی آج تقریباگیارہ بجے بجٹ تقریرشروع کریں گے توسب کی نظریں اس بات پرہوگی کہ وہ کیسے امیدوں اورچیلنجزکے بیچ بیلنس بٹھاپاتے ہیں۔ اس مرتبہ لوگوں کی توجہ‘کیا سستا، کیا مہنگا‘ سے ہٹ کر انکم ٹیکس سلیب میں تبدیلی پر رہے گی اور تنخواہ یافتہ ملازمین کو امید ہے کہ وزیر خزانہ اس مرتبہ ان پر مہربان ہوسکتے ہیں۔ جی ایس ٹی کے نافذ ہونے کے ساتھ ہی بالواسطہ ٹیکس لگانے کا کام حکومت کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے اور یہ کام اب وزیر خزانہ کی صدارت والی جی ایس ٹی کونسل کرتی ہے۔ جس میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام حکومتوں کے وزرائے خزانہ رکن ہیں۔ اب بجٹ میں بالواسطہ ٹیکس کے سلسلے میں بہت کچھ نہیں ہوگا لیکن ایکسائز ڈیوٹی میں تبدیلی ہونے پر درآمد شدہ اشیاء کی قیمتیں متاثرہوسکتی ہیں۔نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی وجہ سے معیشت میں آئی سستی کے مدنظر یہ امیدکی جارہی ہے کہ حکومت اگلے سال کے مالیاتی خسارے کے ہدف کو بڑھا سکتی ہے اور عام انتخابات سے قبل عوامی فلاح و بہبود کے پروگراموں پر سرکاری خرچ میں اضافہ پر زور دیا جاسکتا ہے۔

 

 

آئندہ سال عام انتخانات ہونے سے قبل مودی حکومت کا یہ آخری مکمل بجٹ ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی اس سال آٹھ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔ حکومت کے زرعی سیکٹر اور چھوٹی صنعتوں پر خصوصی توجہ دینے کی امید ہے۔ کیوں کہ سال 2022تک حکومت کسانو ں کی آمدنی دوگنا کرنے کے پرعزم ہدف پر کام کررہی ہے۔ اس کے لئے حکومت زرعی سیکٹر کے لئے کچھ بڑے اعلانات کرسکتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here