آخر حکومت کب سمجھے گی؟

Share Article

سنتوش بھارتیہ
لال گڑھ میں ممتا بنرجی کی ریلی ہوئی۔ اس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی اور بی جے پی نے الزام لگایا کہ یہ سارے ماؤنوازوں کے حامی اور مسلح افراد تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تیس سے پچاس ہزار افراد اگر ہتھیار لے کر اکٹھا ہو سکتے ہیں، جیسا کہ الزام لگا ہے تو مقامی و مرکزی حکو مت کے لیے ڈوب مرنے کی بات ہے۔ اس لیے کیوںکہ یہ عام لوگوں کی بے اطمینانی کا مظاہرہ ہے اور حکومت پر اعتماد نہیں ہے۔ ممتا بنرجی کو اس لیے گھیرا جارہا ہے کہ انہوں نے کیوں آزاد کی موت کا سوال وہاں اٹھایا۔ وہاں سوامی اگنی ویش بھی تھے، جن کا کہنا ہے کہ آزاد ان سے ملتے رہتے تھے اور ماؤنوازوں کو بات چیت کے لیے آمادہ کرنے میں اہم کردار نبھا رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا نظام غیرحساس اور سیاست غیرانسانی ہوتی جارہی ہے۔ اس میں اصلاح لانے والے یا اس کے خلاف آواز اٹھانے والے لوگ اب بچے نہیں ہیں، اس لیے اگر امید ہے تو صرف عام آدمی سے ہی ہے۔
ممتابنرجی کی تعریف نہ کریں تو کیا کریں۔ جتنے لوگ سیاست میں آج ہیں، ان میں کون ایسا ہے جو اتنا سادہ رہتا ہو، کون ہے جس پر بدعنوانی کا ایک بھی الزام نہ لگا ہو، کون ہے جس کا کوئی گاڈ فادر نہ ہو، کون ہے جس کے پیچھے کوئی پیسے والا گھرانا نہ ہو، کون ہے جو اپنی اور صرف اپنی طاقت پر عوام کا پیار جیت رہا ہو اور کون ہے جس نے اپنے دم پر ایک ایسی پارٹی کھڑی کی، جس نے برسراقتدار پارٹی کو اس خوف میں مبتلا کر دیا ہو کہ اسے اب اپوزیشن میں بیٹھنا پڑ سکتا ہے۔ تیس سال تک سی پی ایم کا ساتھ دینے والی مسلم قوم کو ایک جھٹکے میں اپنے ساتھ کھینچنا کسی کرشمے سے کم نہیں اور اسے ممتا بنرجی نے کر دکھایا ہے۔ آج بنگال میں تقریباً ایک ہی بات چل رہی ہے کہ اگلا وزیراعلیٰ کون ہوگا؟یہ سوال نہیں ہے، صرف جواب ہی سب کی زبان پر ہے کہ ممتا بنرجی ہی آئندہ کی وزیر اعلیٰ ہوںگی۔
آج ممتا بنرجی نے کانگریس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور کانگریس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ بغیر ممتا بنرجی کے اسمبلی انتخابات لڑے۔ ممتا بنرجی نے بی جے پی اور بایاں محاذ کو اس بات کے لیے مجبور بھی کردیا ہے کہ وہ ان کے اوپر ہی حملہ کریں۔ اس کا مطلب ہے کہ آج ممتا بنرجی تنہا شخصیت ہیں جو آگے بڑھ رہی ہیں۔ ممتابنرجی کی ترقی کچھ ایسی ہورہی ہے جو کسی اور کی ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ ان کے پاس دبے کچلے لوگ جارہے ہیں۔ انہیں اپنا دکھ درد بتا رہے ہیں اور ممتا بنرجی ان کی بات سن رہی ہیں۔ اگر ملک کے باقی حصوں کے پریشان، ستم رسیدہ ممتا بنرجی کے پاس جانے لگیں تو مان لینا چاہیے کہ ایک نئے قومی رہنما کا جنم ہونے والا ہے، لیکن سوال ممتا بنرجی کا نہیں ہے، سوال مرکزی حکومت کا ہے، جسے اپنی حکمت عملیوں کے بارے میں سوچنے کی فکر ہی نہیں ہے۔ اترپردیش کے کسانوں کا تازہ غصہ علی گڑھ اور متھرا میں پھوٹا ہے۔ وہ اپنی زمین کا معاوضہ منصفانہ طریقہ سے چاہتے ہیں۔یہی مطالبہ آگرہ میں اٹھایا گیا۔ اس کی حمایت بلیا، بنارس اور بندیل کھنڈ کے کسان بھی کر رہے ہیں۔دادری نوئیڈا کے کسانوں نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔ متھرا کی خواتین نے ایک نیا مطالبہ کیاہے کہ انہیں زمین چاہئے، پیسہ نہیں۔ایک بزرگ خاتون نے کہا کہ اس کی شادی ہی زمین دیکھ کر ہوئی تھی۔ دوسری خواتین کا کہنا ہے کہ کھائیں گے کیا، اگر زمین چلی گئی۔ کسانوں نے اپنے لیڈر کی بات ماننے سے بھی انکار کر دیا، کیونکہ اس نے کہہ دیا تھا کہ اتر پردیش حکومت کی بات مان کر تحریک ختم کر دینی چاہئے۔
کسانوں کا مسئلہ تب تک اور کچھ حد تک ختم نہیں ہوگا، جب تک کہ زمین کے ایکوائرنگ قانون میں ترمیم نہیں ہو جاتی۔ کسانوں کی زمین کی ایکوائرنگ اب بلڈروں کے لئے حکومت کرنے لگی ہے۔ بازار ی شرح کسانوں کو ملے، اس کے خلاف سبھی ایک رائے ہیں۔ کسانوں کے سوال حل کرنے کا وعدہ کرنے والے سیاستداں خواہ کسی بھی جماعت کے ہوں، وہ جب اسمبلی یا لوک سبھا میں جاتے ہیں تو سب سے پہلے کسانوں کے سوال ہی بھول جاتے ہیں۔ اس لئے کسان اب بنا کسی قیادت کے ہی کھڑا ہونے لگا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جلد سے جلد پارلیمنٹ زمین ایکوائرنگ قانون میں ترمیم کرے۔ کسانوں کی زمین، اسکول، اسپتال،نہر کے علاوہ فوج کی ضرورت کے لئے تو ایکوائر ہو، اس کے علاوہ نہیں۔ مکان، بنانے، مال بنانے یا ایس ای زیڈ بنانے کے نام پر حکومت کو پیسے والے بلڈروں کے دلال کا کردار ادا کرنا چاہئے۔کسانوں کو بازارکی قیمت کے مطابق معاوضہ ملنا چاہئے۔ہزاروں کسان علی گڑھ، متھرا میں کھڑے ہو گئے۔انہیں کیا مائونوازکہیں گے؟لال گڑھ میں ہزاروں کا مجمع اور علی گڑھ، متھرا میں ہزاروں کی تحریک بتا رہی ہے کہ ملک میں ایک نئی بغاوت کا جنم ہونے والا ہے۔ اگر کوئی قیادت نہیں ملی تو لوگ اپنے آپ قیادت کرنے لگیں گے۔اب شاید لوگوں کو بے وقوف بنانے کی زبان اپنا اثر کھونے لگی ہے۔ اپوزیشن کی سستی اور حکومت کی بے حسی ایسی صورتحال پیدا کر رہی ہے، جو ایک بڑے خطرہ کی بنیاد بنے گی۔دولت مشترکہ کھیلوں کی بدعنوانی، کھلی لوٹ کھسوٹ، تعمیر میں لاپروائی اور حکومت کی بے شرمی لوگوں کی نظروں میں ہے اور اب تو انتہا ہو گئی کہ کھیلوں کو کرانے کے لئے فوج کا استعمال ہونے والا ہے۔ اس کا مطلب سول ایڈمنسٹریشن ناکام ہو گیا ہے۔ فوج کو دولت مشترکہ کھیلوں میں شامل کرنے کا مطلب اب فوج سے ملبہ صاف کرانے سے لے کر سپاہی تک کی ڈیوٹی کرانا ہے۔ فوج کا کام سرحد کی حفاظت ہے، کھیل کرانا نہیں۔ وزیر کھیل گل اور وزیر شہری ترقیات کو شرم نہیں آئی فوج کو خط لکھتے وقت کہ وہ کھیل کرائے اور وہ بھی مفت۔سیلاب میں فوج،فساد میں فوج، خشک سالی میں فوج اور اب کھیل میں بھی فوج۔ فوج کا استعمال کرنا ہی ہے تو مائونواز ریاستوں میں ترقی کا کام فوج کے سپردکرنا چاہئے اور سیاسی مداخلت ختم کردینی چاہئے، لیکن فوج کا مطالبہ کر کے حکومت نے بتا دیا ہے کہ وہ کچھ بھی صحیح ڈھنگ سے نہیں کر سکتی۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *