آخر کار ریلوے نے واپس لی ٹرینوں میں مساج کی سہولت کا منصوبہ

Share Article
After all the railways took back massage facilities in trains

 

آخر کار مخالفت کے بعد ریلوے نے ٹرینوں میں مسافروں کے لئے مساج سروس دینے کا منصوبہ ہفتہ کو منسوخ کر دیا۔ اس سے پہلے بی جے پی کے سینئر لیڈروں سمترا مہاجن اور ایم پی شنکر لالوانی نے مرکزی وزیر ریل پیوش گوئل کو خط لکھ کراس پر اعتراض کیا تھا۔ ریلوے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اندور سے چلنے والی 39 ٹرینوں کے مسافروں کو سر، گردن اور پیروں کے مساج کی سہولت فراہم کرنے سے متعلق تجویز کو واپس لے لیا گیا ہے۔

Image result for massage facility in the back trains

اندور کے ایم پی شنکر لالوانی نے ریلوے کے وزیر کو خط لکھ کر کہا تھا کہ خواتین مسافروں کی موجودگی میں مرد مسافروں کو مساج سروس فراہم کرانا ہندوستھانی ثقافت کے خلاف ہے۔

 

مخالفت کے سبب ریلوے نے واپس لیا فیصلہ

ریلوے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اندور سے چلنے والی ٹرینوں میں مساج خدمات کو پیشکش مغربی ریلوے رتلام بورڈ کی طرف سے شروع کیا گیا تھا۔ جیسے ہی یہ تجویز مغربی ریلوے کے اعلی حکام کے نوٹس میں آیا یہ تجویز واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

Image result for massage facility in the back trains

بھارتی ریلوے کی تاریخ میں پہلی بار مغربی ریلوے کے رتلام ڈویژن نے اندور سے چلنے والی 39 ٹرینوں میں مسافروں کو مساج کی سہولت دینے کی تجویز تیارکی تھی۔ رتلام کے بورڈ آف ریلوے مینیجر (ڈی ارایم) آر این سونکر نے واضح کیا تھا کہ چلتی ٹرینوں میں صبح چھ سے رات 10 بجے کے درمیان مجوزہ سروس کے تحت مسافروں کو مکمل جسم کا نہیں بلکہ سر اور ٹانگوں کا مساج کیاجائے گا۔ اس سروس کے بدلے مسافروں سے 100، 200 اور 300 روپے کی تین مختلف زمروں میں قیمتیں طے کی گئی تھیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *