سامعہ جمال
فیمی سائڈ: اس نام کو شہرت اس وقت زیادہ ملی،جب تقریباً400 جوان لڑکیوں کو امریکہ، میکسیکو سرحد پر Jurarezنام کے شہر میں مار دیا گیا۔ 1993-2005 تک 400جوان لڑکیوں کے قتل کی رپورٹ درج کی گئی۔ کئی لڑکیوں کی لاشیں کوڑے دان میں پڑی ہوئی ملیں۔ لاش کی جانچ میں جسمانی اور جنسی تشدد کے کئی نشانات ملے۔ کئی عورتوں کی لاشیں ریگستان میں بھی پائی گئیں۔Jaurezمیں تو لڑکوں کا لڑکی کو دیکھ کر یہ کہنا عام بات ہے کہ ’ سنبھل کے رہے ورنہ یہ بھی ریگستان میں پائی جائے گی‘۔یہاں اعلیٰ درجے کے افسران نے اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سرکاری افسران خود اس گناہ میں شامل ہیں ۔میکسیکو میں کئی افسران نے فیمی سائڈ کے خلاف ہو رہے کاموں کو دبانے کی کوشش بھی کی۔

فیمی سائڈ ،یہ ایک ایسا نام ہے جو پہلی دفعہ اس وقت استعمال ہوا جب انگلینڈ میں 1801 میں ’عورتوں کے قتل‘ کے لئے نام سوچا جارہا تھا۔اس وقت اس لفظ کو چنا گیا۔Diana Russell نام کے آدمی نے 1976 میں اس ٹرم کا استعمال کیا تھا۔ یہ نام تب لوگوں کے ذہن میں آیا جب عورت ذات سے نفرت کی باتیں سامنے آئیں۔ایسے قتل کرنے والوں کوMysogynist کہا جانے لگا۔ریتا بنرجی بھی Diana کی طرح ہی کام کرتی ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ ہندوستان میں بھی Misogynyکافی عام ہے۔ ایسا کرنے کے لئے کچھ خاص طریقے اپنائے جاتے رہے ہیں جیسے:
ماں کی کوکھ میں ہی مار دینا
6 سال سے کم کی بچیوں کو مار پیٹ کر اور بھوکا رکھ کر مار دینا
جہیز کے لالچ میں مار دینا
غیرت کے لئے قتل کردینا
ڈائن کہہ کر مارڈالنا۔

2005-2010تک 100عورتیں غائب ہو چکی ہیں اور یہ مان لیا گیا ہے کہ وہ مر چکی ہیں۔ تشدد کا شکار ہورہی لڑکیاں 16-18 سال کی عمر کے بیچ زیادہ درج کی گئی ہیں۔ اس کو کچھ درج مقدمات سے سمجھا جاسکتا ہے:
۔نورما اندراد دی گریسیا کی بیٹی
نورما کئی دفعہ اپنی 17 سال کی بیٹی کی تصوریر لے کرلوگوں کے سامنے آئیں جو 14فروری2001 کو اغوا کر لی گئی تھی۔ ان کی بیٹی کی لاش ایک کمبل میں لپٹی ہوئی اس کے کام کرنے کی جگہ ، پلاسٹک فیکٹری، کے سامنے ملی۔ اسے بری طرح سے مارا گیا تھا اور اس کے کئی حصے نکا ل لئے گئے تھے۔

: اریس
روبی ہرناندیز کی 14سال کی بیٹی اریس 2مئی 2005 کو غائب ہوئی۔ روبی نے وہاں کے قانون (غائب ہونے کے 72گھنٹے بعد رپورٹ درج کروائی جائے)کو ایک طرف رکھتے ہوئے فارن پولیس میں اطلاع دی۔ ریڈیو اور پوسٹر کے ذریعہ سے لوگوں سے اریس کو ڈھونڈنے کی التجا بھی کی، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔دو دن بعد وہاں کی پولیس نے اریس کی ماں کو اریس کی کان کی بالیاں لوٹائیں۔ لوٹاتے وقت انہوں نے اریس کے کان کے اس حصے تک کو نہیں نکالا تھا جو اس بالی میں پھنسارہ گیا تھا۔ اریس کے جسم کے حصوں میں سے بس وہی بچا ہوا تھا۔

: مونیکا
اولگا الانیس کی بیٹی مونیکا ان 30عورتوں میں سے تھی جو 2009 میں غائب ہو گئیں۔ مونیکا کا پتہ اب تک نہیں چل پایا ہے۔
 پٹرسیا ڈی لا اوکے
پٹرسیا کی لاش بھی کمبل میں لپٹی ہوئی ملی۔ جانچ میں پتہ چلا کہ ان پر چاقو سے 40 سے زیادہ وار کیے گئے تھے۔
گوئٹے مالا:یہاں 2000-2010 تک 4867 عورتیں اغوا کر کے ماردی گئیں۔ ان میں سے 487 عورتوں نے اپنے ملک سے حفاظت مانگی تھیں کیونکہ انہیں مارا پیٹا جاتا تھا،ذلیل کیا جاتا تھا اور قتل کرنے کی دھمکی بھی دی جاتی تھی۔ 487 عورتوں نے 1جنوری2009 سے 4جنوری2009 تک اپیل کی، لیکن سنوائی کسی مسئلے میں نہیں ہوئی۔جنوری سے ستمبر2008تک گوئٹے مالا کے سرکاری اعدا دو شمار کیمطابق 39000 ایسے معاملے درج ہوئے جو گھریلو تشدد کی وجہ سے ہوئے۔ایسی تکلیف جھیل رہی بچیوں اور عورتوں کی عمر 13-30 سال کے درمیان مانی گئی ہے۔
۔کلوڈینا اسابیل السکویزپائز
19 سال کی لاء کی طالبہ کو 13اگست2005 کو رات دو بجے آخری بار دیکھا گیا تھا۔ کافی دیر کے بعد اس کی لاش شہر کے ایک کنارے میں پڑی ہوئی ملی۔ اس کے سر پر گولی ماری گئی تھی۔ چوٹ کے نشان پورے جسم پر تھے۔ جانچ میں پتہ چلا کہ اس کے پورے جسم پر مرد کے مادہ منویہ کے نشانات بھی تھے،جو پولیس آفیسر اس کیس کے لئے رکھے گئے انہوں نے صاف کہہ دیا کہ اس معاملے کی جانچ کے مسئلے میں پڑنا وقت کی بربادی ہے۔جب کلوڈینا کی لاش کی جانچ ہوئی تو پتہ چلا کہ انہوں نے اپنی نابھی چھدوا کر اس میں بالی پہنی ہوئی تھی اور ان کے پیروں میں جو سینڈل تھی وہ ہیل والی تھی۔ اس بات سے وہاں کی جانچ کر رہی پولیس کی ٹیم نے مان لیا کہ یا تو وہ غنڈوں کے گینگ میں سے تھی یا پھر ایک طوائف۔
 ۔ماریہ اسابیل فرانسو
ماریہ 16دسمبر2001 کی رات کو غائب ہو گئی۔ اس کی لاش کرسمس کے قریب ایک جگہ پڑی ہوئی ملی۔جب اس کی جانچ ہوئی تو پتہ چلا کہ ماریہ کے ہاتھ اور پیر بجلی کے تار سے باندھے ہوئے تھے۔ ان کا ریپ ہوا تھا۔ انہیں کئی جگہ چاقو سے کاٹا گیا تھا۔ ان کے پیٹ میں کئی دفعہ چاقو بھونکا بھی گیا تھا۔ ان کے منہ پر اتنے گھونسے مارے گئے تھے کہ ان کا چہرہ خراب ہو گیاتھا۔ ان کے ہاتھ کے ناخن الٹے موڑ دیے گئے تھے اور پھر ان کی لاش کو ایک بیگ میں بھر کرایک کوڑے دان میں ڈال دیا گیا تھا۔ماریہ کی لاش جب ملی تھی تو ان کے پاس ان کا فون بھی ملا۔ ماریہ کی ماں نے کئی دفعہ آواز اٹھائی اور کہا کہ اس فون میں نمبروں کی جانچ ہو لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ماریہ کی میڈیکل جانچ بھی ٹھیک سے نہیں کی گئی۔جس گھر میں ماریہ کے ساتھ تشدد ہوا تھا، اس گھر کو ڈھونڈنے میں بھی وہاں کی پولیس نے ڈیڑھ سال لگا دیے،تب تک قاتلوں نے سارے ثبوت مٹا دئے اور کوئی سراغ نہیں ملا۔
جاریز (خواریز) اور گوئٹے مالا میں مانا جاتا ہے کہ جن لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے وہ خود ایسی باتوں کو دعوت دیتی ہیں۔ اگر وہ جسم دکھنے والے کپڑے نہ پہنیں تو ان کے ساتھ ایسا کبھی نہ ہو۔دونوں جگہ کی سرکاریں ایسے قتلوں کے بارے میں کچھ نہیں کر رہی ہیں۔ ان دوملکوں کی پریشانی کی جڑ بھی رشوت خوری ہے۔ گوئٹے مالا میں 99 فیصد ایسے معاملوں میں تو کوئی سنوائی ہی نہیں ہوتی ،سزا تو دور کی بات ہے۔
کوسٹا ریکا
ہمارے ملک میں فیمی سائڈ کے معاملے 65فیصد سے 18 فیصد ہو گئے ہیں۔ 2011 میں ایسے معاملے 65 فیصد سے 40فیصد ہی تھے لیکن اس گراوٹ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمارا کام ختم ہو گیا ہے۔ ہمیں ایسی حیوانیت کو روکنے کے لئے ابھی اور کام کرنا ہے۔ کوسٹا ریکا کی صدر لائوراچن چیلا نے ایک رپورٹ میں بتایا۔
اتنا کام کرنے اور لوگوں کو سمجھانے کے باوجود سینٹرل امریکہ میں عورتوں کے خلاف ظلم جاری ہے۔رکنا تو دور بلکہ 2012 میں ان میں بڑھوتری ہی دیکھی گئی ہے۔ کوسٹا ریکا میں 7298 ایسے معاملے سامنے آئے جو فیمی سائڈ سے جڑے تھے۔پورے امریکہ میں لاطینی امریکہ وہ حصہ ہے جہاں عورتوں پر ظلم سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ چاہے دنیا کا کوئی بھی کنارہ ہو، یا کوئی بھی خطہ،ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں پر فیمی سائڈ کا معاملہ نہ ملے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here