فہمیدہ ریاض کی انقلابی نظم

Share Article

برصغیر کی 73سالہ مشہور شاعرہ و مصنفہ فہمیدہ ریاض کے 21نومبر کو لاہور میں انتقال سے جمہوریت کی عظیم مجاہدہ رخصت ہوگئی ہیں۔ اس موقع پر ان کی ہندوستانیوں کو للکارتی یہ انقلاجی نظم یاد آتی ہے جو کہ بروقت اور موزوں ہے:

تم بالکل ہم جیسے نکلے
تم بالکل ہم جیسے نکلے
اب تک کہاں چھپے تھے بھائی
وہ موركھتا، وہ گھامڑپن
جس میں ہم نے صدی گنوائی
آخر پہنچی دوار تمہارے
ارے بدھائی بہت بدھائی!

پریت مذہب کا ناچ رہا ہے
قائم ہندو راج کرو گے؟
سارے الٹے کاج کروگے!
اپنا چمن تاراز کرو گے!

ضرور پڑھیں

جموں وکشمیرمیں گرینڈ الائنس کادھماکہ

تم بھی بیٹھے کروگے سوچا
پوری ہے ویسی تیاری
کون ہے ہندو، کون نہیں ہے
تم بھی کروگے فتوے جاری
ہوگا کٹھن وہاں بھی جینا
دانتوں آ جائے گا پسینہ
جیسی تیسی کٹا کرے گی
وہاں بھی سب کی سانس گھٹے گی
ماتھے پر سندور کی ریکھا
کچھ بھی نہیں پڑوس سے سیکھا

کیا ہم نے دوردشا بنائی
کچھ بھی تم کو نظر نہ آئی؟
کل دکھ سے سوچا کرتی تھی
سوچ کے بہت ہنسی آج آئی
تم بالکل ہم جیسے نکلے
ہم دو قوم نہیں تھے بھائی!

مشق کرو تم آ جائے گا
الٹے پائوں چلتے جانا
دھیان نہ من میں دوجا آئے
بس پیچھے ہی نظر جمانا
بھاڑ میں جائے شکشا وکشا
اب جاہل پن کے گن گانا!

آگے گڈھا ہے یہ مت دیکھو
لائو واپس گیا زمانہ
ایک جاپ سا کرتے جائو
بارمبار یہی دہرائو
کیسا ویر مہان تھا بھارت
کیسا عالیشان تھا بھارت

پھر تم لوگ پہنچ جائو گے
بس پرلوک پہنچ جائو گے
ہم تو ہیں پہلے سے وہاں پر
تم بھی سمئے نکالتے رہنا
اب جس نرک میں جائو وہاں سے
چٹھی وٹھی ڈالتے رہنا!

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *