طالبان کے خوف سے لڑکی سے لڑکا بن گئی پاکستان کی سرفہرست اسکوائش کھلاڑی

Share Article

Women-Squash-Playerپاکستان کی نمبر ون خاتون اکوائش کھلاڑی ماریا ترپکائی جب چھوٹی بچی تھیں، تو انھوں نے اپنے سارے کپڑے جلا ڈالے تھے۔ اپنے لمبے بالوں کو کاٹ کر انھوں نے چھوٹا کر دیا تھا۔ پھر آئندہ دس سالوں تک ماریا خود کو بھی یہ یقین دلاتی رہیں کہ وہ لڑکی نہیں، لڑکا ہیں۔ ماریا کی پیدائش پاکستان کے جنوبی وزیرستان میں ہوئی تھی۔ یہ حصہ ان جگہوں میں شامل جہاں طالبان کی گہری پکڑ ہے۔

چار سال کی عمر میں ماریا کو محسوس ہوا کہ اگر انہیں کھیلنا ہے تو لڑکوں کی طرح کپڑے پہننے ہوں گے۔ ماریا کے والد اپنے بیٹی کے اندر چھپی کھلاڑی کو دیکھ پا رہے تھے۔ ماریا کی مدد کرنے کے لئے انھوں نے اسے اپنا بیٹا قرار دے دیا اور اس کا نام چنگیز خان رکھ دیا۔ پھر دھیرے دھیرے جب ماریا زیادہ مشہور ہونے لگیں تو ان کا یہ راز بھی کھل گیا۔ لوگوں کو پتہ ہو گیا کہ وہ لڑکا نہیں، لڑکی ہیں۔ اس بات کا پتہ چلنے کے بعد طالبان کی طرف سے ماریا کو قتل کی دھمکیاں دی جانے لگیں۔ طالبان نے ماریا کے پریوار پر الزام لگایا تھا کہ اپنی  بیٹی کو بیٹے کے طور پر پیش کر کے اور اسے کھلے عام کھیلنے کا موقع دے کر انھوں نے سبھی کو شرمسار کیا ہے۔

ماریا کی کہانی عام لوگوں جیسی نہیں ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی کی کہانی کو ’گرل انبائونڈ‘ نام کی فلم کے ذریعہ پردٔ سیمیں پر اتارا گیا ہے۔ گزشتہ بدھ کو لندن میں منعقد ایک فلم فیسٹیول کے دوران اس فلم کی اسکریننگ ہوئی۔ اس موقع پر موجود ماریا نے بتایا کہ  میں جس جگہ سے تعلق رکھتی ہوں، وہاں لڑکیوں کو کھیلنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ میں نے اس طرح کے تمام ضوابط کو توڑا ہے۔ 16 سال کی عمر میں ماریا نے ورلڈ جونیئر اسکوائش چمپئن شپ میں تیسرا مقام حاصل کیا۔ پاکستان کے اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے انہیں اس حصولیابی پر اعزاز سے  بھی نوازہ۔ ماریا بتاتی ہیںکہ بین الاقوامی سطح پر کھیلنے والی وزیرستان کی میں پہلی پشتو لڑکی تھیں۔ میرے پریوار کو طالبان کی طرف سے دھمکیاں ملیں۔ طالبان کا کہنا تھا کہ ہم قبیلائی لوگ ہیں اور ہمیں اسلام کے ضوابط کی تعمیل کرنی چاہئے۔ ان کے مطابق عورتوں کو گھر کی دہلیز کے اندر ہی رہنا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *