ایف ڈی آئی پر گھری سرکار

Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ 
ہندوستان ایک انوکھا ملک ہے۔ کہنے کو یہاں جمہوریت ہے اور عوام اس کے مالک، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف الیکشن کے موقع پر ہمارے نام نہاد لیڈر جنتا کے دربار میں حاضری لگاتے ہیں اور انتخاب ختم ہوتے ہی وہ عوام کو بھول جاتے ہیں۔ سال 1990 میں اُس وقت کی کانگریس حکومت نے ملک میں نئی اقتصادی پالیسی نافذ کی تھی۔ اس وقت بھی حکومت کے اس فیصلہ کی مخالفت ہوئی تھی۔ حکومت کی دلیل تھی کہ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ملک میں خوش حالی آئے گی۔ دو دہائی کے بعد مرکزی حکومت نے نام نہاد اقتصادی ترقی کے نام پر ایک اقتصادی پالیسی نافذ کی ہے ایف ڈی آئی کے نام پر۔ اتفاق سے بیس سال پہلے بھی کانگریس کی ہی حکومت تھی اور آج بھی کانگریس کی ہی حکومت ہے۔ اس بار بھی حکومت کی وہی پرانی دلیل ہے کہ ہم جو کر رہے ہیں، اس سے ملک کے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ کسانوں اور مزدوروں کو ایف ڈی آئی سے خاص فائدہ ہوگا، لیکن ڈاکٹر منموہن سنگھ حکومت کے اس فیصلہ کو مختلف سیاسی پارٹیاں اور سماجی تنظیمیں تاریخی بھول قرار دے رہی ہیں۔ کسی بھی جمہوری ملک میں کوئی بھی فیصلہ عوام کی مرضی کے خلاف ہی لیا جاتا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ نئی اقتصادی پالیسی نافذ ہونے کے بعد ملک میں غریبی، افسردگی اور نقل مکانی میں اضافہ ہوا ہے۔ وہیں اس کا سب سے زیادہ فائدہ سرمایہ دار طبقے کو ہوا ہے۔ جس طرح ملک میں ایف ڈی آئی کی مخالفت ہو رہی ہے اور حکومت اپنے فیصلہ پر دوبارہ غور کرنے کو تیار نہیں ہے، اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اگر کہیں اکثریت کی حکومت ہے تو وہ کچھ بھی کرنے اور کوئی بھی فیصلہ لینے کے لیے آزاد ہے۔ اس کی نظروں میں اپوزیشن پارٹیوں اور عوام کے لیے کہیں کوئی جگہ نہیں ہے۔
بہرحال، مہنگائی اور بدعنوانی سے پریشان عام جنتا کو یقین دلانے کے ساتھ ساتھ آئندہ انتخابات کے مد نظر بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک میں غیر منظم شعبہ کے مزدوروں کو اپنے حق میں کرنے کی قواعد شروع کردی ہے۔ گزشتہ دنوں دہلی کے رام لیلا میدان میں بی جے پی نے مزدور مہا سنگرام ریلی منعقد کرکے یو پی اے حکومت کو اپنی طاقت کا احساس کرا دیا۔ اس موقع پر بی جے پی کے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی نے کہا کہ مرکزی حکومت کے ذریعے رٹیل مارکیٹ میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو منظوری دینے سے کسان، مزدور اور غیر منظم شعبوں میں کام کرنے والے کروڑوں لوگ متاثر ہوں گے۔ ان کے مطابق، حکومت کا یہ فیصلہ پوری طرح عوام مخالف ہے۔ لہٰذا بھارتیہ جنتا پارٹی پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک اس کی مخالفت کرے گی۔ ڈاکٹر جوشی کے مطابق، جس ایف ڈی آئی کو نافذ کرکے یو پی اے حکومت خوش ہو رہی ہے، اصل میں اس کا یہ فیصلہ تاریخی بھول ہے، کیوں کہ رٹیل کاروبار سے ملک کے پانچ کروڑ لوگ جڑے ہوئے ہیں، وہیں ایف ڈی آئی آنے سے صرف 25 لاکھ لوگوں کو روزگار مل سکے گا۔
رام لیلا میدان میں ملک کی الگ الگ ریاستوں سے آئے بڑی تعداد میں مزدوروں کو دیکھ کر جوشی نے کہا کہ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ ملک میں مزدوروں کی حالت کیسی ہے۔ ملک کی ایک تہائی آبادی، یعنی 43.80 کروڑ لوگ غیر منظم شعبوں میں کام کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ان کے لیے حکومت کے پاس کوئی ٹھوس پالیسی نہیں ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر نتن گڈکری کے مطابق، سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے غریبی ہٹاؤ کا نعرہ دیا تھا، اب وہی کانگریس غریبوں کو ہٹانے میں لگی ہوئی ہے۔ ملک میں ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں کہ یہاں صرف دولت مند لوگ ہی رہ سکتے ہیں۔ کانگریس کو حمایت دینے والی سماجوادی پارٹی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ لکھنؤ میں تو کانگریس اور ایس پی کے درمیان کشتی ہوتی ہے، لیکن دہلی آتے ہی ان کے درمیان گہری دوستی ہو جاتی ہے۔ سماجوادی پارٹی کا یہ دوہرا کردار ملک کے لیے خطرناک ہے۔ اس ریلی میں آئے کچھ مزدوروں نے چوتھی دنیا کو اپنی آپ بیتی سنائی۔ ضلع کٹنی، مدھیہ پردیش کے ویرو یادو نے بتایا کہ انہیں چھ مہینے سے منریگا کی مزدوری نہیں ملی ہے۔ بلاک کا چکر لگاتے لگاتے وہ تھک چکے ہیں، لیکن افسر اُن کی نہیں سنتے۔ چھتیس گڑھ سے آئے کسان موتی لال پٹیل نے بتایا کہ ان کے پاس کھیتی کے لائق کچھ زمین ہے، لیکن نہر نہ ہونے کی وجہ سے کھیتی ٹھیک طرح سے نہیں ہو پاتی، اس لیے انہیں مزدوری کرنی پڑتی ہے۔ گاؤں پکڑی، ضلع بلیا، اتر پردیش کے رہنے والے وکیل پاسوان کے مطابق، بڑھتی مہنگائی سے مزدوروں کا برا حال ہے۔ ہم لوگ کافی امید کے ساتھ اس ریلی میں حصہ لینے آئے ہیں۔ ہمیں ایک ایسی حکومت چاہیے، جس میں مزدوروں کی بات سنی جائے، جہاں سب کو بولنے کا حق ہو۔ ضلع دیواس، مدھیہ پردیش کے رہنے والے سکندر موریہ بتاتے ہیں کہ ملک میں مزدوروں کی حالت کافی خراب ہے، اگر حالات جلد نہیں سدھرے تو یہاں جنگ چھڑے گی، جس میں بدعنوان لیڈر سر عام مارے جائیں گے۔ ضلع دیواس، مدھیہ پردیش کی رہنے والی کیسر بائی، لیلا بائی اور کملا بائی نے بتایا کہ وہ تیندو پتہ توڑنے کا کام کرتی ہیں، لیکن مزدوری کم ملنے کی وجہ سے ان کا گزارہ نہیں ہو پاتا۔ ان کے مطابق، حکومت بڑے لوگوں کی سہولیات کا خاص خیال رکھتی ہے، لیکن مزدور جب اپنے حق کی بات کرتے ہیں، تو وہ خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔

مزدوروں کی اہم مانگیں
پانچ ایکڑ تک کے کسانوں کو کھیتی کرنے والے مزدوروں کا درجہ دیا جائے۔
غیر منظم شعبوں کے رجسٹرڈ مزدوروں کے لیے کم از کم ڈیڑھ ہزار روپے ماہانہ پنشن کو یقینی بنایا جائے۔
مزدوروں کے رجسٹریشن کی کارروائی کو آسان بنایا جائے۔
ای ایس آئی کی طرز پر اسپتال بنائے جائیں۔
جی ڈی پی کا تین فیصد مزدوروں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔
غیر منظم شعبوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی تنخواہ 4 ہزار روپے سے بڑھا کر کم از کم 8 ہزار روپے ماہانہ کی جائے۔

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھنے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملککے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھ نے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *