فتح پور سیکری: سہ رخی مقابلے میں پھنسے راج ببر کی ساکھ داؤ پر

Share Article

 

اتر پردیش کی فتح پور سیکری لوک سبھا سیٹ پر صوبہ کانگریس صدر راج ببر کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ یہاں پر بی جے پی امیدوارراجکمار چاہر سے راج ببر کوسخت چیلنج کا سامنا ہے۔ اتحاد امیدوار شری بھگوان شرما بھی جنگ میں آنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔

 

فتح پور سیکری مغل بادشاہ اکبر کا دارالحکومت بھی رہا ہے۔ صوفی سنت سلیم چشتی کی درگاہ بھی یہاں ہے۔ 2009 میں بی ایس پی نے یہ سیٹ جیتی۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے چودھری بابو لال نے بی ایس پی کی سیمااپادھیائے کو شکست دی۔ بی جے پی نے اس بار نئے چہرے پر داؤ لگایا ہے اس لئے بی جے پی کے سامنے اپنی سیٹ بچانے کے ساتھ ساتھ راج ببر کے سامنے اپنی قابلیت دکھا نے کا بھی چیلنج ہے۔
دوسرے مرحلے کے انتخابات میں 18 اپریل کو یہاں ووٹنگ ہونی ہے۔ کانگریس اتر پردیش میں اگرچہ کمزور ہو لیکن فتح پور سیکری میں کانگریس مضبوط پوزیشن میں ہے۔راج ببر یہاں ایس پی-بی ایس پی اتحاد پر بھی بھاری دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ اپنے فلم اسٹار بیٹے پرتیک ببر اور بیٹی جوہی ببر کی مقبولیت پر سیاسی جنگ کو اپنے حق میں کرنے کے لئے مصروف ہیں۔

Image result for raj babbar in fatehpur sikri

 

کانگریس نے 2014 میں یہاں اپنا امیدوار نہیں اتارا تھا۔ تب اتحاد میں یہ سیٹ آر ایل ڈی کے پاس چلی گئی تھی۔ کانگریس آر ایل ڈی اتحاد سے ٹھاکر امر سنگھ انتخابی میدان میں کودے تھے، لیکن وہ اہم مقابلے سے باہر ہو کر چوتھے نمبر پر کھسک گئے تھے۔ راج ببر 2014 میں غازی آباد سیٹ پر بی جے پی کے وی کے سنگھ سے ہار گئے تھے۔ اس سے پہلے وہ 1999 اور 2004 میں مسلسل دو بار آگرہ سیٹ سے جیت کر پارلیمنٹ بنے تھے۔ 2009 میں فتح پور سیکری سے ہارنے کے بعد وہ فیروز آباد کے ضمنی انتخاب میں سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کی بیوی ڈمپل یادو کو شکست دے کر پارلیمنٹ پہنچے تھے۔ اس بار پھر راج ببر جیت کی امید میں ہیں۔
راج ببر کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات آئین کو بچانے کی جنگ ہے۔ مقابلہ ان سے ہے جو آئین میں دیے غریب کے حقوق ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فتح پور سیکری میں راہل گاندھی اور پرینکا کے آنے سے انتخابی رنگ بدل گیا ہے۔ انصاف اور حق دینے کے کانگریس کے وعدے پر سب کو یقین ہے۔ جملے باز سے نجات کا وقت قریب ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *