ڈاکٹر نصر فردوسی
سونیا گاندھی اوران کے بیٹے راہل گا ندھی کی سربراہی میں پنپتی کانگریس پارٹی کے بارے میں یہ سمجھا جانے لگا تھا کہ اب کانگریس پارٹی سدھر کر ویسی ہوسکے گی جیسی آزادی سے قبل مہاتما گاندھی کی قیادت میں ہوا کرتی تھی۔ نوا کھالی، بنگال میں مہاتما گاندھی فاقہ کشی کی وجہ سے جسمانی طور پر کمزور ہو رہے تھے اور اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک بر صغیر ہند کی پوری آبادی کے لیے محبت،امن اور ہم آہنگی کا پیغام دے کر اپنے پیروکاروں کو اپنے آدرشوں پر عمل پیرا کیے ہوئے تھے اور کسی کی جرأت نہ ہو سکی کہ اِن کے ارادے کے خلاف لب کشائی کر سکے، لیکن دبی دبی چنگاریاں جا بجا تھیں، جنہیں رازداری سے کچھ لوگ ہوا دے رہے تھے اور انہی لوگوں نے ایسی چنگاریوں کا شعلہ بھڑکانے کے لیے مہاتما گاندھی کو موت کی آغوش میں ڈالا۔ شاید اسی بہانے ایسے عظیم انسان کو تاریخ کے اوراق میں لافانی اور امر بنانے کا نوشتہ بھی تھا۔مہاتما گاندھی اور اُن کے درس تو لافانی ہیں، لیکن وہ لوگ جنہوں نے دبی دبی چنگاریوں کو بھڑکایا وہ اپنے مشِن میں مسلسل مصروف رہے ہیں اور اُن کے کارنامے ملک کی آزادی کے وقت سے ہی برابر نظر آتے رہتے ہیں۔ملک کو ٹکڑوں میں بانٹا، کبھی مذہب کے نام پر،کبھی ذات کے نام پر،کبھی نسل کے نام سے اور کبھی غربت و افلاس کی بنیادوں پر۔

جب کانگریس پارٹی کی حکومت مرکز میں رہی اور تمام صوبوں میں بھی۔حتیٰ کہ بابری مسجد کی شہادت بھی نرسمہا راؤ کی قیادت والی مرکزی حکومت کے دور میں ہوئی۔اُن کی یقین دہانی کے باوجود دنیا والوں کے سامنے مسجد مسمار کر دی گئی او ر وہ مسجد کی شہادت کے بعد گھڑیالی آنسو بہا کر تیس ہزاری کورٹ بستہ لے کر دوڑتے رہے۔بھاگلپور رائٹ ہندو مسلم فسادات کی طویل فہرست میں راجیو گاندھی کے دورِ حکومت میں ہوا تھا، جس کے نتیجے میں مسلمانانِ ہند نے کانگریس پارٹی کوٹھوکریں مار دی تھیں۔ آسام کا مسئلہ بھی اسی نوعیت کا ہے، جہاں پر کانگریس پارٹی ہی بر سرِاقتدار ہے۔

مارچ، 1964 میں جمشیدپور کا زبردست فساد اس لیے برپا کیا گیا تھا تاکہ یہاں ٹاٹا کمپنیوں میں کام کر نے والے بہت سارے مسلمانوں سے شہر کو خالی کرایا جا سکے اور آرہ،بلیا،چھپرہ کے لوگوں کو روزگار دلایا جا سکے۔ 15 سال بعد اپریل، 1979 میں دوبارہ فساد کرائے گئے تاکہ مسلم آبادی کمزور پڑ جائے اور یہاں سے بھاگ کھڑی ہو۔ منصوبہ بندی کے تحت یہ دوسرا فساد بھی زبردست نوعیت کا تھا اور شہر میں درجنوں ناتھو رام گوڈسے دکھائی دیے تھے جنہوں نے جمشیدپور سے سیکولرزم، محبت،امن وشانتی جیسے نعروں کا قلع قمع کیا تھا۔حتیٰ کہ عورتوں،بچّوں اور بوڑھوں کو لے جا رہے امبولنس وین کو بھی نذر آتش کر دیا تھا،جس میں105 نفوس جل کر خاک ہو گئے تھے، لیکن بھلا ہو ٹاٹا ہائوس کے سربراہوں کا،جنہوں نے اس زبردست فساد میں مارے جانے والوں کی جگہ پر اپنی کمپنیوں میں ان کے وارثین کو ملازمت کا اعلان کیا اور سبھوں کو ملازمت ملی بھی۔ 1964 کے زمانے میں ہندوستان کے صنعتی شہروں میں بڑے بڑے فسادات برپا کیے گئے تھے، جیسے راؤرکیلا،جمشیدپور اورپھر فسادات کا لا متناہی سلسلہ ساتویں دہائی میں چلتا رہا تھا۔ ملک کے اُن حصّوں میں جہاں مسلم آبادی خوشحال زندگی گزار رہی تھی وہاں ناپاک ارادے کو بروئے کار لایا گیا تھاتاکہ ہندوستان کے مسلمان اقتصادی طور پر کھوکھلے ہوتے جائیں جس کا عکس سچّر کمیٹی رپورٹ نے دکھا بھی دیا۔ سچّر کمیٹی کانگریس دور اقتدار میں طشت از بام ہوئی، جب کانگریس پارٹی کی حکومت مرکز میں رہی اور تمام صوبوں میں بھی۔حتیٰ کہ بابری مسجد کی شہادت بھی نرسمہا رائو کی قیادت والی مرکزی حکومت کے دور میں ہوئی۔اُن کی یقین دہانی کے باوجود دنیا والوں کے سامنے مسجد مسمار کر دی گئی او ر وہ مسجد کی شہادت کے بعد گھڑیالی آنسو بہا کر تیس ہزاری کورٹ بستہ لے کر دوڑتے رہے۔بھاگلپور رائٹ ہندو مسلم فسادات کی طویل فہرست میں راجیو گاندھی کے دورِ حکومت میں ہوا تھا، جس کے نتیجے میں مسلمانانِ ہند نے کانگریس پارٹی کوٹھوکریں مار دی تھیں۔ آسام کا مسئلہ بھی اسی نوعیت کا ہے، جہاں پر کانگریس پارٹی ہی بر سرِاقتدار ہے۔
ادھر وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ پر مستفعی ہونے کا شدید دبائو ڈالا جا رہا ہے اور پارلیمنٹ ٹھپ ہے۔ ملک کا سیاسی بحران شدید سے شدید تر ہو گیا ہے۔حزبِ مخالف کے لوگ، جن کی کمان بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں ہے،کچھ سننے کو گوارا نہیں کر رہے ہیں۔وزیراعظم کی رہائش کا گھیرائو اور حفاظتی تدابیر میں آنسو گیس،لاٹھی چارج اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ مرکزی حکومت نہایت سنگین حالات سے دو چار ہو چکی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ آسام میں کانگریس پارٹی کی حکومت ایسے ہی ہاتھا پائی کا شکار ہو چکی ہے۔گگوئی حکومت کے افسران جان بوجھ کر آئے دن ہونے والی خونریزی کو قابو میں کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق5 لاکھ افراد راحت کیمپوں میں بے بسی اور فاقہ کشی کے شب و روز گزار رہے ہیں۔حتیٰ کہ شر پسند عناصر فساد زدگان کو اُن کے گھروں تک لوٹنے میں زبردست مزاحمت پیدا کر رہے ہیں۔مرکزی حکومت دہلی میں اپنے وقار اور اپنے وجود کے لیے بر سرِپیکار ہے۔ملک کی مسلم تنظیموں کے ذریعے راحت رسانی ایک مشکل مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ آسام میں مسلمانوں کی نسل کشی کی سازش میں حکومت شریک ہے، ورنہ20 جولائی سے شروع ہونے والے فسادات کو بہت پہلے روکا جا سکتا تھا۔وہاں کے وزیراعلیٰ کا بیان اطمینان دلانے کی بجائے بد اعتمادی پھیلا چکا ہے۔آج اہلِ بصیرت حضرات یہ سوچنے اور سمجھنے پر مجبور ہیں کہ کانگریس پارٹی کا سیکولر کردار سونیا گاندھی کی سربراہی میں وہ عمل پیش کرنے سے معذور ہے جس کا خواب دستورِ ہند کے معماروں نے دیکھا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here