فساد مخالف بل میں تاخیر کیوں ؟

Share Article

ڈاکٹر وسیم راشد 
ہندوستان میں فسادات کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو سب سے بھیانک فساد تقسیم کے وقت ہوا تھا جس میں اس قدر مارکاٹ ہوئی اور اس قدر جانی و مالی نقصان ہوا کہ ابھی تک جو لوگ اس فساد کے زندہ بچے ہیں یا ان کے وارثین زندہ ہیں وہ اس کی بھرپائی نہیں کر پائے ہیں۔ مکان جل گئے، جائدادیں ختم ہوگئیں، پیسہ دولت سب فساد کی نذر ہوگئے اور ملک کی تقسیم نے کروڑوں خاندانوں کو تباہ و برباد کردیا۔ اس تقسیم نے ہندوستانی مسلمانوں کو مالی طور پر اس قدر کمزور کردیا کہ وہ آج تک پنپ ہی نہیں پائے ۔ آج تک مسلمان معاشی طور پر نہ تو خود کو مضبوط کرپائے اور نہ ہی ملک کی قومی پالیسی میں اپنی جگہ بناپائے ہیں اور اس کی وجہ صرف اور صرف ان کے لئے کوئی مضبوط تحفظ کا نہ ہونا ہے۔
ملک کی آزادی کے بعد سے آج تک ہندوستان میں سب سے زیادہ کانگریس کی حکومت رہی ۔تقریباً 55 سال اور اب دس سال سے لگاتار یو پی اے کی حکومت ہے۔ لیکن آج تک بھی فساد مخالف بل پاس نہیں ہوا ہے۔ خود وزیر اعظم منموہن سنگھ ہندوستان ٹائمز کے 11ویں لیڈر شپ سمّٹ میں یہ بیان دیتے ہیں کہ فساد مخالف بل مستقبل میں مظفر نگر جیسے فساد کو کمزور کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ان کا یہبھی کہنا ہے کہ اگر فساد کو روکابھی نہ جاسکے تو فساد زدگان کو معاوضہ دینے میں یہ بل کارگر ہوگا اور یہ بھی کہ یہ مناسب وقت ہے۔
منموہن سنگھ سے کوئی یہ سوال کرے کہ آپ کو یہ بل لانے سے کس نے روکا ہے؟ دس سال سے آپ کی حکومت ہے ۔ دس سالوں میں متعدد بار فسادات ہوئے ہیں۔ ہر بار اس بل کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ مگر ہر بار اس بل پر قانون بنتے بنتے رہ جاتا ہے۔ اسی طرح اس مرتبہ بھی ہوا ہے کہ مرکزی حکومت اس بار سرمائی اجلاس میں یہ بل پاس کرنے والی تھی لیکن اب اس بل کو پھر روک دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کا کہنا ہے کہ پہلے اس بل پر تمام پارٹیوں کی رضامندی لی جائے گی تب ہی جاکر یہ بل پارلیمنٹ میں پیش ہوگا۔ یعنی پھر سے یہ بل اب ایک انجانی مدت کے لئے ٹل گیا کیونکہ اب اگر یہ بل نہیں آتا ہے تو پھر یہ امید کی جاتی ہے کہ اس حکومت کے دور میںتو یہ آنے سے رہا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر بل کا آنا مشکل ہے۔ اب جو بل میں ترمیم کرنے کی بات کی جارہی ہے اس کے مطابق اب مرکز ی حکومت ریاستوں کی سفارش کے بعد ہی کارروائی کرے گی یعنی اب اگر گجرات جیسا فساد کسی بھی ریاست میں ہوتا ہے تو جس طرح نریندر مودی نے اپنی ریاست میں مسلمانوں کی نسل کشی کرائی جس طرح بے گناہ مسلمان کاٹ ڈالے گئے۔

سونیا گاندھی نے جس طرح فوڈ سیکورٹی بل کو پاس کرانا اپنا مقصد بنا لیا تھا اگر اسی طرح وہ اس بل کو پاس کرانے کی بھی کوشش کریں تو شاید یہ بل اس سیشن میں پاس ہوجائے ورنہ تو بہت مشکل ہیکیونکہ ترامیم کے بعد کب بل آئے گا؟کب اس پر بحث ہوگی؟یہ سب بہت ہی وقت طلب چیزیں ہیں۔ مگر ایک بات ضرور ہے کہ اگر یو پی اے حکومت اس بل کو پاس کردیتی ہے تو یہ بل اس کے لئے مسلم ووٹوں کی راہ کافی حد تک کھول دے گا کیونکہ مسلمان اب تحفظ چاہتے ہیں ہرفساد میں ،جس طرح مقامی افسران اور لیڈران فسادیوں کا ساتھ دیے کر اقلیتی فرقوں کو اپنا نشانہ بناتی ہے ، شاید اس بل کی وجہ سے نجات مل جائے۔ اس لئے میری سبھی اہم مسلم تنظیموں اور ان کے رہنمائوں سے اپیل ہے کہ سب مل کر اس بل کی مانگ کریں اور اتنی شدت کے ساتھ کہ اس سرمائی اجلاس میں یہ پاس ہوجائے۔

اسی طرح دیگر ریاستوں میں مسلمانوں کو تب تک مارا کاٹا جاتا رہے گا جب تک ریاست کا دل چاہے ، مرکز ی حکومت جب ہی کارروائی کرے گی جب ریاست کی مرضی ہوگی،جبکہ اس سے پہلے اس بل میں مرکز اور ریاست دونوں کی ذمہ داری طے تھی اور اگر کوئی فساد حد سے بڑھ جاتا ہے تو مرکز کو ریاستی سرکار سے صلاح و مشورہ کیے بغیر نیم فوجی فورسیز بھیجنے کا یکطرفہ اختیار تھا۔ یہ بہت ہی اہم نکتہ تھا اس بل کا۔ اس کے ہٹنے سے مرکز کا اختیار کم اور ریاست کا اختیار بڑھ جاتا ہے اور اس سے نقصان کسی کا نہیں صرف مسلمانوں کا ہے۔ اسی لئے اس مسودہ میں پہلے تشدد کی ذمہ د اری اکثریتی فرقہ کی رکھی گئی تھی۔
میرے خیال میں اصولاً تو یہ صحیح ہے کہ ہمیشہ ہی اکثریتی فرقہ پر ذمہ داری نہ ڈالی جائے مگر جو صورت حال آسام، گجرات اور اب مظفر نگر کے فساد میں ہوئی کہ مظفر نگر سے غیر جاٹوں کو کھدیڑ دیا گیا۔ اس طرح آسام سے بوڈا مسلمانوں کو باہر کردیا گیا اور گجرات میں بھی گائوں کے گائوں جلا ڈالے گئے۔ اب جو لوگ بے در اور بے گھر ہوچکے ہیں جن کی باز آبادکاری کا کام ابھی تک نہیں ہوا ،ان کے لئے کس کو ذمہ دار مانا جائے گا۔
ہندوستان میں فرقہ وارانہ فساد کا مطلب ہمیشہ ہی ہندو مسلم فساد ہوتا ہے ۔یہ تو ایک بار ہی ہندو سکھ فساد ہوا ور نہ ہر بار ہندو مسلم فساد ہوتا ہے اور مسلمان مارے جاتے ہیں۔ ایسے میں اس بل کا یہ بہت ہی اہم حصہ ہے جو بہت ضروری تھا۔
مظفر نگر فساد سے 50 ہزار لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ لیکن ابھی ان کی باز آبادکاری کا انتظام نہیں ہوپایا ہے۔ اس کڑکتے ہوئے جاڑے میں تقریباً 40 بچوں کی موت ہوچکی ہے۔ لیکن ابھی بھی یو پی حکومت کی طرف سے ان ریلیف کیمپوں میں رہنے والوں کے لئے کوئی بھی امداد نہیں کی گئی۔
حیرت اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے سرما ئی اجلاس کے پہلے دن راجیہ سبھا میں پارلیمانی دستور کے مطابق کسی رکن پارلیمنٹ کے انتقال پر تعزیت کے بعد قدرتی آفات یا ملک اور بیرون ملک میں کچھ ہوتا ہے تو اس پر بھی اظہارِ غم اوراظہار افسوس ہوتا ہے۔ اس بار بھی پہلے دن کے اجلاس میں یہ سب کچھ ہوا۔ انگولہ اور فلپائن میں مارے گئے لوگوں کے تئیں بھی اظہار تعزیت کی گئی لیکن مظفر نگر فساد کے ہلاک شدگان پر نہ تو تعزیت ہوئی نہ ہی کوئی بحث کی گئی۔یہ ہے ہمارا جمہوری ملک اور یہ ہے ہماری جمہوری حکومت کا اصل چہرہ جہاں آئین سب کو برابری کا درجہ دیتا ہے لیکن حکومت یہ تفریق پیدا کرتی ہے ۔
اس بل کا اہم ترمیمی حصہ یہ بھی ہے کہ تشدد ہونے پر مقامی افسر کی ذمہ داری مانی جائے گی جبکہ پہلے مقامی افسر کی کوئی ذمہ داری طے نہیں تھی۔یہ ایک بہت ہی قابل تعریف ترمیم ہے جہاں بھی فساد ہوتا ہے وہاں ہم نے یہی دیکھا کہ مقامی افسر اپنی ذمہ داری قبول نہیں کرتا اور ریاستی حکومت بھی اس کو کسی بھی ذمہ داری سے اوپر رکھ دیتی ہے ۔ اب اگر یہ بل پاس ہوجاتاہے تو کم سے کم ہر افسر اس طرح کے تشدد سے مبرا نہیں رہ پائے گا۔
اب آتے ہیں اس اہم ایشو پر جس کی بنیاد پر یہ بل التوا میں ڈالا گیا ہے۔دراصل مودی اور بی جے پی کے لیڈران اس بل کی سخت مخالفت کر رہے ہیں اور وزیر اعظم کے نام خط لکھ کر انہوں نے اس بل کی سخت مخالفت کی اور اسے اسے زہر آلود بل بتایا۔اپنے خط میں انہوں نے اس بل کے موادپر بھی اعتراض کیا ہے۔ اصل میں مودی کی ریاست کو جس طرح فساد بھڑکانے میں مودی کی حمایت شامل رہی ، اس سے تو مودی کا اس بل کی مخالفت کرنا بجا ہے۔ حالانکہ وزیر اعظم نے یہ بات بھی صاف کردی ہے کہ اس بل کو لانے کے پیچھے کوئی سیاست نہیں ہے اور یہ مناسب وقت ہے مگر پھر وہی سوال کہ آخر وزیر اعظم کو کیا مشکلات درپیش ہیں۔
سونیا گاندھی نے جس طرح فوڈ سیکورٹی بل کو پاس کرانا اپنا مقصد بنا لیا تھا اگر اسی طرح وہ اس بل کو پاس کرانے کی بھی کوشش کریں تو شاید یہ بل اس سیشن میں پاس ہوجائے ورنہ تو بہت مشکل ہیکیونکہ ترامیم کے بعد کب بل آئے گا؟کب اس پر بحث ہوگی؟یہ سب بہت ہی وقت طلب چیزیں ہیں۔ مگر ایک بات ضرور ہے کہ اگر یو پی اے حکومت اس بل کو پاس کردیتی ہے تو یہ بل اس کے لئے مسلم ووٹوں کی راہ کافی حد تک کھول دے گا کیونکہ مسلمان اب تحفظ چاہتے ہیں ہرفساد میں ،جس طرح مقامی افسران اور لیڈران فسادیوں کا ساتھ دیے کر اقلیتی فرقوں کو اپنا نشانہ بناتی ہے ، شاید اس بل کی وجہ سے نجات مل جائے۔ اس لئے میری سبھی اہم مسلم تنظیموں اور ان کے رہنمائوں سے اپیل ہے کہ سب مل کر اس بل کی مانگ کریں اور اتنی شدت کے ساتھ کہ اس سرمائی اجلاس میں یہ پاس ہوجائے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *