ملک کے لئے کسان نیتی اور کسان آیوگ ضروری

Share Article

ملک کے لئے کسان نیتی اور کسان آیوگ ضروری کیا کسانوں کے خلاف سچ مچ ایک بڑی سازش ہو چکی ہے یا ہو رہی ہے؟سوال صرف اتنا ہے کہ مدھیہ پردیش سرکار کے ذریعہ نکالے گئے ایک اہم سرکاری آرڈر کو نہ اخباروں میں جگہ ملی اور نہ ہی ٹیلی ویژن میں اس کا پرچار ہوا۔ اس کی جانکاری صرف اور صرف ضلع کلکٹر کے پاس پہنچی۔ شاید مدھیہ پردیش کی سرکار اتنی طاقتور ہے کہ وہ  اپنی  کسی بھی  کرتوت  کو آسانی سے چھپا سکتی ہے۔ سرکار سوچتی ہے کہ صرف مدھیہ پردیش کے اندر ہی نہیں، بلکہ ملک کے اخباروں اور ٹیلی ویژن  میں بھی  اقتدار یا پیسے کے بل پر سچائی چھپائی جا سکتی ہے۔ اب آپ کو بتاتے ہیں کہ ہم یہ کیوں لکھ رہے ہیں؟ 19جولائی کو مدھیہ پردیش سرکار نے ایک  فرمان جاری کیا  ہے۔ گزیٹیڈ فرمان ،جس  میں ضلع کلکٹر کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی کو بھی امن خراب کرنے کے   شبہ    میں قومی سلامتی  قانون کے تحت گرفتار کر سکتے ہیں۔ یکم جولائی سے 3 مہینے تک یہفرمان  پہلے مرحلہ میں مؤثر  ہو گیا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ مدھیہ پردیش کی سرکار کو یہ  فرمان جاری کرنا پڑا؟وہاں پر کس سے امن خراب کرنے کا اندیشہ ہے؟امن خراب کرنے کا اندیشہ صرف مدھیہ پردیش کے کسانوں سے ہے، جنہوں نے وہی مانگ کی، جس کا وعدہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ان سے 2014 میں کیا تھا۔ انہوں نے آندولن شروع کیا کہ ان کے قرض معاف ہوں اور انہیں ان کی فصل کا کوسٹ پرائس سے 50 فیصد جڑ کر ادائیگی کی جائے، ان کی فصل خریدی جائے۔ اب اس مانگ کے بدلے انہیں لاٹھیاں اور گولیاں کھانی پڑی اور جیل جانا پڑا۔مدھیہ پردیش کسانوں کے لئے نیا قبر گاہ بن گیا ہے۔ ہم نے ’’چوتھی دنیا ‘‘ میں ایک سال پہلے کئی شماروں میں تفصیل کے ساتھ مدھیہ پردیش کے کسانوں کی حالت کے بارے میں لکھا تھا۔ یہ اندازہ لگایا تھا کہ وہاں پر آنے والے وقت میں کسان بڑی تعداد میں خود کشی کرسکتے ہیں۔جب ہم نے یہ رپورٹ لکھی تھی، تب تک نہ جانے کتنے کسان خود کشی کر چکے تھے۔ ہمارے نمائندہ ان کسانوں کے گھر پر گئے۔ انہوں نے کسانوں کی خود کشی کے اسباب کو جانا ،لیکن سرکار پر کوئی اثر نہیں ہوا۔

 

 

ادھر مدھیہ پردیش میں کسانوں کے آندولن کے دوران ہی کئی کسانوں نے خود کشی کی  ہیں۔ کسانوں کی مانگ اور خود کشی نے ان کے بیچ تشویش اور غصے کی لہر پیدا کر دی ہے۔ وہاں گائوں گائوں میںکسان نہ صرف مشتعل اور غصہ  ہوئے ہیں  بلکہ منظم بھی  ہوئے ہیں۔ شاید اسی لئے مدھیہ پردیش سرکار کسانوں کے اس غصے کو قومی سلامتی  قانون کے ڈنڈے سے دبانا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ضلع کلکٹر کو کسانوں کو ڈرانے کے لئے ایک جولائی سے قومی سلامتی  قانون  کے تحت  گرفتار کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ مدھیہ پردیش سرکار کو لگتا ہے کہ کسانوں کو قومی سلامتی  قانون کی بندوق دکھا کر آسانی سے خاموش کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے اس کالے قانون کو لاگو کرنے کا فیصلہ مدھیہ پردیش سرکار نے لیا اور اس کا پرچار ملک میں نہیں ہونے دیا۔ ہمارے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کسی پارٹی کے لیڈر نے اس پر بیان کیوں نہیں دیا؟میڈیا نے اس خبر کو کیوں نہیں دکھایا؟اس کے نہیں دکھانے کا سبب کسانوں کے تئیں اعتماد شکنی کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ ملک کے ان حصوں میں بھی کسان آندولن پھیل گیا ہے، یہ غصہ پھیل گیا ہے، جہاں  پر اب تک  آندولن نہیں ہوتا تھا،  مثال کے طور پر چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ کا نام لیا جاسکتا ہے۔ یہاں پر بھی کسانوں نے مایوس ہوکر خود کشی کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہندوستانی سرکار اور اس کی نیتی آیوگ کے پاس وقت ہی نہیں ہے کہ وہ کسانوں کے مسائل پر دھیان دے، چاہے وہ ان کے قرض کے مسئلے ہوں یا پھر ان کی فصل کی قیمت نہ مل پانے کا مسئلہ ہو۔ اس وجہ سے کسان مایوس ہوکر خود کشی کررہے ہیں۔ سرکار جس طرح سے قرض معافی کر رہی ہے، اس میں کسان کا سچ مچ کتنا قرض معاف ہو رہا ہے، یہ بھی جائزے کا موضوع ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کہیں کہیں پر کسان کو سود میں 7 روپے سے 28 روپے تک کی چھوٹ مل رہی ہے۔ مدھیہ پردیش سے پہلے آندھرا پردیش ، کرناٹک اورمہاراشٹر ،کسانوں کی خود کشی کے اصل  علاقے ہوا کرتے تھے۔اب اس میں مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ ، اتر پردیش اور  راجستھان  بھی جڑ گئے ہیں۔ گجرات کے کسان لیڈر ہاردک پٹیل کا کہنا ہے کہ گجرات میں سینکڑوں کسانوں نے خود کشی کی ہے جس میں بڑی تعداد پٹیل طبقہ کی ہے، اس کے باوجود ریاست کی سرکار کے کان پر نہ کوئی جوں رینگی اور نہ ہی مرکزی سرکار پر کوئی اثر ہوا۔ اب ایسا لگتا ہے کہ کسان مایوس ہو گئے ہیں۔

 

 

ان  کی پیاز، ٹماٹر اور آلو سڑ رہے ہیں، اناج کی پوری قیمت نہیں ملتی۔ ان  کے دروازے پر بینک کا نوٹس چپک جاتا ہے اور وہ اپنی سماجی وقار کے لئے خود کشی کر لیتا ہے۔ شاید اب یہ ان  کا مقدر بن چکا ہے کہ ان  کے ووٹ پر چنے گئے ایم ایل اے اور رکن پارلیمنٹ ان  کے مسائل پر کہیں بات نہیں کرتے۔ کیا وزیر اعظم اتنے بے حس ہو گئے ہیں کہ وہ اپنے وزیروں کو اس موضوع کو ترجیحی بنیاد پر لینے کا کوئی سجھائو نہیں دے رہے ہیں۔ جبکہ ہونا یہ چاہئے کہ سرکار سب سے پہلے کسانوں کے مسائل پر دھیان دے۔ ان کا پورا قرض معاف کرے۔ کسانوں کی فصل کی وہ قیمت طے کرے جس کا وعدہ وزیر اعظم نے کیا تھا۔ ساتھ ہی ملک کے ہر بلاک میں وہاں پر پیدا ہونے والی فصل کی بنیاد پر کوئی صنعت لگانے کا فیصلہ کرے۔اس کے لئے سرکار کو پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ فیصلہ کرتی ہے، تو خود کسان اپنے بلاک میں صنعت لگا سکتے ہیں، بس سرکار کی لا ل فیتا شاہی ، رشوت خوری اور بد عنوانی درمیان میں نہ آئے، لیکن سرکار ایسا کرے گی نہیں، کیونکہ اس سے مارکیٹ پر مبنی معیشت کو چوٹ پہنچتی ہے اور کسان اپنے پیروں پر نہ صرف کھڑا ہوتا ہے بلکہ خود انحصاری بھی ہوتی ہے۔ ہمارا ڈر یہ ہے کہ اگر کسانوں کا آندولن پُرتشدد ہو گیا، تو کیا پولیس اسے سنبھال پائے گی؟مدھیہ پردیش سرکار نے کسانوں کے خلاف  قومی سلامتی  قانون لگا کر پہلا قدم اٹھایا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ باقی ریاستیں بھی اس کی پیروی کریںگی تو پھر اب کسان کیا کریں؟کیا کھیتوں میں فصل بونا بند کر دیں اور صرف اتنی ہی فصل پیدا کریں، جتنی ان   کے خاندان کے لئے کافی ہے۔ تب ملک میں وہی ہوگا، جو مئی ، جون میں ممبئی میں ہوا تھا۔ کسانوں نے دودھ سمیت بہت سارے سامان ممبئی پہنچنے سے روک دیا تھا  جس سے قیمت کافی بڑھ گئی تھی ۔ کیا سرکار پورے ملک میں ایسی صورت حال پیدا کرنا چاہتی ہے؟میں صرف یہ درخواست کر رہا ہوں کہ وزیر اعظم نیتی آیوگ سے کہیں کہ وہ ایک کسان نیتی بنائے، ایک کسان آیوگ بنائے، جس کا آئینی درجہ ہو اور جس کا سیدھا رابطہ مرکزی کابینہ سے ہو۔ اگر یہ نہیں ہوگا تو کسان کی آواز کبھی سرکار کے کان تک نہیں پہنچے گی۔ ایک مزیدار واقعہ ہے کہ جتنا قرضہ صنعتکاروں کا معاف ہوا ہے اور جتنا پیسہ بینک نے صنعتکاروں کا معاف کیا ہے، اس سے بہت کم پیسے میں کسانوں کا قرض بھی معاف ہو سکتا ہے اور ان کے لئے انڈسٹری بزنس کا بندوبست بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ کتنی ستم ظریفی ہے کہ صنعتکار  بینکوں  کا پیسہ لے کر غیر ملک بھاگ جاتے ہیں اور بینک ان کے قرض کو معاف کر دیتا ہے۔ وہیں کسان دو لاکھ اور تین لاکھ روپے کے لئے اپنی جان دے دیتا ہے،پھر بھی سرکار صنعتکاروں کے حق میں کھڑی ہے، کسانوں کے حق میں نہیں۔ جبکہ سرکار کو کسانوں کے حق میں کھڑا ہونا چاہئے ۔ ابھی وقت ہے کہ سرکار کچھ کر سکتی ہے۔ سب سے پہلے مدھیہ پردیش میں کسانوں کے خلاف  قومی سلامتی  قانون واپس ہونا چاہئے اور دوسری سرکاروں کو اس طرح کے قدموں سے بچنا چاہئے۔ یہ بہت عجیب بات ہے کہ اس سرکار سے کسان اور کاروباری دونوں ہی ناراض ہیں۔ یہ ناراضگی آج سرکار نہیں سمجھ پا رہی ہے، کل جب اس کے سمجھ میں آئے گی تو ہو سکتا ہے، تب تک بہت دیر ہو چکی ہو۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *