فاربس گنج کی مسلم کشی نے گجرات کی یاد تازہ کر دی

Share Article

اشرف استھانوی

چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے ۔ یہ کہاوت سنگھ پریوار پر صادق آتی ہے ۔ چونکہ اس کی بنیادمسلم دشمنی پر قائم ہے، اس لیے سنگھ پریوار کے لوگ جہاں بھی رہیں گے مسلم دشمنی کا ثبوت دیتے ہی رہیں گے۔ اقتدار میں رہیں یا اقتدار سے باہر مسلم کشی کا ان کا مشن چلتا ہی رہتا ہے۔ اجتماعی مسلم کشی ممکن نہ ہو تو قسطوں میں ہی سہی سلسلہ جاری رہتا ہے۔ بہار کے مسلم اکثریتی ارریہ ضلع کے فاربس گنج کے بھجن پور گائوں میں گذشتہ 3 جون کو جو کچھ ہوا وہ اسی مشن کا حصہ تھا۔
نتیش کمار کی قیادت والی بہار کی این ڈی اے حکومت میں مسلم کشی کے اس تازہ واقعہ کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔ پہلے تو بہار انڈسٹریل ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (BIADA ) نے گائوں کے غریب مسلمانوں کی قیمتی زمین کو کوڑیوں کے مول یعنی محض15 ہزار روپے فی ایکڑ کی شرح پر اسمال اسکیل انڈسٹریز یعنی چھوٹی صنعتوں کے قیام کے نام پر تحویل میں لے لی، حالانکہ اس زمین کی قیمت آج15 لاکھ روپے فی ایکڑ ہے اور یہ سب علاقہ کی ترقی اور وہاں کے غریب مسلمانوں کی حالت بہتر بنانے کے نام پر ہوا ہے۔ حکومت کے دلال مسلم اور غیر مسلم رہنمائوں نے مسلمانوں کو بڑے سنہرے خواب دکھائے اور یہ بھی بتایا کہ آج تک ان کی حالت سدھارنے کی فکر کسی کو نہیں ہوئی۔ پہلی بار نیائے کے ساتھ وکاس کرنے والی نتیش حکومت کو ان کا خیال آیا ہے۔ گائوں کے غریب مسلمان پھولے نہ سمائے۔ 2010 کے اسمبلی انتخاب میں بھی 40 فیصد سے زیادہ مسلم آبادی والے ارریہ ضلع کے مسلمانوں نے جم کر این ڈی اے کو ووٹ دیا۔ ادھر انجام سے بے خبر مسلمانوں کی زمین بی جے پی ایم ایل سی اشوک کمار اگروال کو لیز پر دے دی گئی۔ بتایا گیا کہ یہاں پر ایک بڑی گلو کوز فیکٹری بنے گی۔ اس لیے وہ راستہ بھی اب ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا جس پر چل کر گائوں کے لوگ عید گاہ، کربلا، اسپتال اور بازار جایا کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ لوگوں کی پریشانی بڑھی، مسلمانوں کا وفد ایس ڈی او سے ملا اور اُن سے مؤ دبانہ درخواست کی کہ اُن سے آمد و رفت کا نصف صدی پرانا راستہ نہ چھینا جائے اور اگر یہ بہت ضروری ہے تو پہلے کوئی متبادل راستہ دیا جائے۔ مگر ایس ڈی او نے پہلے تو افسری جھاڑی اور بعدمیں حکومت کے حکم سے مجبور ہونے کی بات کہہ کر ان کی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ ادھر راستہ کے چکر میں فیکٹری کی تعمیر کے کام میں آرہی رکاوٹ سے پریشان بی جے پی ایم ایل سی اشوک اگر وال نے اپنے آقا اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی سے سرکاری مدد کی درخواست کی۔ چنانچہ سشیل مودی 29 مئی 2011 کو وہاں گئے اور انتظامیہ کو سخت ہدایت کی کہ وہ فیکٹری کے قیام میں اشوک کمار اگر وال کی ہر ممکن مدد کریں اور اگر گائوں والے رکاوٹ کھڑی کرتے ہیں تو اُن سے سختی کے ساتھ نمٹیں۔
مودی کی ہدایت کا یہ اثر ہوا کہ یکم جون2011 کو رات میں پورا گائوں تحویل میں لے لیا گیا، علاقہ پولیس چھائونی میں تبدیل ہو گیا اور پھر راتوں رات پولیس کی نگرانی میں بھجن پور والوں کا پرانا راستہ مسدود کرکے وہاں فیکٹری کے لیے دیوار کھڑی کر دی گئی جب کہ دن میں کمپنی کے افسران،انتظامیہ کے افسران اور گائوں کے مکھیا اور دوسرے لوگوں کے درمیان جو میٹنگ ہوئی تھی اس میں یہ طے پایا تھا کہ فیکٹری کے جنوبی حصہ میں گائوں والوں کو متبادل راستہ فراہم کرایا جائے گا اور گائوں والوں نے بھی اس بات کی تحریری یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر انہیں متبادل راستہ فراہم کردیا گیا تو وہ پرانے راستہ پر اپنا دعویٰ ختم کر دیں گے۔ لیکن 2 جون کی صبح جب انہیں معاہدے کا یہ حشر نظر آیا تو وہ ایک بار پھر وفد کی شکل میں ایس ڈی او کے پاس گئے اور اُن سے انصاف مانگا مگر جب وہاں سے انہیں یہی جواب ملا کہ دیوار بن گئی ہے، وہ اب نہیں ہٹے گی تو ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا کیوں کہ اس دیوار نے اُن سے ان کی زندگی کا حق چھین لیا تھا، وہ روزی روٹی کمانے اور ضرورت کے سامان خریدنے کے لیے بازار جانے یا علاج کے لیے اسپتال کا رخ کرنے کے لائق بھی نہیں رہ گئے تھے۔ یہ تو سراسر ظلم ہے۔ ان کی اپنی منتخب حکومت ان کے ساتھ ایسا ظلم کرے گی یہ تو انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ چنانچہ انہوں نے ظلم سے ٹکرانے کا فیصلہ کر لیا۔ ویسے بھی ان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ اور جمعہ 3 جون 2011 کی صبح نمودار ہوئی ۔ اس دن کے سارے اخبارات میں نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی کا یہ بیان چھپا تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ کوئی ظلم اور نا انصافی روا نہیں رکھی جائے گی، جیسا کہ انہوں نے ای ٹی وی کے سمینار میں کہا تھا۔
مسلمانوں نے پہلے تو نماز جمعہ ادا کی اور اس کے بعد چل پڑے ظلم کی دیوار گرانے۔ یہ ایک احتجاجی رویہ تھا جو ظلم کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے۔ مشتعل لوگوں نے دیوار گرادی۔ دیوار گرتے ہی پولیس کا اصلی چہرہ سامنے آگیا۔ خاکی وردی میں ملبوس درندو ں نے بے تحاشہ گولیاں برسانی شروع کردیں۔ پولیس نے فائرنگ سے پہلے کسی انتباہ کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ نہ لاٹھی چارج نہ آنسو گیس ، براہ راست فائرنگ۔ گولی فاروق انصاری کے بیٹے 18 سالہ محمد مصطفیٰ انصاری کو لگی، گولی لگتے ہی وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا۔ مگر ظالموں کو رحم نہ آیا۔ ایک جوان نے پہلے تو اس کے چہرے کو بوٹ سے کچلا اور پھر اس کے سینے پر چڑھ کر دیوانہ وار اس وقت تک اسے روندتا رہا جب تک وہ ٹھنڈا نہ ہو گیا۔ یہ منظر ٹی وی چینلوں پر پورے ملک کے عوام نے دیکھا۔ فاروق انصاری کی 36 سالہ حاملہ اہلیہ کو بھی گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ 20 سالہ مختار انصاری بھی پولس کی گولیوں کا شکار ہوا۔ صدیق انصاری کا شیر خوار بچہ نوشاد انصاری جو اس وقت اپنی ماں کی گود میں تھا، گولیوں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ اس کی ماں کو زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا مگر وہ بھی مالک حقیقی سے جا ملیں۔ اس طرح چھ زندگیاں پولیس ظلم کا شکار ہو گئیں۔ پورا بہار ہی نہیں پورے ملک کے عوام پولیس کی اس بربریت کا نظارہ دیکھ کر اور سن کر دنگ رہ گئے مگر بہار کی نتیش حکومت نے اب تک صرف معاملے کی عدالتی تحقیقاتی اور ایک شیر خوار کی موت پر 3 لاکھ معاوضہ کا اعلان کیا اور باقی مقتولین کے بارے میں وہ خاموش ہے۔ کارروائی کے نام پر صرف اس ایک جوان کے خلاف 302 کا مقدمہ ہوا ہے جس نے زخمی نوجوان کو بوٹوں سے کچل کر مار ڈالا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن کے رہنمائوں سمیت جہاں حقوق انسانی کے علم بردار اس معاملے پر چیخ چیخ کر احتجاج کر رہے ہیں اور بہار سے دہلی تک دھرنا اور مظاہرہ کرکے اپنی آواز بلند کر رہے ہیں وہیں سنگھ پریوار سے وابستہ افراد ، اس واقعہ کی مذمت کرنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔ جس بی جے پی کے لوگ بابا رام دیو کے حامیوں پر لاٹھی چارج کیے جانے سے بلبلا اٹھے تھے اور بابائے قوم مہاتما گاندھی کی سمادھی پر ہونے والے احتجاجی ستیہ گرہ کے دوران رقص بے ہنگم کرنے سے بھی نہیں چوکے تھے وہ اس معاملے پر مہر بہ لب ہیں۔ نیشنل میڈیا کا رویہ بھی انتہائی افسوسناک ہے۔ بابا کی حمایت میں آسمان سر پر اٹھانے والا میڈیا فاربس گنج کے معاملے میں بالکل خاموش ہے تو اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ معاملہ مسلمانوں کا ہے۔ ان پر اگر لاٹھی بھی چلے تو میڈیا چیخ اٹھتا ہے اورمسلمانوں پر گولیاں چلیں اور انہیں دن کے اجالے میں بوٹوں سے روند کر مار ڈالا جائے تو کسی کے کان میں جوں تک نہیں رینگتی۔ بی جے پی کی شراکت والی نتیش حکومت کا رویہ بھی انتہائی جانبدارانہ اور غیر مساویانہ ہے۔ ریلوے کے کھلے پھاٹک پر ٹرین اور جیپ کی ٹکر میں لوگ ہلاک ہو جائیں تو ریلوے سے پہلے وزیر اعلیٰ نتیش کمار معاوضہ کی سوغات لے کر دوڑ پڑتے ہیں مگر غریب مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جائیں ، ان کا حق چھینا جائے، انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا جائے تو جانچ کا بہانہ بنا کر معاوضہ کا اعلان تک نہیں کر پاتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ حکومت کا کوئی نمائندہ وزیر یا حکمراں پارٹی کا کوئی ایم ایل اے تک جائے حادثہ پر متاثرین کے آنسو پونچھنے کے لیے آج تک نہیں پہنچا۔ زبانی اظہار ہمدردی کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی ہے۔ بی جے پی کے سنیئر رہنما اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی کا اخباری بیان صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ معاملے کی جانچ کرائی جائے گی او رجو قصور وار ثابت ہوگا اسے سزا ملے گی، مگر اس المناک واقعہ کی وہ مذمت تک نہیں کر پاتے ہیں۔ ایسے میں پولیس کا سینہ چوڑا نہ ہوگا اور حوصلہ بلند نہ ہوگا تو اور کیا ہوگا۔ پولیس کا غیر انسانی چہرہ تو اکثر نظر آجاتا ہے مگر اس کا مسلم مخالف چہرہ عموماً تب نظر آتا ہے جب اسے حکومت کی درپردہ حمایت حاصل ہوتی ہے۔ پھر چاہے وہ فاربس گنج ہو یا بھاگلپور ہو، یا گجرات، حکومت کی سرپرستی سے ہی پولیس مسلم دشمنی کا کھل کر مظاہرہ کر پاتی ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ روایتی اپوزیشن رہنمائوں کے علاوہ مہیش بھٹ اور شبنم ہاشمی جیسے لوگ بھی فاربس گنج کا دورہ کرنے کے بعد یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ فاربس گنج میں پولیس کا جو مسلم دشمن چہرہ نظر آیا اس نے گجرات کی یاد تازہ کردی۔ اگر بہار اسی راہ پر چلتا رہا تو اسے گجرات بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ بہار کو گجرات کی دوسری تجربہ گاہ بننے سے کوئی نہیں روک پائے گا۔ پولیس کی وردی میں ملبوس جوان بے ہوش نوجوان پر کود رہا ہے، اسے اپنے بوٹوں سے روند رہا ہے اور اس کے دوسرے ساتھی اس کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ ایک ہندوستانی شہری کے ساتھ ایسا سلوک کیسے روا رکھا جا سکتا ہے۔ اتنی نفرت کیوں اور کہاں سے آگئی۔ کیا وہ کوئی غیر ملکی دشمن یا حملہ آور تھا؟ جس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جائے اور ارباب حکومت اس کی مذمت تک نہ کریں؟
یہ اور اس نوعیت کے بہت سارے سوالات ہیں جن کا حکومت بہار کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی پر تو اس معاملے کو ہوا دینے کا سیدھا الزام ہے، وہ کیا جواب دیں گے ۔ جنتا دل یو سے تعلق رکھنے والے اور سیکولر بننے کی فکر میں نریندر مودی کا ہاتھ جھٹکنے والے نتیش کمار کے پاس بھی اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے کہ گوپال گنج جیل میں ڈاکٹر کے قتل کی جانچ تو وہ سی بی آئی کو سونپتے ہیں مگر اسی وقت وہ فاربس گنج معاملے کی جانچ کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام کی بات کیوں کررہے ہیں۔ کیا فاربس گنج کا معاملہ گوپال گنج سے کم سنگین ہے؟ جب کہ اسی ضلع میں 6 ماہ قبل بھی اسی نوعیت کا مسلم کش رویہ پولیس کے سامنے آچکا ہے۔ ایس ایس بی کے جوانوں نے پہلے مسلم عورتوں کو ہوس کا شکار بنایا اور جب احتجاج ہوا تو اندھا دھند فائرنگ کرکے 4 مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس وقت بھی مسلمانوں کے ہمدرد این ڈی اے کے رہنما اور ان کے ہم نوا میڈیا کے منہ پر تالا لگا دیا گیا۔
نتیش اور مودی بار بار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی حکومت میں کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔ کسی حد تک یہ بات صحیح بھی ہے، بے شک کوئی بڑا فسادنہیں ہوا لیکن قسطوں میں مسلم دشمنی ہوتی رہی۔ ارر یہ ضلع کے مذکورہ بالا دونوں واقعات کے علاوہ ویشالی ضلع کے چک مجاہد گائوں کے مسلمانوں کو گئو کشی کے نام پر دہشت میں مبتلا کرکے گائوں چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ سیتا مڑھی کے جندیہا گائوں میں زیر تعمیر مسجد منہدم کر دی گئی،مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ سیتا مڑھی کے ہی کپرول گائوں میں مدرسہ نذر آتش کر دیا گیا ، دربھنگہ کے تارا لاہی گائوں میں ہولی کے موقع پر مسلمانوں کی دکانیں جلادی گئیں ، گوپال گنج کے برولی گائوں میں مدرسہ پرحملہ ہوا، قرآن مقدس کے نسخے نذر آتش کر دیے گئے، سہسرام میںحافظ مسعود کی لاش کو قبر سے نکال کر اس کی بے حرمتی کی گئی۔ داڑھی نوچ لی گئی۔ کفن تار تار کر دیا گیا مگر ایف آئی آر کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ فرقہ پرست آج بھی آزاد ہو کر دندناتے پھر رہے ہیں۔ سہسرام میں ہی سیف الدین انصاری کا مکان منہدم کرکے مندر تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی اور ایک مولوی صاحب کے منہ میں شرپسندوں نے پیشاب کر دیا ، مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ کیمور ضلع کے ادا گائوں میں تین غریب مسلمانوں کو درخت سے باندھ کر اتنا پیٹا گیا کہ وہ اپاہج ہو گئے،یہ اور اس طرح کے درجنوں مسلم دشمنی کے واقعات حکومت کے دعووں کا منہ چڑا رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *