فرضی انکائونٹر: قصوروار پولس والوں کو پھانسی ہو

Share Article

ڈا کٹر قمر تبریز
ابھی حال ہی میں راجستھان میں دارا سنگھ کے فرضی انکاؤنٹر کے معاملہ میں ملک کی عدالت عظمیٰ، سپریم کورٹ نے بڑے سخت لہجے کا استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرضی انکاؤنٹر میں ملوث پولس والوں کو پھانسی پر لٹکا دیا جانا چاہیے۔ دارا سنگھ ایک مبینہ ڈاکو تھا، جسے راجستھان کی پولس نے 23 اکتوبر، 2006 کو ایک فرضی انکاؤنٹر کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ گزشتہ 8 اگست کو اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس مارکنڈے کاٹجو اور جسٹس چندرمولی کمار پرساد کی سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے واضح الفاظ میں کہا کہ پولس کو قانون کا محافظ تصور کیا جاتا ہے اور ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ لوگوں کی جان کی حفاظت کریں گے، نہ کہ انہیں اس صفحہ ہستی سے مٹانے کا۔ قابل ججوں نے یہ بھی کہا کہ ’’پولس کے ذریعے کیا جانے والا فرضی انکاؤنٹر بے رحمانہ قتل کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، جسے rarest of rare جرم مانا جائے گا اور اس کے لیے قصوروار پولس والوں کو موت کی سزا دی جانی چاہیے، انہیں پھانسی پر لٹکا دیا جانا چاہیے۔‘‘ سپریم کورٹ نے دارا سنگھ کے فرضی انکاؤنٹر کے معاملہ میں ملوث راجستھان کے دو آئی پی ایس آفیسرس – ایڈیشنل ڈی جی پی اروِند جین اور ایس پی ارشد کو وارننگ دی ہے کہ وہ یا تو سرنڈر کردیں یا پھر سی بی آئی کے ذریعے اپنی گرفتاری کا انتظار کریں۔
عدالت عظمیٰ کا یہ تبصرہ پولس والوں کے منھ پر نہ صرف ایک بڑا طمانچہ ہے بلکہ ان کے لیے ایک سبق بھی ہے۔ پولس والے آخر سدھرنے کا نام کیوں نہیں لیتے؟ کیوں وہ نہیں چاہتے کہ لوگوں کے منھ سے انہیں دیکھ کر گالیاں نہ نکلیں، بلکہ ان کی بھی اسی طرح عزت کی جائے، جس طرح ملک کے فوجیوں کی کی جاتی ہے؟ یہ ساری چیزیں تبھی ممکن ہیں، جب پولس اپنے رویہ میں ایمانداری سے تبدیلی لائے۔ وہ لوگوں کے اندر یہ اعتماد پیدا کرے کہ پولس واقعی لوگوں کی ہمدرد ہے، دکھ درد میں اور مشکل کی گھڑی میں ان کے کام آسکتی ہے۔ ملک کے اعلیٰ طبقہ سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے آدمی تک سے اگر پولس کے بارے میں ان کی ذاتی رائے جاننے کی کوشش کی جائے، تو سب کا جواب پولس کے تئیں نفرت بھرا ہی ہوگا۔ شاید ہی کوئی ایسا آدمی ہو جو کسی پولس والے کی تعریف کرے۔ اور پھر ایسے میں پولس کے ذریعے انجام دیے جانے والے فرضی انکاؤنٹر کے معاملوںنے تو گویا جلتے میں گھی کا کام کیا ہے۔ ان فرضی انکاؤنٹرس میں نہ صرف بدمعاشوں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کی جانیں گئی ہیں، بلکہ ملک کے بہت سے معصوم شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ سیکڑوں فرضی انکاؤنٹرس کو انجام دینے کے بعد بعض پولس والے خود کو ’’انکاؤنٹر اسپیشلسٹ‘‘ کہلانا زیادہ پسند کرتے ہیں، پسند ہی نہیں کرتے بلکہ اس لقب کو یوں سمجھتے ہیں جیسے انہیں کوئی بڑا تمغہ مل گیا ہو، جیسے انہیں فوجیوں کی طرح ہی ’ویر چکر‘ حاصل ہوگیا ہو۔پولس کی ذہنیت جب یہ ہوگی، برے کام کو انجام دینے کے بعد اسے ندامت نہیں بلکہ اس پر اسے فخر ہوگا، تو پھر بھلا فرضی انکاؤنٹر پر کیسے قابو پایا جاسکتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ سپریم کورٹ نے پولس کے ذریعے انجام دیے جانے والے فرضی انکاؤنٹر کے بارے میں پہلی بار اس قسم کے سخت لہجے کا استعمال کیا ہو۔ ملک کی عدالتیں ماضی میں بھی پولس کو اس معاملے میں لتاڑ چکی ہیں۔ لیکن پولس اتنی سخت جان ہے کہ اس پر کچھ فرق ہی نہیں پڑتا۔دراصل، اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پولس بعض معاملوں میں عدالت کا سامنا نہیں کرنا چاہتی۔ اسے جب یہ احساس ہو جاتا ہے کہ فلاں سرغنہ، ڈکیت، یا خونخوار مجرم کے معاملہ میں عدالتی کارروائی طویل مدتی ہو سکتی ہے، شاید وہ مجرم عدالت کے ذریعے بری بھی ہو جائے، تو وہ پھر فرضی انکاؤنٹر کے کارنامے کو انجام دیتی ہے۔ ملک کی عدالتوں اور قانون سازوں کو اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ چندن کی لکڑی اور ہاتھی دانت کے ملک کے سب سے بڑے اسمگلر، ویرپن کے مبینہ انکاؤنٹر کے معاملے میں بھی شاید پولس کی یہی ذہنیت کارفرما تھی۔ ان معاملوں میں بعض مقام ایسا بھی آیا ہے، جب ملک کے لوگوں کی عام رائے بھی کچھ ایسی ہی بنتی دکھائی دیتی ہے کہ فلاں مجرم کو کب تک جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بند رکھا جائے گا، کب تک عدالتوں میں اس کے خلاف گواہوں اور ثبوتوں کو پیش کرنے کی کارروائی چلتی رہے گی، جب کہ سیکڑوں آنکھوں نے اسے جرم کرتے دیکھا ہے اور وہ واقعی ایک بڑا مجرم ہے۔ لوگوں کی اس عام رائے سے بھی بعض دفعہ پولس متاثر ہوتی دکھائی دیتی ہے، اور شاید ماضی میں اس نے بعض انکاؤنٹرس کو انہی حالات کے پیش نظر انجام دیا ہو۔ 2008 کے ممبئی حملے کے پاکستانی دہشت گرد، اجمل عامر قصاب کے معاملہ کو اس کی تازہ مثال کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
لیکن ، پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر پولس کو اس قسم کی آزادی دے دی جائے، تو کیا یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ وہ ہر انکاؤنٹر میں صرف خطرناک مجرموں کو ہی ہلاک کرے گی؟ شاید نہیں، کیوں کہ ہمارے سامنے ایسی بھی بہت سی مثالیں ہیں، جن میں پولس کے ہاتھوں بے گناہوں کا قتل کیا گیا ہے۔ پولس کو اگر یہ آزادی دے دی جائے، تو پھر ملک کے اندر عدالتوں کے وجود کا بھی کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ لہٰذا، یہ بات حتمی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ پولس کو ہرحال میں قانون کی حفاظت کرنی ہوگی، عدالتوں کی باتیں ماننی ہوں گی، ملک کے شہریوں کی حفاظت کرنی ہوگی، خود سے انصاف کرنے کی ذہنیت کو اپنے من سے نکالنا ہوگا، تب کہیں جاکر ملک کے شہریوں کی حفاظت کی گارنٹی دی جا سکتی ہے۔
یہ بھی محض اتفاق ہے کہ جس دن نئی دہلی میں، سپریم کورٹ کا فرضی انکاؤنٹر کے معاملے میں، مذکورہ بالا بیان سامنے آرہا تھا، ٹھیک اسی دن ریاست جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع کے سورن کوٹ سیکٹر میں دو اسپیشل پولس آفیسر کے ذریعے فرضی انکاؤنٹر کا ایک اور کھیل کھیلا جا رہا تھا۔ ٹیری ٹوریل آرمی کی 156 ویں بٹالین کے دو پولس آفیسر، نور حسین اور عبد المجید نے کشمیر کے ایک معصوم نوجوان ابو عثمان کو ایک فرضی مڈبھیڑ میں مار گرایا، اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے لشکر طیبہ کے ڈویژنل کمانڈر کو ہلاک کر دیا ہے۔ بعد میں جب اس معاملہ نے طول پکڑا تو ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت بھی حرکت میں آئی۔ وزیر دفاع اے کے انٹونی نے آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کو حکم دیا کہ وہ خود موقع واردات پر جاکر معاملہ کی تفتیش کریں اور پورے معاملے کی رپورٹ انہیں سونپیں۔
ہندوستان میں فرضی انکاؤنٹر کی شروعات
ہندوستان میں پولس انکاؤنٹر کی شروعات 1990 کے وسط میں ممبئی میں ہوئی، جس کا سلسلہ 2000 کے وسط تک چلتا رہا۔ اس دوران سیکڑوں ’فرضی انکاؤنٹر‘ کو انجام دیا گیا اور انہیں انجام دینے والے پولس افسران کو ’انکاؤنٹر اسپیشلسٹ‘ کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔  پولس کا دراصل یہ ماننا تھا کہ ’انکاؤنٹر‘ کے ذریعے وہ انصاف کے عمل میں تیزی لا رہی ہے، اس لیے اسے ان ’فرضی انکاؤنٹرس‘ کو انجام دینے میں کچھ بھی برا نہیں لگتا تھا۔ حالانکہ بعد میں اس سوچ میں منفی پہلو کی شمولیت زیادہ ہوتی چلی گئی۔ ممبئی کو چونکہ، انڈر ورلڈ کا گڑھ مانا جاتا ہے، لہٰذا بعد میں کچھ ایسے واقعات بھی سامنے آئے کہ انڈر ورلڈ کے سرغنہ نے کچھ پولس افسران کو پیسے دے کر اپنے کسی حریف کا ’فرضی انکاؤنٹر‘ میں قتل کرا دیا۔ یہ واقعات جب عدالت کے سامنے آئے، تو عدالت نے بھی اپنے تبصروں میں یہی کہا کہ پولس اب عوام کی محافظ نہ ہو کر، ایک پیشہ ور قاتل بن چکی ہے۔ اس ضمن میں ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔
اسی طرح 1984 سے 1995 کے درمیان پنجاب میں دہشت گردی جس وقت عروج پر تھی، اس وقت بھی پولس نے ’انکاؤنٹر‘ کے نام پر سیکڑوں بے گناہوں کا قتل عام کیا۔ یہی صورت حال گزشتہ چند برسوں سے جموں و کشمیر میں بھی ہے، لیکن چونکہ وہاں پر فوج اور سیکورٹی اہل کاروں کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں، اس لیے فرضی تصادم کے واقعات میں ملوث فوجیوں یا پولس والوں کے خلاف کوئی سخت سزا کا التزام نہیں ہے۔
فرضی انکاؤنٹر کے پیچھے کارفرما پولس کی ذہنیت
فرضی انکاؤنٹر کو انجام دینے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پولس محکمہ کو اسپیشل سیل، ایس ٹی ایف، ایس آئی ٹی وغیرہ جیسی اپنی بعض مخصوص شاخوں کے وجود کو برقرار رکھنے، پھر ان کے لیے سرکار کی طرف سے مختص مراعات کو حاصل کرنے، میڈیا میں اپنے نام و نمود اور جھوٹی شان کو برقرار رکھنے، اپنی بہادری کی دکان چلانے کے لیے بھی ایسے فرضی انکاؤنٹر کو انجام دینا پڑتا ہے۔ فوج کے تعلق سے بھی ایسے کچھ معاملے سامنے آ چکے ہیں، جن میں فوج کے چند جوانوں یا افسروں نے حکومت ہند سے تمغہ حاصل کرنے یا پھر پروموشن حاصل کرنے کے لیے معصوموں کی جانیں لی ہیں اور میڈیا اور دیگر ذرائع سے ملک کو ورغلایا ہے کہ انہوں نے فلاں علاقے میں، لشکر طیبہ یا اس جیسی کسی دوسری دہشت گرد تنظیم کے کسی خاص آدمی یا کمانڈر کو مڈبھیڑ میں مار گرایا ہے۔ اوپر کی سطروں میں پونچھ میں فرضی انکاؤنٹر کے جس تازہ واقعہ کا ذکر کیا گیا، وہ ان جیسی سیکڑوں مثالوں میں سے ایک ہے۔
کیسے کھیلا جاتا ہے فرضی انکاؤنٹر کا کھیل
عام طور پر پولس کو جب ایک طویل عرصے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ میڈیا میں اس کی چرچا نہیں ہو رہی ہے، سیاسی لیڈروں کی طرف سے ان پر لعن طعن کی جا رہی ہے یا پھر پولس پر کوئی بڑا سوالیہ نشان لگایا جا رہا ہے، تو ایسے میں وہ کسی بڑے انکاؤنٹر کو انجام دیتی ہے۔ اس کے لیے ایک بڑا اسٹیج تیار کیا جاتا ہے، پولس افسران کے ذریعے پوری کہانی پہلے سے تیار کر لی جاتی ہے، جس میں کسی طرح کی کوئی جھول نہ ہو او رپھر میڈیا کو اس کے بارے میں مطلع کر دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ سب ہوتا کیسے ہے، آئیے پہلے اسے دیکھتے ہیں۔
پولس کے اسپیشل سیل کا کام کرنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ معمولی تنخواہ پر چند پرائیویٹ لڑکوں کو بطور مخبر اپنے ساتھ جوڑ لیتے ہیں، پھر انہیں موبائل فون اور سیکورٹی فراہم کرتے ہیں۔ ان لڑکوں کو مختلف علاقوں میں کرایہ پر کمرہ دلاکر وہاں رہنے کو کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد پولس کے یہ مخبران علاقوں کے بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ گھل مل کر ان سے دوستی بڑھاتے ہیں، پھر ایک گروپ تیار کرکے فرضی ڈکیتی کو انجام دینے کا پلان بنایا جاتا ہے۔ اس کے لیے پولس انہیں علاقائی سطح پر بننے اور آسانی سے دستیاب ہونے والے ہتھیار بھی فراہم کر دیتی ہے۔ اس کے بعد پولس کے یہ مخبر نوجوانوں کے اس گروپ کو چوری کی ہوئی کوئی گاڑی فراہم کر دیتے ہیں، جس پر سوار ہو کر یہ گروپ اس مبینہ ڈکیتی کو انجام دینے کے لیے روانہ ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ نوجوان جب وہاں پہنچتے ہیں تو اچانک پہلے سے وہاں تعینات پولس کا سامنا ان سے ہوتا ہے، مڈ بھیڑ ہوتی ہے اور یہ نوجوان مارے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ جانے والے پولس کے مخبر وہاں سے کسی طرح بھاگنے میں ہمیشہ کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد میڈیا والوں کو بلا کر اس کی پوری تشہیر کی جاتی ہے کہ فلاں جگہ کی پولس نے ایک بڑے بدمعاش کو مڈبھیڑ کے دوران مار گرایا ہے۔ اگر ان بچوں کے والدین کسی غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، تو پولس یا تو انہیں ڈرا دھمکاکر خاموش کردیتی ہے کہ اگر انہوں نے منھ کھولا تو ان کا بھی انکاؤنٹر کر دیا جائے گا، یا پھر اگر پولس کو یہ لگا کہ اس کی اس کالی کرتوت کا پردہ فاش ہو سکتا ہے تو پیسے دے کر بھی متاثرین کے ورثا کا منھ بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان معاملات کی حقیقت ہمارے سامنے تب آتی ہے جب اس فرضی انکاؤنٹر میں کسی بارسوخ یا پیسے والے آدمی کے گھر کا کوئی فرد ہلاک ہوا ہو، اور پھر اس نے پولس کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کردیا ہو۔
عام طور پر ’انکاؤنٹر‘ کے بعد پولس کے خلاف یہ شکایت بھی درج کرائی جاتی رہی ہے کہ اگر کوئی شخص پولس کی حراست میں تھا، اور وہ کسی جیل میں بند تھا، تو ایسے میں بھلا اُس شخص کا انکاؤنٹر کیسے کیا جاسکتا ہے۔ اس کے جواب میں پولس عدالت کے سامنے اب تک یہی دلیل دیتی آئی ہے کہ چونکہ وہ آدمی یا مجرم جیل کی سلاخوں کو توڑ کر بھاگ رہا تھا، اس لیے پولس نے اسے گولی ماردی، یا پھر پولس جس وقت انہیں ہتھکڑی پہنا کر عدالت لے جا رہی تھی، تبھی اس نے بیچ راستے میں بھاگنے کی کوشش کی اور اس طرح فرار ہوتے ہوئے وہ شخص یا مجرم مارا گیا۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ پولس انکاؤنٹر کے لیے کسی دور دراز اور سنسان علاقے کا انتخاب پہلے ہی کر لیتی ہے، اور پھر اس شخص کو وہاں لے کر مار دیا جاتا ہے۔ انکاؤنٹر کے زیادہ تر معاملوں میں پولس نے مارے گئے شخص کی لاش کے ساتھ ہی کوئی ریوالور یا بندوق رکھ دی، اور عدالت کو بتایا کہ اس نے چونکہ پولس کے قافلہ پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں مڈبھیڑ ہوئی اور اس طرح وہ شخص مارا گیا۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اس قسم کے زیادہ تر معاملوں میں پولس والے صاف بچ کر نکل گئے اور عدالت میں ان کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہو سکا۔اس ضمن میں پولس انسپکٹر پردیپ شرما، سب انسپکٹر دیا نائک، انسپکٹر پرفل بھونسلے، اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) رویندر آگرے، اسسٹنٹ انسپکٹر آف پولس سچن ہندو رائے وازے، پولس انسپکٹر وجے سالسکر اور انسپکٹر موہن چند شرما وغیرہ کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں سے کچھ یا تو پولس افسران کی آپسی رنجش کا شکار ہوئے، یا پھر کسی دہشت گردانہ واقعے میں مارے گئے۔ یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے کہ پولس کے کسی نامی گرامی ’انکاؤنٹر اسپیشلسٹ‘ کو اس کے ہی کسی جونیئر افسر نے کسی بڑے حادثہ کے دوران گولی مار کر ہلاک کردیا، تاکہ وہ خود شہرت و عزت کے ساتھ ساتھ پروموشن حاصل کر سکے۔ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں مارے گئے انسپکٹر موہن چند شرما کی ہلاکت کو لے کر بعض حلقوں کی طرف سے اس قسم کے الزام عائد کیے جا چکے ہیں۔  g
سال 2011-2008 کے دوران متعدد ریاستوں میں ہونے والے فرضی انکاؤنٹر
  نمبرشمار             ریاست    کل انکاؤنٹر
.1                          اتر پردیش           120
.2                                منی پور             61
.3                        مغربی بنگال            23
.4                           تمل ناڈو              15
.5                      مدھیہ پردیش           15
.6                    جموں و کشمیر          14
.7                           جھارکھنڈ           13
.8                            اڑیسہ              12
.9                       چھتیس گڑھ          11
.10                     دہلی                      6

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *