جعلی اکاؤنٹس کیس: پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری کو گرفتار

Share Article

 

 

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جعلی بینک اکاؤنٹس کے کیس میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد نیب نے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی بہن فریال تالپور کی بھی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

 

نیب کے ترجمان بلال پنو کے مطابق آصف زرداری کی گرفتاری کے متعلق قومی اسمبلی کے سپیکر کو مطلع کر دیا گیا ہے اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو بھی طبی معائنے کے لیے بلایا گیا ہے۔ نیب کے مطابق ملزم کو جسمانی ریمانڈ کے لیے منگل کو احتساب عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کارکنوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے تاہم مختلف شہروں سے مظاہروں کی اطلاعات ہیں اور کراچی میں پریس کلب کے باہر لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوگئی ہے۔خیال رہے کہ سابق صدر 28 مارچ سے لے کر اب تک عبوری ضمانت پر تھے جس میں پانچ مرتبہ توسیع کی گئی۔

 

اس سے پہلے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پیر کو سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر اور وکیلِ صفائی فاروق ایچ نائیک کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوران فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس کیس میں چیئرمین نیب کے پاس وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اختیار نہیں لیکن پھر بھی انھوں نے ایسا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں نیب کی بدنیتی بھی سامنے آئی۔فاروق نائیک کے مطابق وارنٹ انکوائری یا انویسٹیگیشن کے دوران جاری کیا جاتا ہے جبکہ اس کیس کا عبوری ریفرنس تو احتساب عدالت میں آ چکا ہے۔

 

انھوں نے سوال اٹھایا کہ جب معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے تو اس مرحلے پر کیا چیئرمین نیب وارنٹ جاری کر سکتے ہیں؟جب انھوں نے کہا کہ متعلقہ عدالت کے جج کا اختیار ہے کہ وہ وارنٹ جاری کر سکتا ہے تو جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا کے آیا ٹرائل کورٹ نے مچلکے منظور کر لیے ہیں؟ اس کے جواب میں فاروق نائیک نے کہا کہ متعلقہ ٹرائل کورٹ مچلکے منظور کر کے حاضری یقینی بنانے کا حکم دے چکی ہے۔فاروق نائیک نے اپنے دلائل میں کہا کہ نیب پراسیکیوٹر نے فرنٹ کمپنیوں کا ذکر کیا، اس کیس میں کوئی فرنٹ کمپنی نہیں ہے۔یہ کیس تو احتساب عدالت میں زیر سماعت ہیاور اس معاملے میں سارا الزام کچھ بینک ملازمین پر ہے۔

 

ان کے مطابق اومنی گروپ کے اس اکاؤنٹ سے آصف زرداری کا کوئی تعلق نہیں جس سے ڈیڑھ کروڑ روپے آنے کا الزام ہے۔ ان کا کہنا تھا ’آصف زرداری پر ایسا کوئی الزام نہیں کہ انھوں نے کسی اکاونٹ کو کھولنے میں معاونت کی ہو اور جعلی اکاونٹ کھولنے کی حد تک آصف زرداری ملزم نہیں۔انھوں نے نیب کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر سمیت تمام دستاویزات میں لکھا ہے کہ اکاؤنٹس اومنی گروپ نے کھولے اور کہیں بھی آصف زرداری کا نام نہیں آیا۔انھوں نے پوچھا کہ بنک ریکارڈ پر آنے والی رقوم کی منتقلی خفیہ کیسے قرار دی جا سکتی ہے؟ ’اویس مظفر آصف زرداری کے منھ بولے بھائی ہیں۔ بھائی کو بینکنگ چینل سے بھیجی گئی رقم خفیہ یا غیرقانونی کیسے ہوسکتی ہے؟‘

 

اس سے قبل نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ نیب کے پاس تفتیش کے لیے ملزم کی گرفتاری کا مکمل اختیار ہے، جو کہ طلعت اسحاق کیس میں سپریم کورٹ نے نیب کو دیا تھا۔اس پر جب جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ تمام اختیارات تو ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے ہیں تو نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے غیرمعمولی حالات اور ہارڈ شپ کا سہارا لیا جاسکتا ہے، جبکہ آصف زرداری نے ایسا نہیں کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *