ای وی ایم تبدیل کرنے کی افواہ پر الیکشن کمیشن کی وضاحت

Share Article

evm

لکھنؤ: اتر پردیش میں غازی پور، مؤ، چندولی اور جھانسی سمیت کئی مقامات سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں (ای وی ایم) کو تبدیل کرنے کی افواہ پر الیکشن کمیشن نے وضاحت پیش کی ہے کہ ای وی ایم محفوظ ہیں۔ ہر جگہ اسٹرانگ روم کے اندر اور باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ریاست کے چیف الیکشن افسر ایل ایل وینکٹیشورلو نے منگل کو بتایا کہ سوشل میڈیا اور کچھ الیکٹرانک چینل میں کچھ عرصے سے ای وی ایم کو تبدیل کرنے کی افواہ چل رہی ہے۔ اس کی بنیاد پر کچھ سیاسی جماعتیں اور امیدوار بھی ای وی ایم میں دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں۔

چیف الیکشن افسر نے بتایا کہ انہی افواہوں کے چلتے مؤ، غازی پور، چندولی اور ڈومریا گنج سمیت پوروانچل کے کئی مقامات پر کل رات بھر افراتفری کا ماحول رہا۔ مؤمیں تو دیر رات ای وی ایم اسٹرانگ روم کے باہر بھاری بھیڑ جمع ہو گئی۔مسٹر لو نے کہا کہ معاملہ نوٹس میں آنے پر کئی مقامات پر ای وی ایم کی دھاندلی کی شکایات کی تحقیقات کی گئی اور پتہ چلا ہے کہ وہ اسٹرانگ روم میں مکمل طور محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولنگ کے دوران جو اضافی ای وی ایم رکھے جاتے ہیں، انہی کو لے کر یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ووٹنگ میں استعمال کئے جانے والے ای وی ایم کو ہر پولنگ بوتھ پر ہی ویڈیوگرافی کے دوران امیدواروں اور ان کے نمائندوں کے سامنے ٹھیک سے سیل کر دیا گیا تھا۔ کہیں کوئی دقت نہیں ہے۔ ساتھ ہی ای وی ایم کو جس اسٹرانگ روم میں رکھا گیا ہے، وہاں بھی سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ ہر جگہ سی سی ٹی وی لگے ہوئے ہیں، وہاں سیکورٹی کے لئے سی آر پی ایف کے جوان تعینات ہیں۔چیف الیکشن افسر نے یہ بھی بتایا کہ ای وی ایم اسٹرانگ روم پر نظر رکھنے کے لئے امیدواروں کو بھی ہر جگہ ایک نمائندے رکھنے کی اجازت ہے۔ یہ نمائندے وہاں رہ کر 24 گھنٹے نگرانی کر سکتے ہیں۔غور طلب ہے کہ ووٹنگ ختم ہونے کے بعد ہی اتر پردیش میں کئی مقامات سے ای وی ایم میں دھاندلی کے الزامات لگ رہے ہیں۔کئی سیاسی جماعتوں نے اسٹرانگ روم کی حفاظت پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *