امریکہ کا بحرالکاہل میں ممنوعہ بیلسٹک میزائل کا تجربہ

Share Article

پینٹاگون نے امریکہ اور روس کے درمیان ہوئے ایک معاہدے میں ممنوعہ قرار دیے گئے میزائل کا تجربہ کرلیا۔مذکورہ معاہدہ گزشتہ برس ختم کردیا گیا تھا، اس پر اسلحے کی روک تھام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیسٹ سے ماسکو کے ساتھ اسلحے کی غیر ضروری جنگ شروع ہونے کا خطرہ ہے۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق پروٹو ٹائپ میزائل کو غیر جوہری وار ہیڈ سے لیس کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔تاہم پینٹاگون نے اس کی مزید خاصیت بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میزائل کو کیلیفورنیا میں موجود وینڈن برگ ایئر بیس کے اسٹیٹک لانچ اسٹینڈ سے لانچ کیا گیا جو کھلے سمندر میں گرا۔اس ضمن میں محکمہ دفاع کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ بیلسٹک میزائل نے 500 میل سے زائد کی پرواز کی۔

مذکورہ ٹیسٹ ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب اسلحے کے کنٹرول کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس ضمن میں امریکہ اور روس کے مابین ہونے والی نیو اسٹارٹ ٹریٹی 2010 فروری 2021 میں ختم ہوجائے گی جس کی شرائط پر مزید مذاکرات کیے بغیر اسے مزید 5 سال کے لیے توسیع دی جاسکتی ہے تاہم اس حوالے سے امریکی حکومت کی جانب سے عدم دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔دوسری جانب پینٹاگون نے میزائل کی زیادہ سے زیادہ رینج بتانے سے بھی انکار کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *