اجودھیا معاملہ: رام جنم بھومی پنرودھار کمیٹی کا دعویٰ، تین گنبد والی عمارت کوئی مسجد نہیں تھی

Share Article

اجودھیا معاملے پر سپریم کورٹ میں بدھ کے روز 14 ویں دن کی سماعت مکمل ہو گئی۔ رام جنم بھومی پنرودھار کمیٹی نے کہا کہ متنازعہ عمارت بنوانے والا کون تھا، اس پر شک ہے۔ میر باقی نام کا بابر کا کوئی سپہ سالار نہیں تھا۔ تین گنبد والی وہ عمارت مسجد نہیں تھی۔ مسجد میں جس طرح کی چیزیں ضروری ہوتی ہیں، وہ اس میں نہیں تھیں۔

کمیٹی کے وکیل پی این ایس مشرا نے سماعت کے آغاز میں بابرنامہ کے کچھ اقتباس پڑھے اور کہا کہ کوئی بھی تاریخی دستویذ ایسا نہیں ہے جو یہ بتاتا ہو کہ متنازعہ ڈھانچہ(بابری مسجد) 520 ء میں تعمیر کیا گیا ہو۔ بابرنامہ میں میر باقی کے بارے میں ذکر نہیں ہے۔ باقی تاشقندی1529 میں اودھ (اجودھیا) سے بابر سے ملنے آیا تھا۔ مشرا نے تین کتابوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئینہ اکبری اورہمایوں نامہ میں بابرکے ذریعہ بابری مسجد بننے کی بات نہیں کہی گئی ہے۔ تزک جہانگیری کتاب میں بھی بابری مسجد کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ہے۔

مشرا نے کہا کہ مندر بابر نے نہیں اورنگ زیب نے توڑا تھا۔ جسٹس بوبڈے نے پوچھا، آپ سے اس کا کیا لینا دینا ہے؟ جائے پیدائش پر آپ کا حق کیسے ہے، یہ واضح کریں۔ مشرا نے کہا کہ میرا دعویٰ ہے کہ اورنگ زیب نے مندر توڑ کرمسجد بنائی تھی۔ اگر عدالت اس دعوے کوتسلیم کرتی ہے تو سنی وقف بورڈ کا دعویٰ مکمل طور پر غلط ثابت ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ کس نے کہا کہ دورے کے دوران ایسے ثبوت نہیں ملے ہیں، جو ثابت کرتے ہیں کہ بابر نے مسجد کی تعمیر نہیں کی ۔

مشرا نے کہا کہ اسلامی حکومت میں تین طرح کی حکومت ہوتی ہیں- دارالاسلام، دارالحرب اور دارالامن۔ مشرا نے بتایا کہ دارالاسلام میں مسلم حکمراں دوسرے مسلم حکمراں سے جنگ کر کے اس کی جائیداد کو جیت سکتے ہیں، لیکن اس کے اسٹیٹس کو تبدیل نہیں کرتا۔ آگرہ، دہلی اور اودھ میں ابراہیم لودھی کی حکومت تھی۔ بابر نے اجودھیا میں گورنر کے ذریعہ راج کیا۔ ہندوستان کو دارالحرب کہا جاتا ہے۔ اس میں دوسرے حکمران سے کہا جاتا تھا کہ یا تو وہ اسلام قبول کرلیں یا دوسرے مذہب کے لوگوں پر جزیہ نافذ کیا جاتا تھا۔ دارالامن میں دوسرے مذہب کے لوگوں سے جنگ نہیں کی جاتی اور ان کو ان کے مذہب پر عمل کرنے دیا جاتا تھا۔

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے مشرا سے مسجد کے سلسلے میں اسلامی قانون کے بنیادی عناصر کو سمجھانے کے لئے کہا۔ مشرا نے کہا کہ موجودہ قانون کے مقابلے میں اسلامی قوانین لبرل ہیں اور حکمرانوں نے قانون کو مسخ کر دیا ہے۔ اسلامک لاء میں لمٹیشن نہیں ہوتا ہے، اسلامک لاء اس کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے پوچھا کہ وہ ریونیو ریکارڈ کہاں ہے جس کے مطابق آپ بڑے پیمانے پر جعل سازی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ مشرا نے کہا کہ یہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں ہے۔ ہم کل اس کو کورٹ میں دیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کو آج ہی رجسٹری میں دیجئے، ہمیں دیکھنا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 27 اگست کو نرموہی اکھاڑے کی جانب سے وکیل سشیل کمار جین نے سیوادار کے دعوے پر تیاراپنے نوٹس کو پڑھتے ہوئے کہا تھا کہ متنازع مقام کے اندرونی صحن میں ایک مندر تھا۔ وہی جنم بھومی کا مندر ہے، وہاں کبھی کوئی مسجد نہیں تھی۔ مسلمانوں کو مندر میں جانے کی اجازت نہیں تھی، وہاں پر ہندو اپنے اپنے عقیدے کے مطابق پوجاکرتے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *