EXCLUSIVE:پرینکا گاندھی کے جنرل سیکریٹری بننے کے بعد بیک فٹ پر مایا- اکھلیش، دیا 14 سیٹوں کاآفر،جانیں کانگریس کی مانگ

Share Article
PG
پرینکا گاندھی کے کانگریس کا چہرہ بنتے ہی ایک سیاسی واقعہ بڑی تیزی سے بدل رہا ہے۔اب تک جومایاوتی اوراکھلیش کانگریس کوگیم سے باہربتارہے تھے وہ بھی تھوڑا پریشان ہیں۔انہیں لگنے لگاہے کہ کانگریس پوری طرح سے کھیل سے باہرنہیں ہوئی ہے، بلکہ پرینکاکے آنے ان کی چمک بڑھ رہی ہے۔پرینکاگاندھی کوکانگریس میں لانے کی مانگ سب سے زیادہ اترپردیش سے ہی ہوئی تھی ۔بتایاجارہاہے کہ یوپی میں ووٹر پرینکاکی طرف متوجہ دکھائی دے رہے ہیں۔خاص طورپر مسلم اوردلت سماج۔ ایک بڑا ووٹ بینک والا برہمن سماج بھی پرینکاکی انٹری سے کا فی پرجوش ہے۔ایسا مانا جارہاہے کہ اس کا سیدھا اثرایس پی اوربی ایس پی کوبھی ہونے والا ہے۔
تمام صورتحال کودیکھتے ہوئے اترپردیش بووا اوربابو کی جوڑی حرکت میں آگئی ہے۔ بتایاجارہاہے کہ دونوں ہی پارٹیوں نے اپنا پلان بی ایکٹیویٹ کردیاہے۔ اب یہ بحث ہونے لگی ہے کہ کانگریس کونظراندازکرکے وہ اپنا بڑا نقصان نہیں اٹھاسکتے ہیں ۔وہ بھی تب جب پرینکاگاندھی کولوک سبھا الیکشن میں ٹرم کارڈ کا اکّابتایاجارہاہے۔
یہی وجہ ہے کہ پرینکاگاندھی کی انٹری کے بعد اترپردیش کی سیاست میں نیاٹویسٹ دیکھنے کومل رہاہے۔ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق ایس پی اوربی ایس پی نے کانگریس سے گٹھ بندھن پرنظرثانی شروع کردیاہے۔ ذرائع کی مانیں تو ایس پی کا ایک بڑا دھڑا جس میں خود ملائم سنگھ یادو بھی ہیں یہ چاہتے ہیں کہ اس گٹھ بندھن میں کانگریس کوشامل کیاجائے۔نہیں توبڑا نقصان اٹھانا پڑسکتاہے۔ذرائع کی مانیں توموجودہ صورتحال کودیکھتے ہوئے ایس پی -بی ایس پی نے نئے سرے سے مہاگٹھ بندھن پرغورکرتے ہوئے کانگریس کو14سیٹوں کا بھی آفر دیاہے۔تووہیں دوسری طرف اپنی صورتحال کوتھوڑی مضبوط دیکھتے ہوئے کانگریس نے بھی اپنے پاشے پھینکنے شروع کردےئے ہیں۔ کانگریس ذرائع کا کہناہے کہ پارٹی نے ایس پی-بی ایس پی سے کم سے کم 30سیٹیں مانگی ہیں۔
غورطلب ہے کہ سماج وادی پارٹی صدر اکھلیش اوربی ایس پی سپریمو مایاوتی نے کانگریس سے کنارہ کرتے ہوئے12جنوری کوآئندہ لوک سبھا الیکشن کیلئے مہاگٹھ بندھن کا اعلان کیاتھا۔آنے والے لوک سبھا الیکشن کیلئے دونوں پارٹیوں کے بیچ 80لوک سبھا سیٹوں میں سے 38-38پرالیکشن لڑنے کا فیصلہ کیاتھا۔کانگریس کیلئے دوسیٹیں چھوڑنے کے اعلان کے ساتھ ہی دونوں نے یہ بھی صاف کردیاتھا کہ وہ کانگریس کے ساتھ کوئی گٹھ بندھن نہیں کریں گے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *