سابق وزیر اعظم چندر شیکھر کی جینتی پر ملائم نے کئی راز کھولے سماجوادیوں کو ایک کرنے کی چاہت

Share Article

پربھات رنجن دین
p-9bسابق وزیر اعظم چندر شیکھر کی جینتی کے ذریعہ سماج وادی پارٹی کے سپریمو ملائم سنگھ یادو نے اپنے کئی ممکنہ سیاسی فائدے حاصل کرنے کے ساتھ ہی اپوزیشن پر بھی کئی نشانے لگائے ۔ ملائم نے کہا کہ انہوں نے کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ کو توڑ کر چندر شیکھر کی سرکار بنوائی تھی۔ ٹوٹنے والے کانگریسی ممبر پارلیمنٹ تھے سنجے سنگھ۔ ابھی کانگریس یو پی اسمبلی انتخاب میں سنجے سنگھ کو ترپ کا پتہ بنا کر استعمال کرنا چاہتی تھی کہ عین موقع پر ملائم نے ان کی وفاداری کو لے کر ایک بار پھر کانگریس قیادت کے من میں کھٹاس پیدا کردی۔ ابھی حال ہی میں سابق مرکزی وزیر ہنس راج بھاردواج نے کہا تھا کہ بد عنوانی کی وجہ سے ملائم کی قیادت والی سماج وادی سرکار کو یو پی اے 1 کے دوران کانگریس برخاست کرنا چاہتی تھی۔ ملائم کے اس بیان کو ہنس راج بھاردواج کے اس بیان سے ہوئی ناراضگی سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے ۔
بہر حال، سماج وادی سپریمو ملائم سنگھ یادو نے کہا کہ چندر شیکھر سے ان کے بہت اچھے تعلقات تھے۔ انہوں نے کانگریسی ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ کو توڑ کر چندر شیکھر کو وزیر اعظم بنایا تھا۔ ملائم نے کہا کہ جب بھی میں چندر شیکھر جی کے پاس جاتا تھا تو وہ مجھے گاڑی تک چھوڑنے آتے تھے۔ ایک بار کچھ لوگ کھڑے تھے تو انہوں نے کہا کہ چندر شیکھر جی آپ کو وزیر اعظم بننا چاہئے۔ اس پر چندر شیکھر کے منہ سے نکلا کہ اگر ملائم سنگھ چاہیں تو میں 10 دن میں حلف لے لوں۔ چندر شیکھر کے اتنا کہنے کے بعد میں سنجیدہ ہوگیا اور کہا کہ غور کروں گا۔ پھر میں نے کانگریس سے سنجے سنگھ کو توڑا۔ اس وقت میں وزیر اعلیٰ تھا، لیکن اس وقت کے وزیر اعظم وی پی سنگھ نے مجھے کبھی وزیر اعلیٰ کی شکل میں دیکھا ہی نہیں۔ دھیرے دھیرے اس وقت کے وزیر اعظم وی پی سنگھ سے لوگوں کی ناراضگی بڑھتی گئی اور ہم لوگوں نے مخالفت کر کے چندر شیکھر جی کو وزیر اعظم بنا دیا۔ اس کے بعد بات اٹھی کہ کانگریس کو کون توڑے تو میں نے راجیو گاندھی سے مل کر بات کی۔ چندر شیکھر کو سپورٹ کے سوال پر وہ راجیو گاندھی سے ملے۔ راجیو گاندھی نے یہ شرط رکھی کہ کابینہ کتنی بھی بڑی ہو لیکن کمل مرارکا کو وزیر نہ بنایا جائے،لیکن چندر شیکھر نے یہ بات نہیں مانی۔ انہوں نے کمل مرارکا کو وزیر بنایا اور دوستی نبھانے میں وزیر اعظم کی کرسی گنوا دی۔ چندر شیکھر اپنے مخلص ساتھی کی توہین نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔ملائم نے کہا کہ چندر شیکھر معمولی گھر سے نکل کر وزیر اعظم کی کرسی تک پہنچے ہیں۔وہ ہمارے آئیڈیل ہیں۔ ہم لوگوں نے وی پی سنگھ سے مخالفت کرکے انہیں وزیر اعظم بنوایا تھا۔اگر وہ کمل مرارکا کو کابینہ سے ہٹا دیتے تو کانگریس ان سے سپورٹ واپس نہیں لیتی۔
ملائم نے کہا کہ جب سوشلسٹ پارٹی اور پرجا سوشلسٹ پارٹی مل کر متحدہ سوشلسٹ پارٹی بنی تب اس میں کئی گروپ بنے، لیکن تب بھی چندر شیکھر جی نے کوئی گروپ نہیں بنایا۔ ملائم نے چندر شیکھر کو بے مثال لیڈر بتایا۔ ملائم نے اسی بہانے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی پر نشانہ لگایا اور کہا کہ ملک میں دو وزیر اعظم چندر شیکھر اور چودھری چرن سنگھ نے یو پی پر دھیان دیا، جبکہ دلی میں بیٹھے وزیر اعظم مودی کی سرکار من مرضی کرتی ہے۔ سماج وادی پارٹی لیڈروں کا اب الگ تھلگ رہنے سے کام نہیں چلے گا۔ سبھی سماج وادیوں کو اکٹھا ہونا پڑے گا۔ مودی کے خلاف بولتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنارس میں ابھی تک کیا کام ہوا ہے؟کتنے گھاٹ سنور گئے ہیں؟ وزیر اعظم مودی ٹوائلٹ کی بات کرتے ہیں، جبکہ ہم نے 1989 میں ہی ٹوائلٹ بنوانے شروع کر دیئے تھے۔ ملائم نے اتر پردیش کو سنوارنے کے لئے چندر شیکھر اور چودھری چرن سنگھ کے تئیں اپنا شکریہ ادا کیا ۔ملائم نے یہاں تک کہا کہ سماج وادی پارٹی سابق وزیر اعظم چندر شیکھر کو اپنا آئیڈیل لیڈر کے طور پر مانتے ہیں۔ ملائم نے اس موقع پر جنتا دل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جنتا پریوار بننے کے دوران سب نے پارٹی چیف کے طور پر اتفاق رائے سے ان کے نام کا اعلان کیا۔ پارٹی میں سبھی لیڈروں کا برابر مرتبہ ہے۔ لہٰذا سب کی رائے لینے کے بعد پارٹی میں کوئی فیصلہ لیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ سب کو لے کر آگے چلنا ہے،تبھی کامیابی ملے گی۔
چندر شیکھر جینتی کے موقع پر سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر شیو پال سنگھ نے الگ ہی لائن لی۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم چندر شیکھر کے ساتھ سابق صدر آنجہانی رادھا کرشنن کا بھی نام لیااور کہا کہ دونوں ہمارے قومی میراث ہیں۔شیو پال نے یہ بھی کہا کہ ہمارے لئے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کا نہیں بلکہ آنجہانی رادھا کرشنن کا ہندوتوا آئیڈیل ہے۔ شیو پال سنگھ نے کہا کہ چندر شیکھر نے ہمیشہ ماس اسٹرگل کی قیادت کی۔ انہوں نے اچاریہ نریندر دیو سے سماج واد کی سمت لی اور پوری زندگی سماج واد اور جمہوریت کو مضبوط کرتے رہے۔ وہ بنیادی طور پر ہر طرح کی ناانصافی، بد عنوانی اور غیر برابری کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے ایوان میں سپورٹرس اور اپوزیشنوں سے ہٹ کر ایک غیر جانبدار روایت کی بنیاد ڈالی اور پوری ایمانداری سے اسے آگے بڑھایا ، وہ ہمیشہ لوہیا کی سودیشی نظریہ کو آگے بڑھاتے رہے۔وہ نہ صرف ہندوستانی بلکہ بی پی کوئرالہ اور شیلجا اچاریہ جیسے نیپال کے سماج وادیوں سے بھی ان کے اچھے اور میٹھے تعلقات رہے۔ اپنی وزارت عظمی کے دور میں انہوں نے خلیجی جنگ کے دوران بیلنس آف پےمٹ کے بحران سے گزر رہی ہندوستانی معیشت کو سنبھالا ۔ آج چندر شیکھر جیسے لیڈروں کی ملک کو بہت ضرورت ہے ۔ اس کے پہلے شیو پال سنگھ یادو نے ملک کے سابق صدر ڈاکٹر رادھا کرشنن کی برسی پر شردھانجلی کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دانشوروں کو رادھا کرشنن سے ترغیب لینی چاہئے کہ کس طرح اپنے علم کا استعمال ملک اور سماج کے فائدے اور بگاڑ کو دور کرنے کے لئے کیا جائے۔ رادھا کرشنن کا ہندوتوا سبھی کو سماجی ہم آہنگی کے دھاگے سے باندھتا ہے جو ہمیں کبیر اور سوامی ویویکا نند کے قریب لاتا ہے۔
چندر شیکھر جینتی کے موقع پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے ان کی 89ویں جینتی کے موقع پر 17اپریل کو سرکاری چھٹی کا اعلان کیا۔ سماج وادی پارٹی کے دفتر میں منعقد پروگرام میں سابق وزیر اعظم چندر شیکھر کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریروں پر سینئر صحافی سریش بہادر سنگھ کے ذریعہ مرتب ’ اسپیچز ان پارلیمنٹ ‘ کتاب کا ملائم سنگھ، اکھلیش یادو، شیو پال یادو، بھگوتی سنگھ جیسے سینئر لیڈروں کے ہاتھوں اجرا بھی ہوا۔ پروگرام میں کابینہ کے وزیر اروند سنگھ گوپ، راجا بھیا، راجندر چودھری، اسمبلی اسپیکر ماتا پرساد پانڈے، سینئر وزیر احمد حسن، بلونت سنگھ رامو والیا، بلرام یادو، اوم پرکاش سنگھ، ڈاکٹر مدھو گپتا، امبیکا چودھری، اریدمن سنگھ، رام گووند چودھری، نارد رائے، سابق وزیر اعظم چندر شیکھر کے صاحبزادے و ممبر پارلیمنٹ نیرج شیکھر، ایس آر ایس یادو، یوگیش پرتاپ سنگھ، راج کیشور سنگھ، رام آسرے وشو کرما، ڈاکٹر اشوک باجپئی، ارچنا راٹھور، مینکیشور شرن سنگھ، سنگھ لال، مانجھی، پردیپ تیواری، برجیش یادو، گیتا سنگھ، ڈاکٹر راج پال کیشوپ، کلدیپ سنگھ سینگر، سروجنی اگروال، جاوید عابدی، مولچندر چوہان، سنیل یادو سمیت کئی لیڈر موجود تھے۔ پروگرام کی صدارت بھاگوتی سنگھ نے کی اور کنوینر لیجسلیٹیو اسمبلی ممبر یشونت سنگھ تھے ۔ اس موقع پر سینئر صحافی دھریندر شریواستو کے ذریعہ ایڈیٹیڈ کتاب ’راج پُرش چندر شیکھر‘ کا بھی سماج وادی پارٹی سپریمو ملائم سنگھ یادو نے اجرا کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *