یورپی یونین کی اعلیٰ عدالت نے گزشتہ روز وینزویلا کی اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ برسلز کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کو ختم کیا جائے۔ یہ پابندیاں ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال خراب ہونے کے سبب عائد کی گئیں۔ واضح رہے کہ دو برس سے زیادہ عرصے سے جاری سنگین سیاسی بحران نے پہلے ہی وینزویلا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔یورپی یونین کی دوسری بڑی عدالتی اتھارٹی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وینزویلا کے صدر نکولس میڈورو کی حکومت کے وکلاء کی جانب سے یورپی یونین کی عائد کردہ پابندیوں کو منسوخ کرانے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔ان پابندیوں کے تحت یورپی کمپنیاں متعین مصنوعات وینزوئیلا برآمد نہیں کر سکتیں۔
عدالت کے مطابق اس بات کے پیش نظر کہ پابندیوں میں وینزویلا کو براہ راست ہدف نہیں بنایا گیا ہے لہذا کراکس حکومت کی جانب سے ان کے خلاف اپیل قانونی طور پر قابل قبول نہیں۔نومبر 2017 میں یورپی یونین نے وینزوئیلا کو ایسے ہتھیاروں اور ساز و سامان کی برآمد پر پابندی کے لیے اقدامات نافذ کیے جو وہاں صدر میڈورو کے خلاف احتجاجی مظاہرین کو خاموش کرانے کے واسطے استعمال کیے جا سکتے تھے۔اس کے بعد سے یورپی یونین نے وینزویلا کی حکومت کی 18 اعلی شخصیات پر سفری پابندی عائد کر دی اور ان کے اثاثے بھی منجمد کر دینے کا اعلان کیا۔ اس کے باوجود امریکہ کی جانب سے یورپ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ وینزویلا کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here