یوروپ میں آزادی،اخوت ومساوات کے خاتمے کی شروعات

Share Article

وسیم راشد

جمہوری اقدار اسی معاشرے میں تقویت پاتےہیں جہاں لوگ اپنے معاشرے کو پورے چہر ے کے ساتھ دیکھنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ یہ وہ انسانی اقدار ہیں، جن کی بدولت آج بھی اور ماضی میں بھی فرانس کی یکجہتی ، اس کی انفرادیت اور اس کی عظمت قائم رہی ہے۔‘‘
یہ وہ بیان ہے جو فرانس کی وزیر انصاف میشیل الیوماری نے برقع کی شدید مخالفت کر تے ہوئے دیا اور آخر کار وہ قانون جس کی قرارداد مئی 2010میں منظور کی گئی تھی وہ فرانس کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے بھاری اکثریت سے پاس کردیا۔ اس قانون کے تحت ایسی مسلمان عورتوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے جو پورے نقاب والا برقع پہن کر گھر سے باہر نکلتی ہیں۔ فرانس میں پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یا قومی اسمبلی کے ارکان کی تعداد557ہے ۔ان میں سے ایوان میں موجود 335ارکان نے اس بل کے حق میں  ووٹ دیا، جبکہ صرف ایک ووٹ اس کی مخالفت میں ڈالا گیا۔200سے زائد اراکین اسمبلی ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ اس میں سے بیشتر اراکین اپوزیشن سوشلسٹ پارٹی کے ہیں جو اس بل کی مخالفت کررہے تھے۔ اس سے قبل اپریل میں بیلجیم کی پارلیمان کے ایوان زیریں نے بھی مسلم خواتین کے پورے چہرے کے نقاب پر پابندی عائد کرنے کے بل کی منظوری دی تھی اور وہاں بھی 138ارکان میں سے کسی نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی تھی۔ اسی طرح اسپین میں بھی اکثریت سے اس بل کو منظوری دے دی گئی ہے۔ یعنی یوروپ کے بیشتر ممالک اب اس بات کے لئے سرگرداں ہیں کہ پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں بھی برقع پر پابندی کا بل پاس ہوجائے اور اس طرح الگ الگ ممالک میں برقع اوڑھنے پر جرمانہ بھی لگایا جائے ۔ بہر حال جو ہونا تھا وہ ہوچکا۔ اس بل کے بعد پوری دنیا میں جیسے حمایت ومخالفت کا ایکطوفان سا آگیا ہے۔ ظاہر ہے مسلم ممالک اس کی مخالفت کررہے ہیں اور یوروپی ممالک اس کی حمایت۔ ہماری اس کے بارے میں کیا رائے ہے وہ تو بعد میں بتائیں گے ، پہلے خود ان ممالک میں کس طرح کا رد عمل سامنے آیاہے یہ دیکھنا ضروری ہے۔  یوروپ کے کچھ ممالک میں ان ہی کے لوگ اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں، جن میں یوروپی مسلم تنظیم اور مسلم ایگزیکٹیو آف بیلجیم نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس پابندی کے نتیجے میں جو خواتین برقع پہن کرنکل سکتی تھیں ، ان کی آزادی ختم ہوجائے گی اور وہ گھروں میں قید ہوکر رہ جائیں گی۔ مسلم ایگزیکٹیو آف بیلجیم کی نائب صدر ازابیل پرائلی کی کہنا ہے کہ اس قانون سے ایک خطرنا ک روایت قائم ہوسکتی ہے، جس سے باقی مذاہب کی علامات جیسے سکھوں کی پگڑی کے خلاف بھی قانون بننے کی گنجائش پیدا ہو جائے گی۔
برسلز میں اسلامک اسکالر مائیکل پریووٹ اس طرح کے قانون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے نفاذ کے بعد بیلجیم اسپین اور فرانس وغیرہ بھی عرب اور ایران جیسے ممالک کی صف میں شامل ہوجائے گا۔ جہاں عوامی مقامات پر جانے کے لئے لوگوں کے مخصوص ڈریس کوڈ ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تینوں ممالک اس قانون کے حق میں انسانی وقار کی حفاظت یا خواتین کو آزادی دینے جیسے دلائل دے کر ایک غلط چیز کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ درحقیقت اس قانون سے شہریوں کی آزادیاں سلب ہورہی ہیں۔
ابراہم ہوپر واشنگٹن میں قائم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے ترجمان ہیں ان کا کہنا ہے کہ فرانس کی پارلیمنٹ میں ان عورتوں کے خلاف یہ بل نہیں ہے جو برقعہ پہنتی ہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ایک نئے قسم کا قانون ہے، جس میں اکثریت کے تعصبات کی بنیاد پر اقلیت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہمارے مذہبی حقوق اکثریتی ووٹ کے محتاج نہیں ہونے چاہئیں۔
جان ڈلہیوسن ایمنسٹی انٹرنیشنل سے وابسطہ ہیں اور یوروپ میں امتیازی سلوک سے متعلق امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پورے چہرے کو ڈھکنے والے نقاب پر پابندی سے عورتوں کے حقوق پر مزید پابندیاں لگنے کا خدشہ ہے اور وہ گھر میں قید ہو کر رہ جائیں گی۔ اس طرح انہیں جو خدمات اشیاء اور امدادی سہولتیں حاصل ہیں ان تک رسائی ختم ہو جائے گی۔
ہندوستان اور پاکستان میں برقعہ پر پابندی کو لے کر ایک عجیب طرح کی بے چینی طاری ہو گئی ہے ۔ ہندوستان میں دیو بند ہی وہ واحد ادارہ ہے جہاں کے علماء کی عوام کے دل میں عزت ہے۔ یہاں کے علماء نے برقعہ پر پابندی لگائے جانے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ یہاں کے علماء کی متفقہ رائے یہ ہے کہ یہ پابندی مذہبی آزادی، انسانی رواداری اور اقوام عالم کو جو حقوق حاصل ہیں ان کے منافی ہے۔تنظیم علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید احمد حضرت مسعودی نے کہا کہ فرانس کا یہ فیصلہ نہ صرف اسلامی شعار کے خلاف ہے بلکہ انسانی قدروں کے بھی خلاف ہے۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مولانا محمد اسلام قاسمی کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہے کہ پابندی برقعہ پر لگائی گئی ہے یا حجاب پر ۔مفتی ارشد فاروقی کا کہنا ہے کہ فرانس اعلیٰ ترقیاتی منازل طے کرنے کے باوجود نظام حجاب کو اور پردہ کی حکمت کو نہیں سمجھ پایا۔ یہاں کے علماء کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ وہ ممالک ہیں جو آزادی، حقوق انسانی اورمساوات کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں۔ ان تمام حمایتوںاور مخالفتوں کے درمیان اب ہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ کسی بھی ملک کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے شہر یوں کے لئے جو بھی چاہے قانون بنائے اور جس طرح چاہے ان کے حقوق کی حفاظت کرے۔ ان ممالک میں حقوق و فرائض کو طے کرنا صرف اور صرف حکومت کا کام ہے اور وہاں پر بسنے والے شہریوں پر یہ فرض ہے کہ وہ ان قوانین پر عمل کریں، کیونکہ ملک یا قوم سے غداری یا مخالفت کرنے کا کسی بھی مذہب میں درس نہیں دیا جاتا۔ ہر مذہب اسی بات کو مانتا ہے کہ اپنے ملک کے قوانین کا احترام کرو اور مذہب اسلام میں بھی ملک و قوم سے وفاداری کا درس دیا جاتا ہے۔ اس لئے ہمارے وہ مسلم بہن بھائی جو ان یوروپی ممالک میں آبادہیں اور ان ممالک کی تعلیمی ،سماجی،تہذیبی،معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کو ان ممالک کے قوانین کا احترام کرنا بھی لازمی ہو جاتا ہے۔اب اگر ان ممالک میں برقعہ پر پابندی عائدکر دی جاتی ہے اور وہ بھی اکثریت سے، تو ظاہر ہے یہاں پر مقیم مسلمانوں کو ان خواتین کا احترام کرتے ہوئے ان کو ماننا ضروری ہے۔ مگر یہاں ہم صرف یوروپ اور امریکہ سے ایک سوال کرنا چاہتے ہیں کہ کیا اب یہ ممالک اپنے اصول بدلنے جا رہے ہیں؟ وہ یوروپ وہ امریکہ جو آزادی ٔرائے برابری اور مساوات کا دعویٰ کرتا تھا اور ان ممالک کی ترقی پسندانہ سوچ کی وجہ سے دوسرے ممالک کے لوگ یوروپ و امریکہ جا کر بسنے کا خواب دیکھتے تھے اور جب ان ممالک میں جا کر رہنا بسنا وہاں کی شہریت حاصل کرنا غیر قانونی تھا تب بھی لوگ وہاں غیر قانونی طریقوں سے جا کر چوری چھپے بس جاتے تھے۔ اب جب یہ ممالک برقعہ پر پابندی لگاتے ہیں تو کیا یہ مان لیاجائے کہ یہ یوروپ میں تبدیلی کے آثار ہیں، اس کا مطلب پورا یوروپ جس آزادی، مساوات اور حقوق انسانی کے تحفظ کے لیے جانا جاتا تھا اور وہ قانونی طور پر یہ آزادی فراہم کرتا تھا تو وہ سب کچھ چھیننے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہم خود ہندوستانی جمہوریہ میں رہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں تو لا تعداد مذاہب کے ماننے والے ہیں، سب کی اپنی شناخت ہے۔ سب اپنے مذاہب کے لباس زیب تن کرتے ہیں اور ہم تو یہ بھی مانتے ہیں کہ جمہوریت میں سدھار کی بھی گنجائش ہے تو اگر کچھ لوگ یا گروہ یا کوئی بڑا طبقہ کوئی گڑ بڑ کرتا ہے یا پھر دہشت گردی میں کچھ خاص گروپ ملوث ہوتے ہیں تو یہ کہاں کا انصاف ہے کہ وہ مسلمان ہوں، ہندو ہوں، زرتشت ہوں یا عیسائی، ان سب کے خلاف ہی قانون بنا دیا جائے۔ یوروپ کے ذریعہ فراہم کردہ یہ وہ آزادی ہے، جس کے لیے یوروپ کے لوگوں نے اپنی جانیں 00قربان کی ہیں۔ جمہوری اقدار، جمہوری قوانین کے لیے تو آج بھی وہ ممالک جہاں جمہوریت نہیں ہے، وہ فرانس یا یوروپ کے دیگر ممالک کو رشک آمیز نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ فرانس کو اگر اپنا 18ویں صدی کا انقلاب یاد ہو تو یہ وہ نشاۃ ثانیہ تھا جس کے تحت فرانس کے مفکرین اور ادیبوں نے تہذیب و اخلاقیات، تعلیم، حقوق انسانی، مساوات، آزادیٔ رائے پرلاگ لپیٹ کے بغیر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کیا۔
Liberty of choicesفرانس کے انقلاب کی اہم دین تھی، اسی طرح آزادی، مساوات اور بھائی چارہ یہ سب وہ محرکات تھے، جن کے لیے آج بھی فرانس کا انقلاب اہم مانا جاتا ہے، جس نے پورے یوروپ کو وہاں کے طرز زندگی، وہاں کے معاشرے کو یکسر بدلنے کا کام کیا اور وہ روشنی دی جس کی وجہ سے آج بھی ان ممالک کی روشن خیالی کی وجہ سے دنیاان کو سراہتی ہے۔ ایسے میں بس ہم یہی سوال کرتے ہیں کہ جب یوروپ میں کچھ بھی پہنو کچھ بھی کرو کوئی دیکھنے سننے اور ٹوکنے والا نہیں ہے۔ جب وہاں کی نوجوان نسل ہر طرح آزاد ہے کہ وہ چاہے تو کچھ بھی پہنے نہ پہنے کم پہنے زیادہ پہنے، جب یوروپ کے ساحلوں پر برہنہ لوگ گھومتے پھرتے ہیں تو پھر ان ممالک میں بسنے والے سبھی مذہب فرقہ کے لوگوں کو پہننے اوڑھنے اور اپنے مذہبی عقائد پر چلنے کی آزادی ہونی چاہئے۔ قرآن میں تو مردوں تک کے لیے پردہ آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور عورتوں کے لیے بھی پردہ سے متعلق کافی احکامات ہیں۔ اب اگر ان ممالک میں بسنے والی مسلم خواتین کو یہ آزادی حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے جسم کو ڈھک سکیں تو پھر یقینا یوروپی ممالک کو اپنا سیکولر کردار، حق و انصاف، مساوات پر مبنی قوانین، رنگ و نسل کی بنیاد پر تفریق نہ کرنا، بھائی چارہ وغیرہ سبھی قوانین پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ حالانکہ امریکہ نے حجاب پر پابندی لگانے کے فرانسیسی فیصلے کی مخالفت کردی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلی نے کہا کہ ہم اس اقدام کو بہتر تصور نہیں کرتے۔ اس طرح کے قوانین بنانے کی ضرورت نہیں، جس میں کچھ لوگوں پر کچھ پہننے یا نہ پہننے کی پابندی ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی آئین نے شہریوں کو ان کے مذاہب کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی فراہم کی ہے ا ور اس حوالے سے امریکہ کوئی قانون نہیں بنائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی حکومت تمام مذاہب کے ماننے والوں کا احترام کرتی ہے۔ امریکہ کا یہ رد عمل قابل ستائش ہے، کیوںکہ بیرونی ممالک میں برطانیہ اور امریکہ میں سب سے زیادہ مسلمان بستے ہیں، اگر یہ ممالک اپنی مذہبی رواداری، حق مساوات اور آزادیٔ رائے کی آزادی دیتے ہیں تو یوروپ کے دوسرے ممالک کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے، جس سے کہ ان پر باقی ممالک کے عوام بھروسہ کرسکیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *